سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کو طبی سہولتوں کے فقدان کا سامنا

سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کو طبی سہولتوں کے فقدان کا سامنا

  



کراچی(رپورٹ۔ اے ایچ خان)صوبہ سندھ کی جیلوں میں مختلف امراض کے مرض میں مبتلا  قیدیوں کی تعداد میں  اضافہ ہونے کا انکشاف،،سینٹرل جیل کراچی میں قید  اپنی سزائیں کاٹنے والے (31)  قیدیوں میں ایڈز کے مرض کی تصدیق ہوئی جن میں سے (24) قیدی سندھ ایڈز پروگرام کے تحت علاج کے مراحل میں ہیں جبکہ (7) مریض قیدی ابھی علاج کے انتظار میں ہیں جیل زرائع کے مطابق سینٹرل جیل حیدر آباد میں (4)قیدیوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی لاڑکانہ جیل میں (4) جبکہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں (18)  قیدیوں میں ایڈز کی تصدیق ہوئی جو تمام علاج کے مراحل میں شامل ہیں جیل ذرائع کے مطابق دادو، جیک آباد، نوشہروزفیروز اور شہید بے نظیرآباد کی جیلوں میں بھی ایڈز کے مریض موجود  ہیں مجموعی طور پر سندھ کی دس جیلوں میں (70)کے قریب ایڈز کے مرض میں مبتلا قیدی ہیں جن میں سے(52) قیدیوں کا علاج معالجہ جاری ہے اور (11) قیدی علاج کے منتظر ہیں، سندھ کی جیلوں میں ایڈز کے بعد ہیپاٹائٹس کے مرض کے مریض قیدیوں کی تعداد شامل ہے جو اس بیماری میں مبتلا ہیں دستیاب ریکارڈ کے مطابق خیرپور جیل میں (34)  قیدی  اورلاڑکانہ جیل میں (25)  قیدی ہپاٹاٹئٹس بی کے مرض میں مبتلا ہے مجموعی طور پر سندھ کی جیلوں میں  (137)  قیدی ہیپاٹائٹس کے موجود ہیں  جبکہ ہیپا ٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد بھی ہیپاٹائٹس بی سے کم نہیں خیرپور جیل میں (70) لاڑکانہ جیل میں (14 )  اور نوشہرفیروز جیل میں  (11)  قیدی ہپاٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا ہیں، ذرائع کے مطابق  ہیپا ٹائٹس  بی اور سی کے مرض میں مبتلا (265) قیدیوں میں سے (31) زیرعلاج ہیں جبکہ  (73)  قیدی علاج کے منتظر ہیں، سندھ کی جیلوں میں ان دونوں امراض کے بعد جلدی بیماریوں کے مریض قیدی موجود ہیں جن میں سے(115) سینٹرل جیل کراچی(700)  ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں موجود ہیں جیل ذرائع کے مطابق سینٹرل جیل کراچی،سکھر، ملیر اور بدین جیل سمیت شکار پور کی جیلوں میں  (833) جلدی امراض میں مبتلا قیدی موجود ہیں جن کا علاج معالجہ جاری ہے۔ جلدی بیماریوں کے بعد ٹی بی کے مرض میں مبتلا قیدی بھی سندھ کی مختلف جیلوں میں قید ہیں مجموعی طور پر(18) قیدی اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ یہ تمام قیدی ٹی بی کنٹرول پروگرام حکومت سندھ کے زیر انتظام  علاج کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔روزنامہ پاکستان نے اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے متعدد بار آئی جی جیل خانہ جات سندھ نصرت منگن سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان کا فون مسلسل بند جارہا تھا۔

مزید : صفحہ آخر