پاکستان کو نقصان پاکستانیوں نے پہنچایا

پاکستان کو نقصان پاکستانیوں نے پہنچایا
پاکستان کو نقصان پاکستانیوں نے پہنچایا

  



میرا یہ مضمون پاکستانیوں کو سنجیدگی سے سوچنے پر ضرور مجبور کرے گا۔پاکستان کی تخلیق میں دو لیڈروں کا نام سرفہرست ہے۔ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ……جب سے بنگلہ دیش بنا ہے، ہماری موجودہ نسل کو معلوم ہی نہیں ہے کہ کُل ہند مسلم لیگ بنانے اور برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کا خیال مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کے مسلمان لیڈروں نے پیش کیا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا نظریہ پیش نہیں کیا تھا، بلکہ مسلم اکثریت والے صوبوں کو آزاد مملکتیں قرار دینے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ 23مارچ 1940ء کی قرارِ داد لاہور میں مسلم ریاستوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ تو پتہ نہیں کہ کس طرح 24 مارچ کو جب قرارداد Formally پیش کی گئی تو لفظ ”مسلم ریاستیں“کی جگہ ”مسلم ریاست“ کر دیا گیا۔ علامہ اقبالؒ جو مسلم اکثریتی صوبوں کی آزادی کے تجویز کنندہ تھے، اُن کا 1938ء میں انتقال ہو چکا،ورنہ اگر وہ 1940ء میں حیات ہوتے تو یقینا لفظ ”ریاستیں اور ریاست“ پر اعتراض اُٹھاتے۔ بنگالی لیڈر یہ شرارت کر نہیں سکتے تھے،حالانکہ قرار دادِ لاہور کو پیش کرنے والے ایک جیدّ بنگالی لیڈر ابو قاسم فضل الحق تھے۔ کہا جاتا ہے اس شرارت میں سر سکندر حیات کا بھی ہاتھ تھا۔ سر سکندر حیات جناح،سکندر سمجھوتے کے بعد مسلم لیگ کے حامی ہو گئے تھے، لیکن اُنہوں نے مسلم لیگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار نہیں کی تھی……بقو ل قائداعظمؒ ”Moth Eaten“ (دیمک زدہ) پاکستان 1947ء میں بن گیا۔ دراصل قائداعظمؒ بھی علامہ اقبالؒ کے نظرئیے کے ہم خیال تھے، لیکن اُن کا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اُن کے ساتھی لیڈروں میں کوئی بھی وژنری نہیں تھا، خان لیاقت علی خان بھی نہیں۔قائداعظمؒ اس قسم کے بٹوارے کے حق میں نہیں تھے۔ پاکستان بننے کے بعد جو لیڈر قائد اعظمؒ کے ہمراہ آئے وہ یا تو قائد اعظمؒ کے سامنے بولنے کی ہمت نہ رکھتے تھے یا اُن کا سیاسی علم اور معیار صوبائی اور ضلعی سطح کا تھا۔ سیاسی لیڈروں کے علاوہ کچھ مذہبی لیڈر بھی پاکستان آگئے۔ مولانا مودودیؒ، مولانا عثمانی، مولانا حامد بدایونی، مولانا تھانوی، مولانا محمد شفیع، عطا اللہ شاہ بخاریؒ وغیرہ۔ اِن سیاسی مولویوں میں سے کچھ نے تقسیم ِ ہند کی مخالفت بھی کی تھی، لیکن پاکستان میں آتے ہی اُنہوں نے پاکستان کو ایک تھیو کریٹکریاست بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ 

