ہمدم دیرینہ کا ملنا!

ہمدم دیرینہ کا ملنا!
ہمدم دیرینہ کا ملنا!

  



شاعر نے کہا ”اے دوست کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا“ جس خوشی کا ذکر ہے، اس کا علم تو اس وقت ہوتا ہے جب تن پر گذرے۔جمعتہ المبارک کو بادشاہی مسجد کے اندرونی صحن میں بڑی رونق تھی، متعدد جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر نئی زندگی شروع کرنے کے لئے مسجد ہی کو مرکز بنا رہے ہیں تو اس روز یہاں بھی درجنوں موجود تھے۔انہی میں ہم لوگ بھی شامل تھے کہ برخوردار حسیب ملک جو ہمارے صاحبزادہ عاصم چودھری کے برادر نسبتی ہیں،کا نکاح تھا، بادشاہی مسجد کے خطیب عبدالخبیر آزاد تو تھے،ڈائریکٹر جنرل اوقاب پنجاب برادرم طاہر بخاری بھی تشریف لا چکے تھے، اسی محفل کی رونق ہمارے محترم چیف ایڈیٹر محترم مجیب الرحمن شامی کی شمولیت سے بڑھ گئی تھی، ان کے ساتھ ہی برادرم اظہر زمان بھی آئے تھے کہ ہمارے بہت ہی دیرینہ بھائیوں جیسے دوست ہیں، یوں یہ رسم نکاح ادا ہوئی۔ دلچسپی کی یہ بات بھی ہے کہ دلہا اور دلہن دونوں امریکی شہریت کے بھی حامل ہیں، دونوں خاندانوں نے اپنے آبائی ملک ہی کو ترجیح دی اور نکاح کے لئے طویل سفر کر کے لاہور پہنچے تھے۔

یہ ذکر اِس لئے کر دیا کہ تقریب بہر ملاقات کا اندازہ ہو جائے ورنہ پہلے بات کو ہمدم دیرینہ کے ملنے والی تھی۔ میری مصروفیت زیادہ یوں تھی کہ عبدالخبیر آزاد اور طاہر بخاری کے علاوہ محترم مجیب الرحمن شامی بھی میری درخواست پر تشریف لائے تھے۔اگرچہ پہلے دونوں حضرات اس تقریب کے میزبان ہیں،نکاح کے بعد مبارکباد کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک جواں سال اونچا لمبا صحت مند شخص میرے قریب آیا اور مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ”آپ خادم حسین ہیں“ جواب دیا، جی! ہاں یہی میرا نام ہے تو اگلا سوال یہ تھا آپ نے مجھے پہچانا، اعتراف کرنا پڑا کہ ایسا نہیں تھا، حالانکہ مجھے بھی ذرا ذہن پر زور دینا چاہئے تھا۔ بہرحال موصوف نے خود ہی اپنا تعارف سنانا شروع کیا تو ہماری جاء پیدائش کے محلے اور آمنے سامنے گھر کا ذکر ہی کیا تھا کہ ذہن میں زبردست جھماکہ ہوا اور یادوں کے دریچے کھل گئے۔ میرے سامنے میرے کزن (رشتہ اخوت) بریگیڈیئر(ر) شاہد تھے۔فوراً جواب دیا، چھوڑو سب،تم دادو ہو، یہ بریگیڈیئر موصوف کی عرفیت تھی،جو میرے دماغ سے کبھی نہ نکلی، گلے لگے تو سب کچھ یاد آ گیا،بلکہ آنکھیں بھر آئیں کہ شاہد کو مَیں نے دہائیوں کے بعد دیکھا اور ملاتھا وہ تب کیپٹن تھے، جب ان کی شادی ہوئی اور ان دِنوں ان کے والد کی پوسٹنگ لاہور میں تھی اور کینٹ میں رہائش،ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا، اس کے بعد فوجی جوانوں کی طرح ان حضرات کی تعیناتیاں بھی مختلف جگہ ہوتی رہیں اور وہ دور ہوتے چلے گئے۔شاہد کی شادی میں شرکت کی تو بعد میں ان کی والدہ اور والد صاحب کی تدفین میں بھی شامل ہوئے، اس کے بعد سے ملاقات نہ ہو سکی تھی۔ چند سال قبل ہمارے بھانجے عدیل مومن کی دعوتِ ولیمہ پر بھی ایسا ہی اتفاق ہوا کہ ایک جوان سال نے مجھے مخاطب کیا اور تعارف کرایا وہ میجر (ر) کوثر شاہد کے سب سے چھوٹے بھائی تھے (ان کا انتقال ہو گیا، اللہ مغفرت کرے) کوثر سے خوب باتیں ہوئیں۔تاہم ہمارے بہنوئی عبدالمومن اور بہن جمیلہ مومن(مرحومہ) سے ان حضرات کی ملاقات ہو جاتی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ شاہد سے یہ اچانک ملاقات یادوں کی بارات تھی،جو نکاح کے موقع پر چلی آئی۔ اب مَیں قارئین کے ساتھ وہ حقیقت شیئر کرنا چاہتا ہوں جو اس تحریر کا باعث ہے کہ شاہد سے ملاقات کے بعد مَیں نے اپنے صاحبزادے سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا ”عاصم یہ میری پھوپھو کے بیٹے ہیں“ عاصم کو حیرت بھی ہوئی کہ اس کی ملاقات نہیں تھی،لیکن یہ حقیقت اسے نہیں معلوم تھی کہ ماضی کے دور میں حقیقی اور خون کے رشتے تو ہوتے تھے،لیکن منہ بولے اور ہمسائیگی کے رشتے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے تھے۔شاہد کی والدہ ہمارے اکبری منڈی والے گھر کے بالکل سامنے والے گھر کی مکین تھی اور ہمارے والد چودھری احمد الدین(مرحوم) کی منہ بولی بہن تھیں، ہم ان کو اس رشتے سے پھوپھو کہتے اور دونوں کے بچے کزن تھے اور ہمارے درمیان بہت دوستی تھی۔یہ رشتے مرتے دم تک نبھے اور اب جب ہم دونوں آمنے سامنے تھے تو سب کچھ یاد آ رہا تھا۔بہرحال شاہد سے آج حسیب کی بارات پر ملاقات ہوئی تو مزید باتیں ہو ں گی۔

