بلوچستان کے مسائل کا حل نواز شریف کے پاس ہے

بلوچستان کے مسائل کا حل نواز شریف کے پاس ہے
 بلوچستان کے مسائل کا حل نواز شریف کے پاس ہے

  

پیپلزپارٹی نے ساڑھے چار سال میں عوام کو مایوسی، افسردگی اور قنوطیت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ حکمران اس وقت خود تو دودھ ملیدہ کھارہے ہیں، جبکہ عوام پانی سے روٹی کھانے پر مجبور ہیں، پیپلزپارٹی کی حالت یہ ہے کہ کسی عہدیدار کے خلاف بدعنوانی کی شکایت ملے تو اس کے قائدین کارروائی کرنے کے بجائے دودھوں نہاﺅ پوتوں پھلو کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور اگر کبھی ذرائع ابلاغ کا دباﺅ اس پر پڑ بھی جائے تو سارا معاملہ دودھ کے ابال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے نمائشی اقدامات اور رسمی کارروائیوں کی کہانیاں عام ہیں، ملکی حالات ایسے ہیں کہ مختلف نظریات سامنے آ رہے ہیں ،جن سے محب وطن سخت اندیشوں اور وسوسوں کی گرفت میں ہیں۔ وفاقی حکومت ان بڑھتے ہوئے اختلافات کو ختم کرنے کے لئے مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے صرف اعلان کر رہی ہے، بلوچستان میں مچنے والے کہرام پر وفاقی حکومت پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ،لیکن آزاد ذرائع ابلاغ نے سب کچھ عیاں کر دیا ہے۔

  بلوچستان کے سنگین مسائل کے حل کے لئے صرف ایلچی مقرر کرنے کا وقت گذر چکا ہے، اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، مشرقی پاکستان کے حالات جب اسکیفیت سے دوچار ہوئے تو حکمران نے عوام کو کچھ بتانا شروع کیا لیکن 1971ءاور اب کے حالات میں بہت فرق ہے، اب سب کچھ عیاں ہو رہا ہے، بلوچستان میں لگی آگ نے پورے ملک کو متاثر کر رکھا ہے، ہر طرف نا امیدی ہے جس کو دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس طرح کہا جاتا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کا پیتا ہے، ہم پہلے ہی مشرقی پاکستان کے مسئلے پر نوحہ کناں ہیں اور اب بلوچستان کے مسائل میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جا رہاہے، وفاق نے بلوچستان سے دور کی صاحب سلامت کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے ،وہ قابل مذمت ہے، آغاز حقوق بلوچستان پیکیج اب تک ڈھونگ رہا ہے، اس حوالے سے دور کی ہانکی گئی ہے ،مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔

  بلوچستان کے سیاستدانوں نے وفاقی حکومت کے تمام دعوے پست ثابت کر دیئے ہیں، جھوٹے دعوے کرنے والے اب بے نقاب ہو چکے ہیں ،لیکن ابھی تک وفاقی حکومت کے رویے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی۔ معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی جانتا ہے کہ محض دعوے کرنے سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے، جب تک تلاش و جستجو کا طرز عمل نہیں اپنایا جائے گا ،کچھ نہیں ہو گا، جو قومیں اپنے مسائل کے حل کے لئے کافی و شافی نسخہ ترتیب دیتی ہیں، وہی کامیاب ہوتی ہیں، لیکن ہم تو ابھی تک قوم نہیں بن سکے۔ پیپلزپارٹی نے قوم کے قیمتی ساڑھے چار سال ضائع کر دیئے اور افسوس صد افسوس اس نقصان پر پیپلزپارٹی کا کوئی لیڈر پریشان نہیں ہے، وہ کسی معاملے پر بھی اپنی اضطرابی کیفیت کا اظہار نہیں کرتا۔

پیپلزپارٹی کی حکومت عوامی ہونے کے بجائے راج کمار کی دکھائی دیتی ہے، ایوان صدر بھی عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے میدان عمل میں نکلے اگر پیپلزپارٹی لاہور سے ناراض ہے تو کم از کم بلوچی بھائیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے دو ٹوک حکمت عملی مرتب کرے، مگر یہاں تو کسی کو راج لاج سے فرصت نہیں ہے، یوں دکھائی دیتا ہے کہ وفاق میں راحت پرست بستے ہیں جو اپنے آرام میں خلل نہیں چاہتے۔ بلوچستان کے قائدین وفاقی حکومت سے سخت مایوس ہیں، اس لئے وہ پاکستان کے عوام کے ہر دل عزیز قائد نواز شرف کے پاس چلے آتے ہیں، انہیں یقین کامل ہے کہ بلوچستان کے عوام کے زخموں پر مرہم نواز شریف ہی رکھیں گے اس کے علاوہ کسی اور لیڈر کے پاس بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے، قوم کی معماری کا نسخہ نواز شریف کے ہی پاس ہے۔

 پرویز مشرف نے بلوچستان کے عوام پر جو زخم لگائے، ان سے آج بھی خون جاری ہے،شہ زور حکمران اپنے تخت کو قرار دینے کے لئے طاقت کا استعمال کرتے رہے ۔ بلوچ عوام اس لئے بھی پریشان ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ان سے کئے گئے وعدے وفا نہیں کئے ۔یہ تو جانی پہچانی حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی نے پوری قوم سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے تو وہ بلوچستان کے عوام سے کیا گیا عہد کیوں پورا کرتی ۔ بلوچستان کے تمام شہروں میںپیپلزپارٹی کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔پیپلزپارٹی کے پاس موقع تھا کہ وہ بلوچستان میں رہنے والوں کے مسائل حل کر کے نیک نامی کما سکتی تھی لیکن اس نے یہ موقع ضائع کر دیا، پیپلزپارٹی کے کسی ایک رہنما نے بھی اپنی ناقص کارکردگی کو ہدف تنقید نہیں بنایا۔

اس جماعت میں دلیری کی مثال موجود نہیں، حالات وواقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے پاس کوئی ایسا رہنما نہیں جو شیرازہ بندی کرنے کے لئے تیار ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جماعت کا اپنا شیرازہ بکھر چکا ہے، اس لئے یہ جماعت عوام کی نظروں میں اپنا مقام کھوچکی ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں بلوچستان کے عوام مایوس نہ ہوں ،اہل پنجاب ان کے ساتھ ہیں، پنجاب کے عوام ہی انہیں بے کسی اور تنہائی کے عالم سے نکالیں گے۔ پیپلزپارٹی کا اب جعلی سکہ نہیں چلے گا۔ اب وہی جماعت حکومت کرنے میں کامیاب ہو گی جو عوام کے مسائل حل کرنے کی نتیجہ خیز کوشش کرے گی، پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے ساتھ بھی بہت ظلم کیا اور جمہوریت کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا ۔ اس جماعت کی انتہائی ناقابل رشک کارکردگی کی وجہ سے اب عوام جمہوریت سے مایوس ہو رہے ہیں اور عوام اب نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔   

مزید :

کالم -