حکومت نے ملک میں بےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیا،فاٹا انضمام کے وعدے پورے نہ کئے تو عوام حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے:سراج الحق

حکومت نے ملک میں بےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیا،فاٹا انضمام کے ...
حکومت نے ملک میں بےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیا،فاٹا انضمام کے وعدے پورے نہ کئے تو عوام حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے:سراج الحق

  



باجوڑ(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت نے 15 مہینوں میں عوام سے کیا گیا کوئی ایک وعدہ بھی پورانہیں کیا،خیبر پختونخوا میں انضمام کےبعدفاٹابھی اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کی طرح اہم ہے،انضمام کے وقت فاٹا عوام سے کیے گئے وعدوں کو حکومت نے اب تک پورا نہیں کیا، فاٹا کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے کے پیکیج اور فاٹا کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے ہنگامی پروگرام کا اعلان کیاگیالیکن حکومت نےروزگار دینے کی بجائے روزگار کے پرانے ذرائع پر بھی پابندیا ں لگا دیں،حکومت نے فاٹا میں امن عامہ کو بہتر بنانے کا بھی اعلان کیاتھااِس کےبرعکس حقیقت یہ ہےکہ اِن علاقوں میں امن وامان کےمسائل دوبارہ سراٹھا رہے ہیں،اب یہاں لیوی کا پرانا نظام بھی نہیں رہااورپولیس کا نظام ابھی تک مستحکم نہیں ہوسکا،حکومت نے ملک میں بےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیا،فاٹا انضمام کے وعدے پورے نہ کئے تو عوام حکمرانوں کا گھیراؤ کریں گے۔

باجوڑ میں پریس کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےسینیٹرسراج الحق نےکہاکہ حکومت نےفاٹاکےعلاقوں میں جرگے کانظام ختم کردیامگرعدالتی نظام کوبھی لاگو نہیں کیا اور نہ ابھی تک عدالتیں قائم ہوئی ہیں،دو نظاموں کے درمیان یہ علاقہ ایک سینڈوچ بن گیاہے،خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وزراءکی ساری توجہ ایک دو اضلاع پر ہے باقی صوبہ کی طرح یہ علاقہ بھی محرومیوں کی تصویر بنا ہواہے،حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے ان علاقوں کی محرومیوں کا خاتمہ کرے ۔اُنہوں نےکہاکہ حکومت اعلان کرتی ہےکہ ہم ہربچےکےہاتھ میں قلم اورکتاب دیں گےمگرفاٹاانضمام کےباوجود یہاں نہ کوئی نیاکالج بنانہ یونیورسٹی اورہسپتال بنا۔ اُنہوں نےکہاکہ ہم فاٹا کےمظلوم عوام کےساتھ کھڑے ہیں،جماعت اسلامی فاٹاکےمسائل کےحل کےلیےقومی اسمبلی اورسینیٹ میں آوازاٹھائے گی۔سینیٹر سراج 

الحق نےحکومت کومتنبہ کیاکہ اس سےپہلےکہ فاٹاکےلوگ اپنےگھروں سےنکل کرحکمرانوں کےگھروں اوراقتدارکےایوانوں کاگھیراؤ کریں،اِن سے کیےگئے وعدوں کو پورا کیا جائے،قومی وسائل میں فاٹا کے عوام کا جو حصہ ہے،وفاقی اورصوبائی حکومتوں کافرض ہےکہ وہ اِن لوگوں کےگھروں تک پہنچائیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیاہے،پی ٹی آئی کو ووٹ اور سپورٹ دینے والے شرمندہ اور پریشان ہیں،حکومت نے نوجوانوں کو سب سے زیادہ مایوس کیاہے،ایک کروڑ نوجوانوں کوروزگاردینے کاوعدہ کرنے والوں نے اب تک دس لاکھ لوگوں سےروزگارچھین لیاہے، پچاس لاکھ گھروں کاوعدہ کرنے والوں نے پندرہ ماہ میں کسی ایک بے گھر کو چھت نہیں دی،انصاف کے دروازے کھولنے کے دعویداروں نے پورے معاشرے کو ظلم و جبر کی زنجیر وں میں جکڑ دیاہے،انصاف کی آنکھیں اور کان بند ہیں،حکومت نے ملک میں حیا،غیرت اوربرداشت کےکلچرکو تباہ کرنے کےلیےبےحیائی اورگالی گلوچ کے کلچر کو رواج دیاہے ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کا دعویٰ تھاکہ اقتدار سنبھالتے ہی باہر سے ڈالر وں کی بارش ہوجائے گی مگراُنہوں نے روپے کی اِس قدر بے توقیری کی کہ اب وہ کاغذکا ایک بے وقعت ٹکڑا بن کر رہ گیاہے اور ڈالر کی قیمت آسمان کو چھورہی ہے،مہنگائی نے عوام کے اوسان خطا کردیے ہیں،ٹماٹرگوشت کی قیمت پر بک رہے ہیں،وزراءاتنے بے خبرہیں کہ لوگو ں کی غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے معیشت ، تجارت ، روزگار ، تعلیم کا بیڑا غرق کردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اِس حکومت میں کسی کی عزت ، جان اور مال محفوظ نہیں ہے۔

مزید : قومی