نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلہ، وزیراعظم خود میدان میں آگئے، ہدایات جاری کردیں

نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلہ، وزیراعظم خود میدان میں آگئے، ہدایات جاری ...
نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلہ، وزیراعظم خود میدان میں آگئے، ہدایات جاری کردیں

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ میاں نواز شریف سے متعلق عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے۔

دنیانیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے قانونی ٹیم نے رابطہ کیا ہے اور  قانونی ٹیم کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نواز شریف کے بارے میں عدالت کے فیصلے کے قانونی پہلوؤں پر مشاورت کرکے اس کی رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش کرکے ارکان کو تفصیلی طور پر آگاہ کرے۔

ذرائع کے مطابق فیصلے سے متعلق حکومتی لائحہ عمل کابینہ اجلاس میں طے کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کابینہ ارکان سے رائے لیں گے اور آئندہ کی حکمت عملی طے ہوگی۔ اجلاس میں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یادرہے کہ گزشتہ روز لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی اور مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کی خاطر 4ہفتے کےلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے ای سی ایل سے نام نکالنے کےلئے انڈیمنٹی بانڈ دینے کی شرط کاحکومتی حکم معطل کردیا ،فاضل بنچ نے حکومتی میمورنڈم پر عملدرآمد روکنے کے بارے میں 4صفحات پر مشتمل اپنے تحریری فیصلے میںمیاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے بیانات حلفی کو بنیاد پر نواز شریف کو علاج کی خاطر 4ہفتے کےلئے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے اجازت دی ہے،وہ صحت یابی کے بعد وطن واپس آنے کے پابند ہوں گے۔عدالت نے اپنے عبوری حکم میں پانچ نکات کو فیصلہ طلب قرار دیا ہے جن کا بنیادی رٹ درخواست کی مزید سماعت میں جائزہ لیا جائے گا۔

ان جائزہ طلب نکات میں کہا گیا ہے کہ کیا ای سی ایل رولز میں سزا یافتہ شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نکالنے کا معاملہ شامل ہے؟کیا انڈیمنی بانڈ کی شرط حکومتی میمورنڈم کا حصہ ہے؟کیا حکومت یک طرفہ طور پر کوئی شرط عائد کر سکتی ہے؟ کیا کسی سزا یافتہ لیکن تشویشناک حد تک بیمار شخص کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسا حکم جاری کیا جاسکتا ہے جیسا حکومت نے جاری کیا ہے۔عدالت نے آخری فیصلہ طلب نکتہ کے بارے میں قرار دیا ہے کہ جب سزا معطل ہوچکی ہو یا ضمانت ہو گئی ہو تو کیا ضمانتی بانڈ جیسی شرائط عائد کی جاسکتی ہیں اور یہ کہ کیا ایسی شرائط عدالتی فیصلوں کو مضبوط کرنے کا باعث بن سکتی ہیں؟ ان نکات کاکیس کی آئندہ سماعت پر عدالتی جائزہ لیا جائے گا،دوران سماعت فاضل بنچ نے حلفی بیانات کا مسودہ خود تجویز کیا جس سے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے اتفاق کیا تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے اس بابت تحفظات ظاہر کئے گئے کہ مسودے میں کوئی ضمانت نہیں طلب کی گئی ،فاضل بنچ نے قراردیا کہ عدالت نے قانون کے مطابق فیصلہ دیاہے ،

عدالت نے یہ عبوری حکم میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی اجازت کو ضمانتی بانڈ سے مشروط کرنے کے حکومتی میمورنڈم کو معطل کرنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کیا،فاضل بنچ نے بنیادی رٹ درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی مزید سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی ، عدالت نے یہ بھی قراردیا کہ اس دوران اگر میاں نواز شریف صحت یاب نہ ہوئے تو وہ بیرون ملک قیام میں توسیع کےلئے عدالت سے رجوع کرسکیں گے ، عدالت نے یہ بھی قراردیا کہ میاں نواز شریف کی صحت کاجائزہ لینے کے لئے حکومت اپنا نمائندہ بھیج سکے گی ،اگر عدالت میں پیش کئے گئے حلفی بیانات کی خلاف ورزی کی گئی توتوہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،

اس سے قبل میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی طرف سے یقین دہانی کے مجوزہ مسودے عدالت میں پیش کئے گئے ،وفاقی حکومت کے وکیل نے بھی مجوزہ مسودہ عدالت میں پیش کیا،میاں شہباز شریف کی طرف سے پیش کئے گئے مجوزہ مسودہ میں کہا گیا تھا کہ میں عدالت کو یقین دہانی کرواتاہوں کہ اپنے بھائی میاں محمد نوازشریف کی علاج کے بعد وطن واپسی کے لئے سہولت کاری کروں گاجبکہ میاں نواز شریف کے مجوزہ بیان حلفی میں کہا گیا تھا کہ وہ صحت یابی کے بعد پاکستان آنے کی یقین دہانی کرواتاہوںجبکہ سرکاری وکیل کی طرف سے پیش کئے گئے بیان حلفی کے مجوزہ مسودہ میں میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے لئے وقت مقررکرنے کی بات کی گئی تھی اوریہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کی صحت یابی کے بار میں جاننے کے لئے حکومت میڈیکل بورڈ بھیج سکے گی ،اگر میاں نواز شریف واپس نہیں آتے تو جن مقدمات میں احتساب عدالت سے میاں نواز شریف کو سزاہوچکی ہے ،ان میں جرمانہ کی رقم میاں شہباز شریف اداکریں گے ،

گزشتہ روز فاضل بنچ نے میاں محمد نواز شریف کا غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکلوانے کے لئے دائر میاں شہباز شریف کی درخواست کی سماعت شروع کی تو فاضل بنچ نے فریقین سے کہا کہ اس سے پہلے کہ باقاعدہ سماعت شروع کریںکچھ سوالات تیار کر لیتے ہیں،پہلا یہ کہ کیا حکومت نے میاں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق جوشرائط لگائی گئی ہیں انہیںمیمورنڈم سے الگ کیا جاسکتاہے ؟دوسراکہ کیا کوئی چیز میمورنڈم میں شامل یانکالی جا سکتی ہے؟تیسرایہ کیا میمورنڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟ عدالت نے چوتھا نکتہ اٹھایا کہ کیا انڈیمنٹی بانڈز میں کمی کی جاسکتی ہے اوریہ کہ کیا فریقین نواز شریف کے باہر جانے اورواپس آنے سے متعلق کوئی رعایت کی بات کر سکتے ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد نے کہا کہ نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ علاج کے لئے باہر جانا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن انہیںپہلے عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا،

میاں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ملک نے کہا کہ جو بھی شرائط عائد کی گئی ہیں وہ عدالت کے ذریعے ہونا چاہئیں تھیں،عدالت نے کہا کہ کیاآپ اپنے موکل سے ہدایات لینا چاہتے ہیں؟امجد پرویز نے کہا شہباز شریف کمرہ عدالت میں ہی موجودہیں، جس پرعدالت نے درخواست گزار اور ان کے وکلاءکو مشاورت کا موقع دیتے ہوئے سماعت 15منٹ کے لئے ملتوی کردی۔کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو میاں شہبا زشریف کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے نواز شریف کے خلاف 3 ریفرنس دائر کئے، جب ریفرنس دائر ہوئے نواز شریف پاکستان میں نہیں تھے، احتساب عدالت کے طلب کرنے پر نواز شریف فوری پیش ہوئے اور سرنڈر کیا، نواز شریف ڈیڑھ برس کی کارروائی میں ایک روز بھی عدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے، اس دوران نواز شریف بیرون ملک گئے اور واپس بھی آئے مگر اس وقت تک نام ای سی ایل میں نہیں تھا، نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کو بسترمرگ پرچھوڑ کر اکیلے واپس نہیں آئے بلکہ بیٹی کو بھی ساتھ لائے، نواز شریف قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، نواز شریف کے خلاف سزائیں اپیل میں آخر کار ختم ہو جائیں گی،

جب اپیل عدالت سن رہی ہو تو سرکار کو سزا معطل کرنے کا اختیار ہی نہیں، حکومت عدالت کے معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتی ،نواز شریف یقین دہانی کروانے کو تیار ہیں کہ جب بھی صحت مند ہوں گے واپس آئیں گے، عدالت نے کہا کہ اس سلسلے میں بیان حلفی کی صورت میں تحریری یقین دہانی کی زبان اور واپسی کاطریقہ کار کیا ہوگا ؟ امجدپرویز نے کہا کہ ہم عدالتی کارروائی کا سامنا کریں گے، ڈاکٹرز کی سفارش پر نواز شریف کو بیرون ملک بھجوایا جانا ہے، عدالت نے میاں شہباز شریف سے پوچھا کہ نوازشریف کو واپس لانے کے لئے آپ کا کیا کردار ہو گا؟شہباز شریف نے کہا کہ انشا اللہ نواز شریف جب صحت مند ہوں گے ایک منٹ میں واپس آئیں گے، عدالت نے پوچھا آپ کا کیا کردار ہو گا ان کو واپس لانے کے لئے ؟شہباز شریف نے کہا میں ان کے ساتھ جارہاہوں ،وہ صحت یاب ہوتے ہی واپس آئیں گے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ انہیں ابھی اطلاع ملی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس اور نیب کی فلیگ شپ ریفرنس میں اپیلوں کی سماعت کے لئے 25نومبر کی تاریخ مقررکردی ہے ،

اس موقع پر میاں نواز شریف کا عدالت میں موجود ہونا ضروری ہوگا،سرکاری وکیل نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ رقم نہیں ہے ،حکومت ضمانت کے طور پر رقم نہیں مانگ رہی بلکہ ایک تحریری بیان مانگ رہی ہے جس کی قانون اجازت دیتاہے ،عدالت نے کہا کہ شرائط مقررکرنے کی قانون بادی النظر میں اجازت نہیں دیتا،ہم فریقین کی رضا مندی سے معاملہ حل کروانا چاہتے ہیں، دو تین دن سے مفاہمت کی فضا بن رہی ہے آپ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں ،عدالت سے سرکاری وکیل سے کہا کہ نیب نے انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے حکومت کو اپنی رضامندی نہیں دی،عدالت نے میاں شہباز شریف کے وکیل سے کہا کہ کیا آپ میاں نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے تحریری بیان حلفی دینا چاہتے ہیں؟وکیل نے کہا ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں جس پر عدالت نے کہا کہ یہ انڈر ٹیکنگ 3 بار کے وزیراعظم نوازشریف اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی طرف سے ہو گی، عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ یہ جو بیان حلفی دینا چاہ رہے ہیں آپ بھی دیکھ لیں،

عدالت نے میاں شہباز شریف کے وکیل سے کہا کہ ہمیں یقین دہانی کے بیان حلفی کاڈرافٹ بنا کر دیں ہم اس کی تحریر کو دیکھ لیں گے ،درخواست گزار کے وکیل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 4 کے مطابق کسی شہری پر شرط عائد نہیں کی جا سکتی، عدالت نے ڈرافٹ کی تیاری کے لئے مزید سماعت 15منٹ کے لئے موخر کردی جس کے بعد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے بیان حلفی کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک ایک صفحہ کے مجوزہ مسودے فاضل بنچ کو پیش کردیئے گئے ،عدالت نے فریقین کے وکلاءکو اپنے موکلوں سے مزید ہدایات لینے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے مہلت دی ،اس کیس کی تیسری بار سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار میاں شہباز شریف اورامجد پرویز ، اشتر اوصاف علی اور نصیر بھٹہ ایڈووکیٹس بھی روسٹرم پر آگئے اوراشتر اوصاف علی نے میاں نواز شریف کے بیان حلفی کا مسودہ پڑھ کرسنایا کہ میں میاں محمد نواز شریف بیان دیتا ہوں جیسے ہی صحت مند قرار دیا جاﺅں گا واپس آﺅں گا،

اشتراوصاف علی نے کہا کہ بیان حلفی کی خلاف ورزی ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، عدالت نے اس بیان حلفی کو مناسب قراردیا جبکہ میاں شہباز شریف کی طرف سے پیش کئے گئے بیان حلفی میں سہولت کار ی کے معاملے پر عدالت نے اعتراض کیا اور ہدایت کی کہ نواز شریف کی واپسی کے لئے سہولت کاری کی بجائے یقین دہانی کے الفاظ استعمال کئے جائیں،سرکاری وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کو8 ہفتوں کے لئے ضمانت دی ہے ،اس بیان حلفی میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا، یہ بیان حلفی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ضمانت کے حکم کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے کہا ہم توقع نہیں کرتے کہ نواز بیان حلفی دے کر جائیں اور واپس نہ آئیں، شہباز شریف نے کہا کہ اللہ نے صحت دی تو تو انشاءاللہ نواز شریف واپس آئیں گے،

