جہاز میں لمبا سفر کر کے آپ کو بہت زیادہ تھکن کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اصل و جہ ایسی جو آپ نے آج تک سوچی بھی نہ ہوگی

جہاز میں لمبا سفر کر کے آپ کو بہت زیادہ تھکن کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اصل و جہ ایسی ...
جہاز میں لمبا سفر کر کے آپ کو بہت زیادہ تھکن کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اصل و جہ ایسی جو آپ نے آج تک سوچی بھی نہ ہوگی

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) طویل فضائی سفر کے بعد تھکن محسوس ہونا لازمی بات ہے۔ اب ایک طبی ماہر نے اس کی ایسی وجہ بتا دی ہے جو آج تک کسی نے سوچی بھی نہ ہو گی۔ میل آن لائن کے مطابق ایو سائمنز نامی اس خاتون ماہر نے نیویارک سے سنگاپور جانے والی سنگاپورایئرلائنز کی براہ راست پرواز میں سفر کیا۔ یہ پرواز دنیا کی طویل ترین پرواز تھی جو لگ بھگ 10ہزار میل کا سفر ساڑھے 18گھنٹے میں طے کرکے سنگاپور پہنچی۔ اس پرواز میں سفر کے دوران ایو سائمنز نے شوگر، بلڈپریشر، دل کی دھڑکن، بلڈ آکسیجن لیول اور حتیٰ کہ دماغ کی لہروں کی پیمائش کرنے والے آلات پہن رکھے تھے تاکہ سفر کے دوران اپنی صحت میں ہونے والی کسی بھی طرح کی تبدیلی کا جائزہ لے سکیں اور جہاز کے ماحول کی بھی نگرانی کر سکیں۔ اس سفر کے بعد ایو سائمنز نے بتایا کہ 40ہزار فٹ کی بلندی پر تابکاری کی سطح وسطی لندن میں تابکاری سے 100گنا زیادہ ہوتی ہے جو کہ نہ صرف تھکاوٹ کی ایک بڑی وجہ ہے بلکہ زیادہ فضائی سفر کرنے والوں میں کینسر اور دیگر خطرناک بیماریوں کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ہوائی جہاز میں امریکہ سے برطانیہ تک 12ریٹرن فلائٹس میں سفر کرنے سے انسان جتنی تابکاری کی زد میں آتا ہے وہ ایک سی ٹی سکین یا 200ایکس ریز کے برابر ہوتی ہے۔

ایو سائمنز کا کہنا تھا کہ ”محدود جگہ پر مسلسل کئی گھنٹے گزارنا، سورج کی روشنی سے محروم رہنا، مسلسل ری سائیکل شدہ آکسیجن میں سانس لینا وغیرہ بھی ایسے عوامل ہیں جو صحت میں گراوٹ اور تھکاوٹ کا سبب بنتے ہیں ۔ طویل وقت کے لیے کیبن کی ہوا میں بیٹھے رہنا دمے، چھاتی کی انفیکشن اور حتیٰ کہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ کیبن کی ہوا میں آلودگی کے بہت زہریلے اجزاءہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی پرہجوم ٹریفک والے علاقے سے 10گنا زیادہ زہریلے اجزاءکیبن کی ہوا میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم بعض فضائی کمپنیاں ہوا کو صاف رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر اس میں زہریلے اجزاءپھر بھی باہر کے ماحول سے زیادہ ہی ہوتے ہیں۔جب میں اس پرواز میں بیٹھی تو میری دل کی دھڑکن 49فی منٹ تھی لیکن پرواز اڑنے کے صرف20سیکنڈ بعد ہی 60فی منٹ ہو گئی۔اگلے تین گھنٹے میں یہ 65تک پہنچ چکی تھی۔ آدھا راستہ طے ہونے کے بعد دل کی دھڑکن واپس 49پر آ گئی۔ اگلی صبح جب میں اٹھی تو یہ پھر بڑھ کر 53پر تھی۔ اسی طرح بلڈپریشر میں بھی مسلسل اتار چڑھاﺅ جاری رہا۔ یہ تمام ایسے عوامل ہیں جن کا فوری نتیجہ تھکاوٹ کی صورت میں نکلتا ہے تاہم زیادہ فضائی سفر کرنے والوں میں طویل مدت میں یہ عوامل خطرناک بیماریوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ “

مزید : ڈیلی بائیٹس