دنیا کی پہلی خاتون جس کی کینسر نے جان بچا لی

دنیا کی پہلی خاتون جس کی کینسر نے جان بچا لی
دنیا کی پہلی خاتون جس کی کینسر نے جان بچا لی

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کینسر لوگوں کی جان لیتی ہی تھی لیکن برطانیہ میں پہلی بار اس موذی مرض نے ایک خاتون کی جان بچا لی۔ دی مرر کے مطابق 35سالہ جین کوسٹا نامی اس خاتون کا 14سال قبل کار ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس کے بعد اس کا وزن بڑھنا شروع ہو گیا اور وہ خوفناک حد تک موٹاپے کا شکار ہو گئی۔ اس کا وزن 292کلوگرام تک پہنچ گیا تھا اور ڈاکٹروں نے اسے وارننگ دے دی تھی کہ اگر اس نے وزن کم نہ کیا تو وہ جلد موت کے منہ میں چلی جائے گی۔ تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا وزن کم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا گیا۔

پھر ایک روز اس میں زبان کے کینسر کی تشخیص ہو گئی۔ کینسر چوتھی سٹیج تک پہنچ چکا تھا چنانچہ ڈاکٹروں کو اس کی زبان کاٹنی پڑ گئی۔ مگر اس کا موٹاپا اس کی سرجری میں آڑے آر ہا تھا۔ ڈاکٹروں نے اسے کہا کہ جب تک وہ اپنا وزن کم نہیں کرتی اس کی سرجری نہیں ہو پائے گی۔ اس پر جین نے ایک بار پھر وزن کم کرنے کی جدوجہد شروع کر دی کیونکہ اب اسے اپنے سامنے موت نظر آ رہی تھی۔ اس کی یہ کوشش کامیاب رہی اور کچھ ہی عرصے میں ڈاکٹروں کی معاونت سے وہ اپنے وزن میں 222کلوگرام کی کمی کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے اس کا آپریشن کرکے اس کی زبان کاٹ دی اور وہ کینسر سے بھی محفوظ ہو گئی۔ جین کا کہنا ہے کہ ”کینسر کے متعلق ڈاکٹروں نے مجھے جو وارننگ دی وہ ایسے تھی جیسے مجھے سزائے موت سنا دی گئی ہو۔ میری زندگی ہی تاریک ہو کر رہ گئی تھی۔ میں کسی طور مرنا نہیں چاہتی تھی چنانچہ میں نے اپنا وزن کم کرنے کے لیے سخت محنت کی اور اس میں کامیاب رہی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