اورنگی ٹاؤن ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا سینٹری ورکر عوام کیلئے وبال جان بن گیا

اورنگی ٹاؤن ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا سینٹری ورکر عوام کیلئے وبال جان بن گیا

  



کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)کراچی اورنگی ڈویژن ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا سینٹری ورکرعلاقے کے عوام کے لیے عذاب بن گیا،غریب عوام کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے بٹورنے لگا،عالم نامی ملازم کو مبینہ طور پر محکمے کے افسران کی حمایت حاصل ہے،جن کی ایما ء  پر وہ لاکھوں روپے ماہانہ بھتہ وصول کرکے ایک بھاری رقم ان افسران کو بھی پہنچاتا ہے۔شہریوں کی جانب سے متعدد شکایت کرنے کے باوجود مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی عمل نہیں آسکی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی کے شکار شہر قائد میں ایک طویل عرصے کے بعد شہریوں سے امن کی بحالی پر سکھ کا سانس لیا تھا اور انہیں مختلف جماعتوں کی جانب سے کی جانے والی بھتہ خوری سے نجات ملی تھی تاہم اب ان جماعتوں کی بجائے سرکاری ملازمین نے بھتہ خوروں کی شکل اختیار کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی اورنگی ٹاؤن ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا ایک معمولی سینٹری ورکر اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں ایک بڑا بھتہ خور بن کر سامنے آیا ہے،جو علاقے کے عوام کو بلیک میل کرکے لاکھوں روپے وصول کررہا ہے۔عالم  نامی مذکورہ سینٹری ورکر خود کے ایم سی کا افسر ظاہر کرتا ہے اور کچی آبادیوں کے ایسے مکانات جہاں تعمیراتی کام ہورہا ہو وہاں پہنچ جاتا ہے اور لوگوں کو کام رکوانے اور دیواریں گرانے کی دھمکیاں دے کر ہزاروں روپے طلب کرتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ عالم کو محکمے کے افسران کے علاوہ علاقے کے جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی بھی حاصل ہے اور وہ بھتے کی مد میں وصول ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ محکمے کے افسران اور جرائم پیشہ عناصر کو پہنچاتا ہے۔ان کچی آبادیوں کے رہائشی افراد نے متعدد بار مذکورہ سینٹری ورکر کی غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے شکایت کی ہے لیکن عالم اتنا بااثر ہے کہ اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے کے تیار نہیں ہے۔اس ضمن میں اورنگی ٹاؤن کے رہائشی متعدد افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عالم نامی سینٹری ورکر ان کے لیے عذاب بن گیا ہے اور مختلف حربے استعمال کرکے غریب لوگوں سے پیسے وصول کرتا ہے۔پولیس نے بھی اس حوالے سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔انہوں نے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام،آئی جی سندھ،کراچی پولیس چیف اور ایس ایس پی ویسٹ سے اپیل کی کہ عالم نامی شخص کی غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Fb5

مزید : صفحہ آخر