افسر عوام کے خادم بنیں، حاکم نہیں 

افسر عوام کے خادم بنیں، حاکم نہیں 
افسر عوام کے خادم بنیں، حاکم نہیں 

  

ہمارے جسدقومی کو لا حق امراض اس قدر مزمن اور اسے لگنے والے زخم اس قدر گہرے اور شدید ہیں کہ ان میں افاقہ اور اندمال تو کیا الٹا یہ مزید مزمن سے مزمن، گہرے سے گہرے اور شدید سے شدید تر ہوتے رہے ہیں اور بد قسمتی ہماری یہ کہ قائداعظم کے بعد نہ ہمیں کوئی مسیحا نفس معالج میسر آیا اور نہ ہی ہماری جانب مشام جاں کو معطر کر دینے والا تازہ ہوا کا جھونکا آ سکا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے امراض اور زخموں کے ذمہ دار کوئی غیر نہیں بلکہ ہمارے ہم وطن اور اپنے ہی عزیز اور پیارے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے جب سے مسند اقتدار سنبھالی ہے ہم نے ان کے  ملک و قوم کے ساتھ پیمان وفا او ر وعدوں کے تناظر میں ان کی کامیابیوں کے لئے دعائیں بھی کیں اور تھوڑا بہت لکھا بھی لیکن جب پچاس لاکھ گھروں، ایک کروڑ نوکریوں، ایک ارب پودے لگانے والے وعدوں میں سے کوئی ایک بھی  ایفا نہ ہوتے ہوئے محسوس کیا تو ہمارے دل میں بھی ان کے لئے موجود ہمدردی اور خیر خواہی کے حوالے سے نرم گوشہ بتدریج ختم ہونے لگا لیکن سچی بات یہی ہے کہ جب وزیر اعظم آئے روز کسی نہ کسی غلاظت میں ہاتھ ڈالتے تو انکے ہاتھ لتھڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں نا تجربہ کاری کا طعنہ بھی سہنا پڑتا۔ جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ جڑیں کاٹنے والے بیوروکریٹس تک پہنچ گئے ہیں۔

ابھی اس بیان واقعہ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ جمعے کے روز انہوں نے تربت یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تباہی اور اس کی پسماندگی کے ذمہ دار ہمارے سیاستدان ہیں۔ یہاں یہ عرض کئے بغیرچارہ نہیں کہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا چولی اور دامن کا ساتھ ہے چونکہ سیاستدان پانچ سال کے لئے حکومت میں آتے ہیں جماعت کوئی بھی ہو لیکن بیوروکریٹ سدا بہار شخصیت ہوتی ہے او راس کا مینڈیٹ چونکہ سیاسی لوگوں کے مقابلے پر کہیں زیادہ اور روز افزوں ہوتا ہے اور اختیارات کا ارتکاز بھی اس کی ذات میں یقینا  اسی قدر وسیع اور عمیق ہوتا ہے لیکن مقام افسوس ہے کہ اس کے باوجود ان میں سے بعض دریدہ دہن ملک و قوم کی جڑیں کاٹتے ہوئے وزیر اعظم کو بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔

ان کو حاصل شدہ مراعات کی فہرست اس قدر طویل ہونے کے باوصف ان کا موسموں کے تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ گرم اور ٹھنڈے کمروں اور لگژری رہائشوں اور بہترین سہولتوں سے مزین گاڑیوں کے فلیٹ اوربیڑے حاصل ہونے کے باوصف ملک قوم کی جڑیں کاٹنا ان کی اپنی بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔ لیکن انکے ہاتھ اس قدر مضبوط اور ان کی جڑیں اس قدر گہری اور طاقتور ہیں کہ شاید آہنی ہاتھ بھی انہیں کاٹنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ میرے ایک دوست جو ما شاء اللہ اعلیٰ افسر ہیں ایماندار بھی ہیں بیک وقت شاعر اور نثر نگار بھی ہیں اور صوفی اور درویش منش بھی۔ وہ اکثر اپنے ما تحت عملے کو سخت تنبیہہ کے انداز میں کہا کرتے ہیں کہ خدا کے لئے فیصلے کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دل میں رکھا کرو کیونکہ جب آپ انصاف نہیں کرتے تو قدرت کے  انصاف کا معیار بھی اپنا ہی ہوتاہے اور جو قوت اور طاقت آپ کو زمین سے آسمان پر پہنچا سکتی ہے وہ آپ کو آسمان سے  زمین پر بھی پھینک سکتی ہے لیکن نقار خانے میں میرے دوست کی آواز طوطی کی آواز یا صحرا میں اذان دینے ہی کے مترادف ہو سکتی ہے۔

اِدھر کوئی طالب علم سی  ایس ایس یا پی ایم ایس  کا امتحان پاس کرتا ہے دوسری جانب نئی گاڑی، سرکاری رہائش، کئی کئی پرسنل اسسٹنٹس، نائب قاصد، چپڑاسی، باورچی اور کوٹھی کے آگے گیٹ پر صاحب بہادر کو سیلوٹ کرنے کے لئے چوکیدار، ماہانہ پر کشش مشاہرہ، دیگر ان گنت اور لا تعداد سہولیات غرضیکہ کون سی ایسی نعمت ہے جو قدرت ان کی جھولی میں نہیں ڈالتی لیکن اس سب کچھ کے باوجود کوئی افسر عوام کا ہمدرد نہ ہو، انصاف کی بجائے ظلم کرے قومی درخت کو سینچنے اور اسے پانی دینے کی بجائے اس کی جڑیں کاٹے تو یہ کفر ان نعمت نہیں تو اور کیا ہے۔ ایسے افسروں کی کمی نہیں جو عوام کی خدمت اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن جو افسر جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں وہ تو کسی رو رعائت اور ہمدردی کے مستحق نہیں سمجھے جا سکتے۔ یہی صورت حال کچھ سیاستدانوں کی ہے جو ماضی میں مقتد//ر، بالا دست اور طاقتور رہنے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے بلکہ اپنے ہی علاقوں کی تباہی کا باعث بنے۔ وقت آ گیاہے کہ ایسی بالائی یانچلی سیاسی کلاس اور اعلیٰ و ادنیٰ بیوروکریٹس جو اپنے فرائض کی ادائیگی پر یقین کی بجائے نقصان کا باعث ہیں۔ ان سے  آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور انہیں عوام کے حاکم نہیں خادم بنایا جائے۔  وزیراعظم عمران خان اگر واقعی ملک و قوم کی جڑیں کاٹنے والوں تک پہنچ چکے ہیں تو ان کے کئے کی سزا دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ ہم آخر کب تک غلط کار عناصر سے صرف نظر کرتے رہیں گے۔ 

مزید :

رائے -کالم -