آج یہ تحریر ذرا روزمرہ سے ہٹ کر اور سیاست سے الگ انسانی رشتوں پر ہے۔بہرحال تقریب پر ملاقات کا ذکر بھی لازم ٹھہرا، مَیں نے اپنے صاحبزادے عاصم چودھری کی خواہش پر ان کے نکاح کے لئے محترم طاہر بخاری سے میاں اشفاق انجم کی وساطت سے درخواست کی تو انہوں نے اہتمام کر دیا اور عاصم کا نکاح یہیں ہوا۔ البتہ مولانا عبدالخبیر آزاد موجود نہیں تھے کہ شہر سے باہر تھے، اسی بناء پر حسیب اور ان کے والد عبدالعلی ملک نے بھی یہی خواہش کی اور اہتمام ہوا، اس سے قبل مَیں نے طاہر بخاری صاحب کا تحریر کردہ کالم پڑھا تھا، جس میں انہوں نے اس رجحان کا ذکر کیا کہ مساجد میں نکاح پڑھوانے کی خواہش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو خوش آئند ہے اس سے مذہبی رجحان میں اضافہ ہوتا ہے۔ جمعتہ المبارک (15نومبر) کو جب ہم بھی بادشاہی مسجد پہنچے تو یہ بات سچی ثابت ہو گئی، کہ اندرونی صحن میں بہت ہی رونق تھی اور کئی جوڑے اور عزیز و اقربا آئے ہوئے تھے۔سبھی اطمینان سے بیٹھے تھے بادشاہی مسجد کا عملہ ان کی دیکھ بھال کے لئے موجود تھا اور معزز اساتذہ نکاح فارم کی تصحیح کرانے کے لئے پڑتال کر رہے تھے تاکہ نکاح کے وقت کوئی ابہام نہ رہے، اسی محفل میں سینئر صحافی عثمان یوسف بھی موجود تھے،ان کے صاحبزادے کا نکاح بھی ہونا تھا، ہم پر خصوصی عنایت ہوئی۔ حسیب ملک کا نکاح پڑھایا گیا،اس کے بعد مولانا نے دو مراحل میں باقی سب حضرات کے اجتماعی نکاح کرا دیئے، دلہا تشریف فرما تھے، اساتذہ کرام تمام فارم جو دلہن کی رضا مندی کے بعد دستخط شدہ تھے، سامنے رکھے بیٹھے تھے۔چنانچہ مولانا ایک ایک سے پوچھتے اور اقرار کراتے چلے گئے اور پھر خطبہ نکاح مشترکہ پڑھ کر دُعا کرائی یوں مبارک، سلامت کا شور ہوا اور مٹھائی کھلانے کے ساتھ ”بِد کے پیکٹ“ تقسیم کئے گئے۔مجھے شامی صاحب اور اظہر زمان کو بھی یہ سب اچھا لگا،یہ بھی بہتر تھا کہ مسجد کے تقدس کی روشنی میں کھانے پینے کی اشیاء لانا ممنوع ہے۔ یوں تقدس برقرار رہتا ہے۔ شامی صاحب نے واپسی پر بہت ہی خوبصورت اور اچھی خواہش کا اظہار کیا جو درد مندی کی بھی علامت ہے کہ کیا بہتر ہو کہ رخصتی بھی یہیں سے ہو کہ سادگی کے ساتھ ساتھ بچیوں کے والدین کا بوجھ بھی کم ہو، بہرحال مَیں اچھے انتظام اور اس رجحان کی داد دوں گا، اللہ کرے دینی رجحان میں مزید اضافہ ہوا، تاہم مَیں طاہر بخاری اور مولانا عبدالخبیر کی توجہ اپنے پیارے بھائی میاں اشفاق انجم کی اِس بات کی طرف دلاؤں گا کہ مسجد میں نکاح ہوتے ہیں تو مساجد کا تقدس ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا اور یہ جو فوٹو شوٹ ہوتے ہیں،اس کا بھی جائزہ لینا ہو گا۔

مزید : رائے /کالم