سرکاری وکیل نے اپنے ڈرافٹ کے حوالے سے کہا کہ نواز شریف طبی بنیادوں پر بیرون ملک جائیں گے، وفاقی حکومت جب چاہے گی نواز شریف کو واپس آنا ہو گا،شہباز شریف بیان حلفی دیں کہ نواز شریف واپس نہیں آتے توجن نیب مقدمات میںنوازشریف کو جرمانے کی سزاہوچکی ہے وہ یہ رقم ادا کریں گے، نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لئے حکومت کو بیرون ملک میڈیکل بورڈ بھیجنے کااختیارہوگا، اگرمیڈیکل بورڈ نواز شریف کوفٹ قراردیتاہے تو وہ واپس آئیں گے،درخواست گزار کے وکیل اشتر اوصاف علی نے کہا سرکاری وکیل کا مجوزہ ڈرافٹ غیر قانونی ہے، عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ اگر نواز شریف زیر علاج ہوئے تو وفاق نے طلب کر لیا تو پھر کیا ہو گا؟ سرکارکی وکیل نے کہا ہمارے ڈاکٹر ان کا معائنہ کریں گے ،ویسے تو اسحاق ڈار کو آج تک ڈاکٹر بیمار قرار یتے ہیں، اس پر فاضل بنچ نے کہا کہ کل اگر نواز شریف ہائیڈ پارک میں برگر کھانے جاتے ہیں تو آپ یہاں درخواست دائر کر سکتے ہیںکہ وہ صحت مند ہیں، عدالت کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ بلند ہوا،عدالت نے کہا میڈیکل بورڈ کو کہہ دیتے ہیں کہ وہ وقفے وقفے سے رپورٹ پیش کرتا رہے،

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہم میڈیکل رپورٹس ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو پیش کرتے رہیں گے، عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ حکومت نے جو فیصلہ آپ نے کرنا تھا کر دیا، ہم یہ دیکھ رہے ہیں جو شرائط آپ نے لگائی ہیں وہ قانونی ہیں یا نہیں، ہم وفاق کے خدشات کو بھی دیکھیں گے، نواز شریف کی 8 ہفتے کی ضمانت ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ موجودہے ،اگر تب تک صحت مند نہیں ہوتے تو کیسے واپس آ سکتے ہیں؟عدالت نے مزید کہا کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف کی بیماری کی بنیاد پر ان کے بیرون ملک رہنے میں توسیع کرتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ آپ انڈیمنٹی بانڈز کو نواز شریف کی واپسی سے مشروط کر رہے ہیں، اگر اسلام آباد ہائیکورٹ سے بری ہو جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر بری ہو جاتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے،اگرمیمورنڈم سے ہر چیز نکالنی ہے تو جو عدالت نے 8 ہفتے کا وقت دیا تھا وہ کہاں جائے گا،فاضل بنچ نے کہا کہ عدالت وفاقی حکومت ،شہبازشریف اور نواز شریف کے بیانات حلفی کے ڈرافٹس کاجائزہ لے کر ایک ڈرافٹ تجویز کرے گی جس پر فریقین کی رضا مندی سے فیصلہ ہوگا، سرکای وکیل نے کہا کہ میں نے اپنی عقل کے مطابق ڈرافٹ پیش کر دیا ہے،درخواست گزار کے وکیل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ نواز شریف کا 4 ہفتوں میں واپس آنے کا بیاں دینا غلط بیانی ہو گی، عدالت نے پوچھا کیا وفاقی حکومت کا نمائندہ نواز شریف کومل سکے گا؟ اشتراوصاف علی نے کہا ہائی کمشن کا نمائندہ جا کر دیکھ لیا کرے، عدالت نے کہاکہ یعنی کوئی بھی نمائندہ آسکتا ہے ہائی کمیشن کا نمائندہ وزٹ کر سکے گا؟ اشتر اوصاف نے کہا ہمیں اس پر کیا اعتراض ہوسکتاہے ،عدالت نے مجوزہ ڈرافٹ پر غور کے لئے ایک مرتبہ پھر سماعت ملتوی کردی جس کے بعد عدالت نے مجوزہ ڈرافٹ تیارکرکے فریقین کو اس کی نقل فراہم کردی ،

عدالت نے اپنے مجوزہ بیان حلفی میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے، اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہوسکتی ہے، حکومتی نمائندہ سفارتخانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کرسکے گا،میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی طرف سے عدالتی ڈرافٹ کے مطابق بیان حلفی دینے پر اتفاق کرلیاگیاتاہم حکومت کے وکلاءنے اعتراض کیا کہ اس میں عدالت نے کوئی ضمانت نہیں مانگی۔عدالت نے حکومت کا یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو 4ہفتے کے لئے بیرون ملک جانے کا عبوری حکم جاری کردیا۔سماعت کے موقع پر میاں شہبا زشریف،جاوید ہاشمی، احسن اقبال، پرویز رشید، سائرہ افضل تارڑاور عطا اللہ تارڑ سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد راہنما اور کارکن کمرہ عدالت کے اندر اور باہر موجود رہے ، کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد