نوازشریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک بار باہر جانے کی اجازت دی ، اب واپس نہ آئے تو عدالت کے مجرم ہونگے،شہزاد اکبر

نوازشریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک بار باہر جانے کی اجازت دی ، اب واپس ...
نوازشریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک بار باہر جانے کی اجازت دی ، اب واپس نہ آئے تو عدالت کے مجرم ہونگے،شہزاد اکبر

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ سزایافتہ مجرم کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالاجا سکتا ،خصوصی حالات میں ایک بار ای سی ایل سے نام خارج کیا جا سکتا ہے ،نوازشریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک بار باہر جانے کی اجازت دی ، اب واپس نہ آئے تو عدالت کے مجرم ہونگے

تفصیلات کے مطابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے اٹارنی جنرل انور منصور کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نوازشریف کی صحت سے متعلق سفارشات پیش کیں،سزا یافتہ مجرم کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالاجاسکتا،نوازشریف کا نام انسانی ہمدردی کی بنیادپرایک بار ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دی گئی،مشیر احتساب نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی کاپی ابھی تک موصول نہیں ہوئی،لاہور ہائیکورٹ کا مختصر فیصلہ موصول ہوا ہے،نواز شریف کی صحت سے متعلق میڈیکل بورڈ نے جو کچھ بتایا و ہ سب کے سامنے ہے،کابینہ نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پرنواز شریف کو ریلیف دیا۔

شہزاداکبر نے کہا کہ ماضی کوسامنے رکھتے ہوئے انڈیمنٹی کی شرط رکھنا ضروری تھا،عدالت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کاوقت دیاکہ وہ علاج کرائیں اورواپس آئیں،سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں،لاہورہائیکورٹ نے کابینہ کا4ہفتوں اورایک باربیرون ملک جانے کافیصلہ برقراررکھا۔

مشیر احتسااب شہزاداکبر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف اور شہبازشریف سے بیان حلفی لیا،نواز شریف کے سمدھی اور دو بیٹے مفرور ہیں،لاہور ہائیکورٹ نے انڈیمنٹی بانڈ کی جگہ بیان حلفی رکھ دیا،ہم نے نواز شریف کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے انڈیمنٹی بانڈ کافیصلہ کیاتھا،لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی کابینہ کے صرف ایک فیصلے کو معطل کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف سے انڈیمنٹی بانڈ ریکوری کےلئے نہیں ،سیکیورٹی کےلئے مانگا تھا، اب اگر نوازشریف واپس نہیں آتے تو وہ عدالتوں کے بھی مجرم ہوں گے،علاج ختم ہوتے ہی نوازشریف وطن واپس آئیں گے،نوازشریف صاحب سے کوئی چیز نہیں مانگی گئی تھی ، حکومت کوجوشیورٹی چاہیے تھی وہ بیان حلفی کی شکل میں مل گیا،ماضی میں انھوں نے کتنی بار وعدہ خلافی کی ہمیں یاد ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد