مولانا فضل الرحمن اپنے آپ کو سنبھالیں

مولانا فضل الرحمن اپنے آپ کو سنبھالیں

  



پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے پلان ”بی“ اور پلان ”سی“ سے وہ واقف نہیں ہیں۔انہیں اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا،اور وہ(جانے بغیر) ان کی حمایت بھی نہیں کرتے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ(ق) کے ساتھ مولانا کے مذاکرات میں کیا طے پایا،اس حوالے سے بھی کوئی خبر نہیں ہے۔واضح رہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے دھرنا ختم کرنے کا جو اعلان کیا تھا، وہ حکومت کے ساتھ ”مفاہمت“ کا نتیجہ تھا، اور انہوں نے پلان ”بی”اور ”سی“کی جو بات کی ہے، اس حوالے سے بھی ان سے بات ہو چکی ہے۔مولانا سے پُرامن رہنے کی گذارش کی گئی ہے، جس کا یقین انہوں نے دِلا دیا ہے۔ چودھری صاحب نے ”مفاہمت“ کی مزید کوئی تفصیل بتانے سے انکار کر دیا تھا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ مولانا کا کہنا تھا وہ ”استعفا یا استعفے جیسی کوئی چیز“ لیے بغیر دھرنا ختم نہیں کریں گے، استعفا تو ان کو نہیں ملا،پھر وہ ”استعفا جیسی چیز“ کیا تھی، جس کا انہوں نے تقاضہ کیا تھا، اور کیا وہ ان کو دے دی گئی ہے،تو اس پر چودھری صاحب نے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ”استعفا جیسی چیز“ ان کو مل چکی ہے، لیکن وہ اس بارے میں کچھ بتائیں گے نہیں کہ یہ ”امانت“ ہے، اور وہ اس میں خیانت نہیں کر سکتے۔ چودھری پرویز الٰہی کی اس گفتگو نے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ان کے مذاکرات کے حوالے سے ایک پُراسرار کیفیت پیدا کر دی ہے، مولانا فضل الرحمن پر لازم ہے کہ وہ اس بارے میں قوم کو اعتماد میں لیں اور بتائیں کہ ”استعفا جیسی چیز“ کیا ہے، جو ان کو مل گئی ہے یا جسے ملنے کا ان کو یقین ہے۔اس سے قطع نظر، اب معاملہ یہ ہے کہ مولانا کے کارکن جگہ جگہ قومی شاہراہوں پر دھرنے دے رہے ہیں اور بین الصوبائی ٹریفک ان سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ چودھری پرویز الٰہی کی توقع کے مطابق یہ ”پُرامن“ بھی نہیں رہ پا رہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے تو اس سرگرمی سے اعلان برأیت کر ہی دیا ہے، اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی مولانا کے حق میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے مولانا اور ان کی جماعت اس کی پوری ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں،دونوں بڑی جماعتوں میں سے کوئی ان کے شانہ بشانہ نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمن ایک انتہائی ذمہ دار اور سنجیدہ سیاست دان سمجھے جاتے ہیں۔بعض معاملات میں اپنے حریف ِ اول……عمران خان…… کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے اور سخت ترین الزامات لگانے کے باوجود ان کا یہ تشخص قائم ہے۔عمران خان چونکہ مولاناکے بارے میں انتہائی درشت زبان استعمال کرتے، اور ان پر ذاتی حملوں میں مصروف رہتے ہیں،اس لیے مولانا کے جوابی حملوں سے ان کی شناخت زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔ہر چند کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ممتاز عالم ِ دین کو ردعمل میں بھی توازن نہیں کھونا چاہیے،اور جوابی حملے کرتے ہوئے بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے،لیکن مولانا چونکہ محض ایک عالم ِ دین نہیں ہیں،سیاست کے میدان میں بھی سرگرم ہیں،اس لیے سیاست دان عالم ِ دین پر غالب آ چکا ہے،اس حوالے سے ان کے ”فرمودات“ نظر انداز کئے جا سکتے ہیں۔اس بحث کے علی الرغم مولانا کو ایک قانون پسند شہری سمجھا جاتا ہے، وہ آئین کی بالادستی کے قائل ہیں۔انہوں نے ”طالبانیت“ کے خلاف ڈھال بن کر دکھایا ہے، اور تشدد کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول میں مصروف عناصر کی گو شمالی میں پیش پیش رہے ہیں۔یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا کہ مذہبی حلقے کے پُرجوش نوجوانوں کو انہوں نے قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرنے کے فوائد ذہن نشین کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے، اور ان کی ذات ”جنگجو انقلابیوں“ کی آنکھوں میں کھٹکٹی رہی ہے، لیکن ان کو راستے سے ہٹایا نہیں جا سکا۔جب جبکہ مولانا عمران حکومت کے خلاف برسر میدان ہیں، اور اس کے خاتمے کو اپنا مقصد ِ اولین قرار دے چکے ہیں،گزشتہ ایک سال بستی بستی، شہر شہر گھومے ہیں۔اپنے ”ملین مارچز“ کے ذریعے اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور اپنے کارکنوں کو برسر پیکار لانے میں لگے رہے ہیں،ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ ان کا کوئی قدم قانون کے دائرے سے باہر نہیں نکلے گا۔آزادی مارچ اور دھرنے سے ان کا اور ان کی جماعت کے پُرامن اور منظم ہونے کا جو تاثر اُبھرا ہی نہیں گہرا ہوا ہے،اس کی حفاظت بہر قیمت کی جائے گی۔

مولانا کے ”پلان بی“ میں جگہ جگہ ٹریفک کو (زبردستی) روکا جا رہا ہے، مولانا کااپنا لب و لہجہ بھی آتشیں ہو رہا ہے، اور وہ بعض اوقات ایسے الفاظ استعمال کر گذرتے ہیں جن کی ان سے توقع نہیں کی جاتی…… مولانا سے مودبانہ اور ہمدردانہ گذارش ہو گی کہ وہ احتجاج جو بھی کریں، اپنے کارکنوں کو زبردستی اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہ دیں۔آزادانہ نقل و حرکت ہر شہری کا دستوری حق ہے۔ اس پر پابندی لگانے کی اجازت حکومت کو نہیں دی جا سکتی،تو کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کے کسی جتھے کو یہ چھوٹ کیسے مل سکتی ہے؟ مولانا کو اپنی نیک نامی، اور آزادی مارچ سے حاصل ہونے والی(سیاسی) کمائی کی حفاظت کرنی چاہیے…… طاقت کا نشہ اہل ِ اقتدار کو راس نہیں آتا تو اہل ِ اختلاف کو طاقت کیسے عطا کر سکتا ہے؟مولانا صاحب اپنے آپ کو، اپنی جماعت کو، اور اپنے کارکنوں کو سنبھالیں انہیں حریفوں کاچارہ نہ بننے دیں۔

مزید : رائے /اداریہ