پاکستان کے اُس وقت 5 صوبے تھے بشمول مشرقی پاکستان۔ ہر پانچ صوبوں کی اپنی الگ الگ معاشرتی اور مذہبی ترجیحات تھیں،جو ایک دوسرے سے مناسبت نہیں رکھتی تھیں۔ صوبہ سرحد (KPK)، سندھ اور بلوچستان کٹر مذہبی ہونے کے باوجود بہت رواداد اور مذہبی طور پر لبرل تھے۔ اِن صوبوں میں بہت کم ہندو، مسلم فسادات ہوئے۔ مشرقی پاکستان کے لوگ بھی مذہبی تھے، لیکن غیر مسلم آبادی کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول پر قائم تھے۔ صوبہ پنجاب ہی ایک ایسا صوبہ تھا جو تضادات کا مجموعہ تھا۔بہت زیادہ مذہبی نہ ہونے کے باوجود تنگ نظر تھا۔ پنجاب میں ہندو مسلم فسادات تقسیم سے پہلے بھی ہوئے اور تقسیم کے فوراً بعد تو مال و جان کی تباہی کی حد ہی ہو گئی تھی۔ ہندوستانی پنجاب میں پہلے خونریزی ہوئی یا ہمارے ہاں کے پنجاب میں؟ اس کے بارے میں مختلف رائے ہیں، لیکن یہ تو طے ہے کہ پاکستانی پنجاب کے بڑے زمیندار جو ہندوساھوکاروں کے مقروض تھے، وہ ہندوؤں کے ہجرت کر جانے سے فائدے میں رہے،بلکہ اِن مقروض زمینداروں نے فسادات کو ہوا دی۔برصغیر کا وہ حصہ،جو اب پاکستان کہلاتا ہے،اس کی کُل آبادی 1947ء میں 3 کروڑ کے قریب تھی،آج 21 کروڑ ہے۔ آبادی کا یہ بم پاکستان پر 70 سال سے گرتا ہی چلا آرہا ہے۔ ہم جو بھی معاشی ترقی کر رہے تھے، اُسے آبادی کا جِن نگل رہا تھا۔ حکومت نے کم بچوں اور محدود خاندان کی آگاہی کے لئے، جو بھی اقدامات اُٹھائے،اُنہیں ہمارے جاہل اور بے حس عوام نے درخوراعتنانہ سمجھا۔ اُوپر سے ہمارے علماء اور محلہ مسجدوں کے اِماموں نے حکومتی آگاہی مہم کے خلاف زہر افشانی کی۔اس کے بعد جس تیزی سے آبادی بڑھی اُس کے مطابق نہ ہم مناسب تعداد میں سرکاری سکول بنا سکے اور نہ ہسپتال۔ آبادی کا اژدھا ہمارے تمام وسائل نگلتا رہا۔ ہمارے اس پیارے مُلک کو آبادی کا بوجھ مار گیا۔ ہم پاکستانی ہی ذمہ دار ہیں اپنی پسماندگی کے۔دراصل ہم پاکستانیوں کی اکثریت میں جہالت، خوشامد پرستی اور قدامت پسندی کی جبلّت مسلمان فاتحین کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے۔

انگریز حکومت کے آنے سے پہلے مغربی پنجاب اور سندھ میں نہ تو نہری نظام تھا جو مقامی کسانوں کی خوشحالی اور فلاح کا باعث بنتا، نہ ہی منظم سکول سسٹم تھا۔ نہ ہی ترقی یافتہ سماج تھا اور نہ ہی کوئی بنیادی سیاسی نظام تھا، جس میں عوام کی اِخلاقی کردار سازی ہوتی۔ اس علاقے کے عوام کو زندہ رہنے کے لئے بڑے جاگیرداروں کی خوشامد اور Protection کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ سوائے مرکزی پنجاب کے شہری علاقوں کے، پاکستان ایک بھیانک جہالت میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس جہالت کے اثرات ہماری معاشرتی زندگی پر ابھی تک ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کیوں نہیں پنپ سکی؟ گھسے پٹے جواب کو، کہ فوجی حکومتوں کی وجہ سے پاکستان صحیح معنوں میں جمہوری ملک نہیں بن سکا، میَں نہیں مانتا۔ ہمارے خوشامد خورے عوام، ملک کے چند خاندانوں کی جی حضوری کرنے کے عادی ہیں۔ نواز شریف جو 100 فیصد شہری تھے اور صنعتکار تھے،اُن سے اُمید بند ھی تھی کہ ہماری سیاست میں وڈیروں اور جاگیرداروں کا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جس طرح ہمارے دیہی عوام میں شخصیت پرستی موجود ہے، اسی طرح ہمارا شہری ووٹر بھی شخصیت پرستی میں مبتلا ہے۔ آج اگر نواز شریف اپنی جماعت کی قیادت چھوڑ دیں تو تمام شہری ووٹر اِدھر اُدھر بکھر جائیں گے۔اسی طرح عمران خان کا حال ہے۔ وہ منظر سے ہٹ جائیں تو اُن کی پارٹی بھی تتر بتر ہو جائے گی۔ جمہوریت پھر کہاں سے آئے گی؟جب سیاسی نظام میں ہی جمہوریت نہیں ہو گی تو حکومتی نظام بھی غیر جمہوری ہی ہو گا۔ خواہ ہم برائے نام جمہوریت کا لیبل لگا دیں، لیکن یہ نظام Oligarchy کی شکل کا ہی رہے گا۔ عام آدمی خواہ کتنا ہی قابل ہو، وہ کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ ہمارے عوام ہی اُسے قبول نہیں کریں گے۔ اگر پاکستان میں صحیح معنوں میں Affordable جمہوریت نہیں ہے تو یہ خوشامد پرست اور شخصیت پرست پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں ہے۔

