سابق صوبائی وزیرایڈووکیٹ مظفر سید نے جماعت اسلامی سے اپنی راہیں جدا کرلیں لیکن کس پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا؟

سابق صوبائی وزیرایڈووکیٹ مظفر سید نے جماعت اسلامی سے اپنی راہیں جدا کرلیں ...
سابق صوبائی وزیرایڈووکیٹ مظفر سید نے جماعت اسلامی سے اپنی راہیں جدا کرلیں لیکن کس پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا؟

  

لوئر دیر(ویب ڈیسک) سابق صوبائی وزیر اور جماعت اسلامی کے رہنما ایڈووکیٹ مظفر سید نے اپنی جماعت سے راہیں جدا کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان کی جانب سے یہ اعلان پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا گیا۔مذکورہ تقریب سابق صوبائی وزیر محمود زیب خان کی رہائش پر کیا جو پارٹی کے ڈسٹرکٹ صدر ہیں۔

اس تقریب سے سابق سینیٹ چیئرمین نیئر حسین بخاری، پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر ہمایوں خان، جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈری، سابق ایم این ایز اخوندزادی چھٹن، ملک عظمت خان، احمد حسن خان، نجم الدین خان، سابق صوبائی وزیر بخت بیدار خان، پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی صدر رحیم داد خان اور دیگر نے خطاب کیا۔پیپلزپارٹی کے رہنماو¿ں نے جماعت اسلامی کے رہنما کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ پارٹی انہیں کبھی مایوس نہیں کرے گی۔

تقریب سے خطاب میں مظفر سید کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی اور اس کے کارکنان کے لیے بہترین خدمت کرنے کی کوشش کریں گے۔ خیال رہے کہ مظفر سید 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں ناظم منتخب ہوئے تھے، وہ 2002 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔

بعد ازاں 2008 میں پارٹی نے ایک مرتبہ پھر انہیں ٹکٹ دیا تھا لیکن الیکشنز سے بائیکاٹ کردیا تھا۔سال 2013 میں وہ ایک مرتبہ پھر صوبائی رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کی قیادت میں اتحادی حکومت کے 4 سال کے عرصے میں صوبائی وزیر خزانہ رہے تھے۔2018 کے عام انتخابات میں وہ پی ٹی آئی کے امیدوارشفیع اللہ خان سے ہار گئے تھے۔

علاوہ ازیں اندرونی ذرائع کا کہنا تھا کہ مظفر سید ان پارٹی ورکرز کے خلاف انضبابی کارروائی چاہتے تھے جنہوں نے 2018 انتخابات میں ان کے لیے ووٹ نہیں دیا تھا لیکن ضلعی انتظامیہ نے ایسا کرنے سے اجتناب کیا۔

ادھر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے جماعت اسلامی کے ایک متحرک رہنما کی جانب سے شمولیت کو پارٹی کے لیے فتح قرار دیا۔

مزید :

سیاست -