ماں بننے کی خواہشمند خواتین کو سائنسدانوں نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا

ماں بننے کی خواہشمند خواتین کو سائنسدانوں نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا
ماں بننے کی خواہشمند خواتین کو سائنسدانوں نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین میں بچوں کے حصول میں مشکلات کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اب ایک برطانوی ماہرامراض نسواں نے نہ صرف اس کی وجہ بتا دی ہے بلکہ خواتین کو ایک بہترین مشورہ بھی دے دیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق گائناکالوجسٹ ڈاکٹرمیناکشی چوہدری کا کہنا ہے کہ خواتین میں اولاد حاصل کرنے میں مشکلات کی شرح اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ حالیہ دہائیوں میں خواتین شریک حیات کے انتخاب میں بہت محتاط ہو گئی ہیں۔ وہ مسٹررائٹ کا انتظار کرنے میں اس عمر سے نکل جاتی ہیں جس میں خواتین آسانی سے ماں بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹر میناکشی برطانیہ کے نیوکاسل فرٹیلٹی سنٹر سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ”جو خواتین ماں بننا چاہتی ہیں وہ مسٹررائٹ کی تلاش ترک کر دیں اور عمر نکلنے سے پہلے ماں بننے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کے ماں بننے کے امکانات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔“

پیرس میں ہونے والی ”اوورین کلب“ کی سالانہ میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر میناکشی کا کہنا تھا کہ ”2013ءکے بعد سے خواتین کے اپنے بیضے نکال کر منجمد کروانے کی شرح دو گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اب زیادہ سے زیادہ خواتین مسٹررائٹ کی تلاش میں رہتی ہیں اور بیضے منجمد کروانا چاہتی ہیں تاکہ جب انہیں مسٹررائٹ مل جائے تو وہ ان بیضوں کی مدد سے ماں بن سکیں۔ میں خواتین کو مشورہ دوں گی کہ مسٹر رائٹ کے انتظار کی بجائے جو بھی سب سے اچھا مرد آپ کو مل سکے اس کے ساتھ شادی کریں اور اپنی خاندانی زندگی کا آغاز کریں۔ اس طرح آپ اولاد کے حصول میں مشکل کے علاوہ دیگر بھی کئی مسائل سے بچ جائیں گی۔“

مزید : برطانیہ /تعلیم و صحت