فواد چوہدری کی نوازشریف کے بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کی تجویز لیکن کیا حکومت سپریم کورٹ جائے گی یا نہیں؟ بابر اعوان نے دوٹوک اعلان کردیا

فواد چوہدری کی نوازشریف کے بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کی تجویز لیکن ...
فواد چوہدری کی نوازشریف کے بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کی تجویز لیکن کیا حکومت سپریم کورٹ جائے گی یا نہیں؟ بابر اعوان نے دوٹوک اعلان کردیا

  



اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ومصروف قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلہ قبول ہے، حکومت لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کریگی۔شریف خاندان مفرور تھا ان کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے نوازشریف کے معاملہ پر بانڈز کی شرط رکھی۔حکومت نے اپنا اختیار استعمال کیا اور عدالت نے اپنا اختیار استعمال کیا۔

میں نے عمران خان کو کہا تھا کہ آپ انسانی بنیادوں پر نوازشریف کو ریلیف دے کر رسک لیا ہے۔بابر اعوان نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے اختیار کے حق میں سیکورٹی بانڈ مانگا تھا۔یاد رہے کہ  وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فوادحسین نے کہاہے کہ عدالت کے فیصلے پرتبصرہ کرنامناسب نہیں تاہم میری رائے ہے کہ حکومت کوفوری سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کرناچاہئیے،اگر یہ فیصلہ برقرار رہا تو نظام انصاف کو بہت نقصان پہنچے گا۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے حوالے سے فیصلہ آ چکا ہے،کہاجا رہاہے کہ وہ ملک سے باہر جا سکتے ہیں ، اپنی 16 سترہ سال لاءکی پریکٹس میں مجھے کوئی نظیر نہیں ملتی جہاں ایک سزا یافتہ مجرم کو محض اس طرح سے باہر بھیجا جائے،جہاں تک یہ بات ہے کہ وہ واپس آئیں گے ،ہمارے ملک میں اِنہیں کے خاندان کی مثالیں موجود ہیں، اسحاق ڈار کا ریڈ وارنٹ جاری ہو چکا ہے ،وہ ابھی تک ملک کے سینیٹر ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا ،ان کی جائیداد یہاں پر نہیں ہیں، نواز شریف اور ان کے بچوں کی جائیدادیں یہاں پر نہیں ہیں،اِنہیں اِنفورس کی سے کریں گے واپس لانے کے لئے؟عدالت کے فیصلے پرتبصرہ کرنامناسب نہیں جو بھی وہ کہیں وہ ایک قانون ہے اور اس پر عملدرآمد کرنا ہے لیکن اس سے نئی نظیر آئی ہے،کتنے اورقیدی اس نظیرسے فائدہ اٹھاسکتے ہیں یا نہیں؟یہ دیکھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ میری حکومت اور کابینہ میں یہی رائے ہو گی کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں لے کر جانا چاہئے کیونکہ اگر یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو اس سے ہمارے نظام انصاف کو بہت گزند پہنچے گی،لہذا یقینی طور پر سپریم کورٹ میں معاملے کو لے کر جانا چاہئےاور سپریم کورٹ سے اس فیصلے پر حتمی رائےلینی چاہئے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد