تشدد، نفرت اور انتہاپسندی اسلامی تعلیمات کے منافی، اُمت مسلمہ کو ترقی کرنی ہے تو ٹیکنالوجی کی طرف جائے:مفتی اعظم سعودی عرب

تشدد، نفرت اور انتہاپسندی اسلامی تعلیمات کے منافی، اُمت مسلمہ کو ترقی کرنی ...
 تشدد، نفرت اور انتہاپسندی اسلامی تعلیمات کے منافی، اُمت مسلمہ کو ترقی کرنی ہے تو ٹیکنالوجی کی طرف جائے:مفتی اعظم سعودی عرب

  



مکہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز  بن عبداللہ آلِ الشیخ نےکہاہےکہ اِسلام رحم دِلی اوراعتدال پسندی کادین ہے،تشدد،نفرت اورانتہاپسندی اسلامی تعلیمات کےمنافی ہے،اسلام کامقصد ہرصورت میں امن اورسلامتی کوپھیلاناہے،اُمت میں اخلاقی برائیاں اسلامی اقداراوراسلامی تعلیمات سےدوری کا نتیجہ ہے،ہمیں اپنے اخلاق کوسنوارنے کے لیے رسول اکرم ﷺ کے خُلقِ عظیم کو اپناناہوگا۔

اِن خیالات کااظہاراُنہوں نے مکہ مکرمہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کےامیرعلامہ ساجد میر کی قیادت میں وفد سےگفتگو کرتے ہوئےکیا،وفد میں ڈاکٹر حافظ عبدالکریم،مولانا ابوتراب،علامہ ابتسام الہی ظہیر،عبدالمالک مجاہد شامل تھے۔مفتی اعظم سعودی عرب اورسپریم علما کونسل کے چیئرمین  الشیخ عبدالعزیز  بن عبد اللہ آل الشیخ نے کہا کہ اُمت مسلمہ باہمی یکجہتی سے ہی مشکلات سے نکل سکتی ہے،مسلمان اپنے مال کو علم کی ترویج کے لئے خرچ کریں،اُمت مسلمہ کو ترقی کرنی ہے تو ٹیکنالوجی کی طرف جائیں،اسلام میں جبراور ظلم کی کوئی گنجائش نہیں،ہمیں چاہیے کہ تمام تعصبات ختم کردیں،شریعت کے خلاف باتیں مخالفین کا پراپیگنڈا ہے،اظہار رائے کی آڑ میں اِسلامی حدود کے خلاف باتیں ہوتی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی مشکلات اپنے وسائل سے حل کرنا ہونگی،وسائل کومسلمانوں کی ترقی اور بہبود پر خرچ کرنا چاہیے، مسلمانوں کو پورے وسائل سے استفادہ اوران میں اِضافہ بھی کرناچاہیے، مال حلال ذریعے سے کمایاجائےاورایسے خرچ کیاجائے جیسے ہمیں حکم دیاگیاہے،اسلامی ممالک میں اسلامی تعلیمات کو رواج دینا ہوگا،مسلمانوں کو باہمی نفرتوں سے بچنا ہوگا،مسلمان اپنے وسائل اورتجربات کاایک دوسرے سےتبادلہ کریں۔مفتی اعظم نےمرکزی جمعیت اہل حدیث کی دعوتی ورفاہی سرگرمیوں کوسراہا اوراُمیدظاہر کی کہ پاکستان میں دینی اقدارکی سر بلندی کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

علامہ ساجد میر نے مفتی اعظم کی پیرانہ سالی کے باجود ملاقات کا وقت اور قیمتی نصائح پر ا ن کا شکریہ ادا کیا۔علامہ ساجد میر کاکہنا تھا کہ مفتی اعظم نے ہمیشہ خطبات حج میں عقیدہ توحید اوراحترام رسالت ﷺاوراسلامی تہذیب کی اہمیت کواجاگر کیا اور اسلام کا پراَمن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور اتحاد وتفاق پر زور دیا، ہم مفتی اعظم کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

مزید : عرب دنیا