نواز شریف: پاکستانیوں کا لاڈلا

     نواز شریف: پاکستانیوں کا لاڈلا
     نواز شریف: پاکستانیوں کا لاڈلا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 نواز شریف کے آنے سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ 16ماہ کی پی ڈی ایم حکومت کے دوران ہونے والی مہنگائی نون لیگ کو لے ڈوبے گی۔ نواز شریف کے آنے کے بعد لاڈلا،لاڈلاکی گردان شروع ہو گئی ہے۔ دوسرے معنوں میں ان کی مقبولیت کو چیلنج نہیں کیا جا سکا تو ان کی متوقع جیت کو لاڈلے پن سے تعبیر کرکے نون لیگ کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش شروع ہو گئی۔ 

نواز شریف کے خلاف لاڈلے کا بیانیہ بنانے والے بھول گئے ہیں کہ نون لیگ عمرا ن خان کو اسٹیبشلمنٹ کا نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا لاڈلا کہتی تھی جنھوں نے ان کی بنی گالا کی غیر قانونی رہائش کو قانونی قرار دے دیا تھا اور جمائما خان کی طرف سے موصول ہونے والے ڈاکومنٹس کو بنیاد بنا کر انہیں صادق اور امین ڈکلیئر کردیا تھا۔ 

دلچسپ بات تو یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی حلقے بھولے سے بھی اسد عمر کے میدان سے بھاگ جانے کو ڈسکس نہیں کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں بتارہا ہے کہ عمران خان کی وکٹیں ایک ایک کر کے گر گئی ہیں۔سب کا زور اس بات پر ہے کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا ہے۔ ایسا ہے تو پھر کہنے دیجئے کہ نواز شریف نے مینار پاکستان پر دھانسو جلسہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا لاڈلاہے۔ 

یہ افسوسناک بات ہے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا آئندہ ہونے والے عام انتخابات کو متنازع بنانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے اور اس ضمن میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس مشورے کو بھی خاطر میں نہیں لایا جا رہا کہ جن صحافیوں کو خدشہ ہے کہ انتخابات نہیں ہوں گے وہ اپنے اس خدشے کا اظہار عوام کے سامنے کرنے کی بجائے اپنی زوجہ محترمہ کے سامنے کرلیں تو بہتر ہے کیونکہ فروری 2024ء میں عام انتخابات ہونا پتھر پر لکیر ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ایسا اس لئے کر رہا ہے کہ اس کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی کو عمران خان کی قیادت میں اگلے عام انتخابات میں اترنے کا موقع مل سکے اور عمران خان کے جیل سے باہر آنے پر پی ٹی آئی کا ووٹر سپورٹر اس قدر چارج ہو جائے کہ وہ خودبخود جوق در جوق پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرے۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی ہیں، وہ اس سارے کھیل سے اچھی طرح واقف ہے۔ اگر واقف نہ ہوتی تو 9مئی کو کیونکر پی ٹی آئی پر الٹا سکتی تھی؟ 

نواز شریف سے نفرت کرنے والے اپنی نفرت میں اس پراپیگنڈے کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ انہیں عمرا ن خان سے محبت ہے نہ بلاول بھٹو، بس نواز شریف سے نفرت ہے اور اس نفرت میں اگرانہیں کسی کالے چور کو بھی سپورٹ کرنا پڑتا ہے تو بے دھڑک کریں گے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ پرانی اسٹیبلشمنٹ نے اگرچہ شکست تو کھالی ہے مگر حالات سے ہار ابھی نہیں مانی ہے۔ سچ پوچھئے تو انہوں نے مانا تو کچھ بھی نہیں ہے، تبھی تو اسد عمر نے سیاست کو ہی خیر باد کہنے میں عافیت جانی ہے۔ یعنی وہ یا تو عمران خان سے جڑے رہنا چاہتے ہیں اور اگر عمران خان نہیں ہے تو ان کے لئے سیاست بھی بے کار کی شے ہے، نہ عوام کی بھلائی کا خیال نہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا عزم، صرف اور صرف عمران خان کی محبت اور بس!

اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حلقے ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے نواز شریف کارفرما ہیں، حالانکہ وہ اقتدار میں ہیں نہ کسی اختیار میں ہیں۔ تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ کیا ٹی وی اینکرز اس قدر شتر بے مہار ہیں کہ متعلقہ ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ بھی ان کے سامنے بے بس ہے۔ کیا ان کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور اگر یہی پالیسی ہے کہ نواز شریف ی مخالفت کرنی ہے تو پھر مان لیجئے کہ یہ ان کی نہیں بلکہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی بھی پالیسی ہے کہ نواز شریف کے خلاف ایک محاذ کھڑا رکھا جائے تاکہ کل کو انتخابات میں اس قدر اکثریت نہ لے جائیں کہ پھر سے وبال جان بن جائیں۔ وگرنہ اتنا کچھ ہونے کے بعد عمران خان کے حق میں یوں کھلے بندوں بات نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر مقامی نہیں تو پھر اس کے پیچھے یقینا بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ ہو سکتی ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!

پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں صرف اتنا فرق ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ دونوں سے ناراض ہے جبکہ پی ٹی آئی صرف نون لیگ سے نالاں ہے۔ اس وقت تک کی صورت حال یہ ہے کہ نون لیگ نے ایم کیو ایم کو اپنی جیب کی گھڑی اور باپ پارٹی کو ہاتھ کی چھڑی بنالیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نون لیگ اور ایم کیو ایم کا اتحاد نہ ہوتا تو کیا پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی انہیں کراچی میں جیتنے کا موقع دیتیں جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ آئندہ عام انتخابات میں اتحاد دیوار پر لکھا نظر آرہا ہے۔ ایک اعتبار سے ایم کیو ایم کراچی میں تنہا ہو چکی تھی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ قیادت کے بغیر اپنا دھڑ لئے پھر رہی ہے۔ انہیں نواز شریف کی صورت میں اپنے ووٹروں کو ایک امید دکھانے کا موقع ملا ہے تو اس موقع کو کیوں ضائع کریں۔ دوسری جانب بلوچستان نون لیگ کی مجبوری ہے جہاں سابقہ اسٹیبلشمنٹ نے چیر پھاڑ کرکے نون لیگ کو ختم کردیا تھا اور اس کارخیر میں آصف زرداری بھی برابر کے شریک تھے۔ اس لئے اب اگر نواز شریف نے اپنا قلعہ واپس لیا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔وہ صرف پنجاب کے عوام کے لاڈلے تو نہیں، پورے پاکستان کے ہیں!

مزید :

رائے -کالم -