صحافتی ورکرکا لیڈر

صحافتی ورکرکا لیڈر
صحافتی ورکرکا لیڈر

  



صحافت ایسا موضوع ہے جس پرہزاروں کتابیں دنیا بھرمیں لکھی جا چکی ہیں لیکن اس شعبہ سے وابستہ افراد کی مشکلات اورمسائل پربہت کم لکھا اوربولاجاتاہے۔پاکستان میں 80 فیصد صحافتی اداروں کے مالکان بزنسمین ہیں جس وجہ سے انکو ٹارگٹ کرنا ریاستی اداروں کے لیے آسان ہدف ہے جسکا خمیازہ ورکنگ جرنلسٹ کوبھگتنا پڑ رہا ہے،پہلیصحافتی تنظمیں ورکرز کے حقوق کے ساتھ ساتھ اداروں کے مسائل پرحکومت سے ٹکرلیتی تھیں پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی جنگ صحافتی تنظیموں نیلڑی اورآج بھی لڑ رہی ہیں،اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں، صحافتی یونینز کو کمزور کرنے کے لیے پہلے انکو کئی گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور اب مالکان کے ساتھ ملکر صحافیوں کے معاشی قتل عام پر دھڑلے سے کام جاری ہے، پاکستان میں کم و پیش پچھلے 14 ماہ میں بارہ ہزار ورکرز بے روزگار ہوچکے ہیں، کئی ہزار ورکرز کی تنخواہوں پر 30 سے 40 فیصد کٹ لگایا گیا ہے، آئے روز کوئی نہ کوئی صحافتی ادارہ ڈاؤن سائزنگ کے نام پرسینکڑوں صحافتی ورکرز پر خودکش حملہ کردیتا ہے جس سے عام صحافیوں کے گھرکے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ہر ظالم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والا اور مظلوموں کی آواز بننے والاصحافی آج معاشی طورپر تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے،ایسے حالات میں صحافتی تنظیم الیکٹرانک میڈیا رپورٹرایسوسی ایشن (ایمرا) کے نوجوان صدر آصف بٹ میدان میں آئے اور صحافتی ورکرزکی طاقتورترین آواز بن گئے،آصف بٹ کی کارناموں اورکامیابیوں کی لمبی لسٹ ہے میں خوش قسمت ہوں کہ میں آصف بٹ کی اس ٹیم کا حصہ رہا ہوں جس نے انکی قیادت میں کئی محاذ سرکیے، صحافیوں کا کیس سپریم کورٹ میں لڑا اور کروڑوں روپے تنخواہوں کی مد میں مالکان سے نکلوا کر ورکرز کو دلوائے، درجنوں نوکری سے نکالے گئے صحافیوں کو نوکریوں پر بحال کروایا، طاقتورصحافتی اداروں کے مالکان کے دفاتراور گھروں کے باہراحتجاج کیا، صحافتی تاریخ میں جسطرح آصف بٹ نے صحافتی سیٹھ کو للکارہ اسکی نظیر نہیں ملتی،عید کے موقع پرسیکڑوں بے روزگار صحافیوں کی مالی مدد کی،جس میں لاہور، اسلام آباد،ملتان کے صحافی بھی شامل ہیں، لاہور پریس کلب میں کنٹین کا کام کروایا اور ایمرا باڈی کی تختی لگا کر تاریخ رقم کی، صحافتی تاریخ کو سب سے بڑا کرکٹ ٹورنامنٹ ہرسال کروانے کی راویت ڈالی، صحافتی ورکرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا، بے روزگار صحافیوں کے بچوں کی سکولز فیس اور کتابیں مہیا کہیں، جن بچوں نے اچھے نمبر لیے انکو 25 ہزار تک نقد انعام اور تعریفی اسناد سے نوازا۔

آصف بٹ صحافتی ورکرز کا وہ لیڈر ہے جو ورکنگ جرنلسٹ کی فلاح وبہبود کے بڑے خواب دیکھتا ہے اور انکو پورا کرنے کے لیے نیک نیتی سے ہمکنار کرتا ہے۔ اب انکا خواب ہے کہ انشااللہ ہم اپنے بے روزگار صحافیوں کی مدد کے لیے (فیز ون) میں ایمرا ویب چینل، ایمرا ویب سائیٹ،روزنامہ ایمرا اخبار، ایمرا ویلفئیر فنڈز کا پروجیکٹ پر تمام پیپر ورک مکمل کر لیا گیا ہے اور فنڈز کا بندوبست بھی کر لیا گیا ہے بہت جلد ان کا افتتاح کردیا جائے گا، (فیزٹو) میں ایمرا سکول، ایمرا ہسپتال کے بڑے پروجیکٹس پر کام جاری ہے،آصف بٹ ورکرزصحافیوں کے لیے ایک تحریک کا نام ہے جبکہ صحافتی مالکان کے لیے منہ زور باغی!اب ایمرا الیکشن 2019،20 میں آصف بٹ کا مقابلہ مالکان کے ٹاوٹوں کے ساتھ ہے فیصلہ ایمرا ممبرز نے کرنا ہے،کیونکہ آصف بٹ کو ایمرا کی ضرورت نہیں ایمرا کو آصف بٹ کی ضرورت ہے،میری درخواست ہے کہ خدمت کا ووٹ آصف بٹ کا ووٹ۔

مزید : رائے /کالم