مہنگائی سازش یا……؟

مہنگائی سازش یا……؟

  



وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں مہنگائی کو حکومت کے خلاف سازش قرار دیا اور اراکین سے کہا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ذخیرہ اندوزوں کو تلاش کریں جوکہ سبزیاں ذخیرہ کر کے مہنگائی کر رہے ہیں اور یہ حکومت کے خلاف سازش ہے وزیر اعظم عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں، مہنگائی مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اب تو عوام کی حقیقی چیخیں نکل رہی ہیں، مگر حکومت کے ترجمان اور حکومتی اراکین کو اس کی پرواہ نہیں وہ الزام تراشی کا کام سنبھالے ہوئے ہیں اور اب خود وزیر اعظم نے ایک مختلف بات کہہ دی ہے۔ ہم نے ان سطور میں اکثر پیداوار اور کھپت کی بات کی کہ صرف اسی موازنے سے قیمتوں پر مرتب اثرات کا حقیقی تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور پھر یہی نہیں دوسرے عوامل بھی مہنگائی پر اثر انداز ہوتے ہیں جو یوٹیلیٹی کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے ہیں، حکومت کی طرف سے اگر پٹرولیم گیس اور بجلی کے نرخ بڑھانے کے ساتھ ٹیکس بھی بڑھائے اور لگائے جائیں گے تو اس کا اثر بھی قیمتوں پر آئے گا اور متاثر بالآخر عوام ہی ہوں گے کہ کوئی بھی اپنی جیب سے نہیں دے گا اشیاء مہنگی کر کے ہی وصولی کرے گا، اسی طرح ڈالر کی اڑان اور روپے کی قدر میں کمی نے بھی اپنا رنگ جمایا ہے۔ اب یہ بھی اطلاع ہے کہ حکومت گیس کے نرخوں میں مزید اضافے کے ساتھ بجلی کے نرخوں میں 18پیسے فی یونٹ اضافہ کر رہی ہے۔ اس سے بھی عوام ہی متاثر ہوں گے اور مہنگائی مزید بڑھے گی۔ حکومت یہ سب اقدامات آئی ایم ایف کی ہدایت و شرائط کے مطابق اٹھا رہی ہے، اس سلسلے میں یہ بتانا بھی ضروری ہے۔ 18پیسے فی یونٹ بجلی کے نرخوں میں اضافہ مستقل ہے جبکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر الگ بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ بجلی کے یونٹ کے نرخ پہلے ہی قریباً 22روپے ہیں مزید 18پیسے بڑھانے سے حکومت کو 17ارب روپے اضافی وصول ہونا شروع ہو جائیں گے لیکن عوام تو اور پس کر رہ جائیں گے۔ یہ تو وہ عوامل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس وقت سبزیوں کی جو اڑان ہے وہ واقعی حیرت انگیز ہے کوئی سبزی سو روپے کلو سے کم نہیں ملتی۔ ٹماٹر، ادرک، لہسن اور پیاز کے نرخ تو وبال جان بن گئے ہیں حالانکہ مارکیٹ اصول کے مطابق جب کسی بھی سبزی یا پھل کا سیزن شروع ہو تو مہنگی ہوئی اور پھر بتدریج سستی ہوتی چلی جاتی ہے کہ مارکیٹ میں بہمرسانی زیادہ ہو جاتی ہے اس کی ایک مثال مٹر ہیں جو اب بھی ڈیڑھ سو روپے سے زیادہ قیمت پر ملتے ہیں حالانکہ اب مقامی مٹر بھی دستیاب ہیں اور یہ نرخ 50سے80روپے کے درمیان ہونا چاہئیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کی بات میں وزن محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اس کی ذمہ داری اور اسے درست کرنا بھی تو حکومت ہی کا کام ہے اس لئے گڈ گورننس کے لئے سرکاری اداروں، انتظامیہ اور حکام کو عقل مندی، دیانت اور مسلسل کام کرنا ہو گا عوام کو ریلیف سے غرض ہے ان کو آئی ایم ایف کی شرائط اور دباؤ سے کیا لینا دینا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