ایک اچھی اور قانون کی پاسدار قوم کے لئے روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قطار (Q)میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا اِنتظار کرنے کے لئے کسی رقم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف شہر یت کے شعور (Civic sense) کی ضرورت ہوتی ہے۔ موٹر کار چلاتے وقت، اپنی Lane میں رہنے یا سگنل کی سُرخ لائٹ پر رُکنے کے لئے بھی کسی رقم کی ضرورت نہیں ہوتی، جہاں سگریٹ نوشی ممنوع ہو اور وہاں اس نوٹس کے احترام میں سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنے کے لئے بھی کسی روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل قانون شکنی ہماری جبلّت میں شامل ہو چکی ہے۔ اس کا تعلق تعلیم کے ہونے یا نہ ہونے سے نہیں ہے۔ ہمارے وکلاء حضرات جب قانون کو ہاتھ میں لے کر، مجسٹریٹوں اور ججوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے ہیں تو وہاں جہالت تو نہیں ہوتی۔ دراصل پاکستان کے عوام، خواہ شہری، خواہ دیہی، قانون شکنی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ کراچی کا کچرا مثال ہے شہری لاقانونیت کی۔پاکستانی قوم میں جذباتیت کی شدّت بڑے جرائم کا باعث بنتی ہے۔ ہمارے ہاں قتل کے 50 فیصد سے زیادہ جرائم جذبات کے دباؤ میں آ کر ہوتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل بھی مسلک کے نام پر قتل اور بدلہ لینے کے نام پر قتل جذباتیت سے مغلوب ہو کر کئے جاتے ہیں۔ کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن عملی طورپر ہم غلیظ اور گندگی پسند لوگ ہیں۔ اپنے گھر کا کوڑا گلی میں پھینکنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ جمہوریت کی متضاد چیزوں کو ہم نے اپنا لیا ہے۔ ہڑتالیں، مظاہرے، دھرنے، توڑ پھوڑ اور سرکاری اِملاک کو جلانے میں ہم پاکستانی آگے آگے ہوتے ہیں اور اِسے جمہوریت کا حُسن کہا جاتا ہے۔ بار بار کے ہنگاموں سے ہماری اکانومی کا نقصان ہوتا ہے۔پیداوار کم ہونے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ بیکاری بڑھتی ہے۔ نقصان پاکستان کا ہوتا ہے۔ ہم جبلّتاً ”ٹیکس چور“ ہیں۔ ہر حکومت ٹیکس چوری روکنے کی کوشش کرتی رہی ہے، لیکن ناکام رہی۔ آج سے 30/35 سال قبل ٹیکس چوری کا کالا دھن پاکستان میں ہی گھومتا رہتا تھا۔ اس Process میں کچھ کالا دھن سفید بھی ہو جاتا تھا۔ Cash economy میں بہت سارے کاروبار چلتے رہتے تھے،یوں بے کاری کم ہوتی تھی۔ پیداواری عمل کے جاری رہنے سے Consumer goods کی سپلائی بڑھتی تھی،لہٰذا قیمتیں بھی قابو میں رہتی تھیں، لیکن پچھلی کچھ دھائیوں سے بلیک کا روپیہ بیرون ملک جانے لگا۔ مُلک میں کساد بازاری شروع ہو گئی۔ حکومتوں نے روپے کی کمی کو بیرونی قرضوں سے پوراکیا۔ بیرونی قرضے بیدردی سے استعمال ہوئے۔ پاکستان کی مکمل بربادی کا سامان بیرونی قرضوں کے Non-productive استعمال سے شروع ہوا۔ اگر یہ قرضے کارخانوں اورزراعتی شعبوں میں لگائے جاتے تو آج ہم اِن قرضوں کو واپس کرنے کی پوزیشن میں ہوتے۔افسوس ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کے لئے مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے کر دئیے۔ پاکستان کو بے انتہا نقصان پہنچانے میں ہم پاکستانیوں کا ہی ہاتھ ہے۔

مزید : رائے /کالم