سپریم کورٹ تفصیلی فیصلہ دہری شہریت کے حامل ارکان پارلیمینٹ پر دائمی نااہلی کی تلوار لٹک گئی

سپریم کورٹ تفصیلی فیصلہ دہری شہریت کے حامل ارکان پارلیمینٹ پر دائمی نااہلی ...
سپریم کورٹ تفصیلی فیصلہ دہری شہریت کے حامل ارکان پارلیمینٹ پر دائمی نااہلی کی تلوار لٹک گئی

  

سپریم کورٹ نے پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی دہری شہریت کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے 20 ستمبر 2012ءکو اس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تھا جس کے تحت 11 ارکان پارلیمینٹ دہری شہریت کے حامل ہونے کی بناءپر نااہل قرار پائے تھے جبکہ وزیر داخلہ کی نااہلی کا ریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بھیج دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس تفصیلی فیصلے کے ساتھ بینچ کے ایک فاضل رکن مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اضافی نوٹ بھی دیا ہے جس میں دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کے الیکشن لڑنے پر پابندی سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63 (1) سی کے پیچھے آئین سازوں کی کارفرما دانش اور سوچ پر بھی بحث کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ دہری شہریت کے حامل افراد پر پابندی آئین نے لگائی ہے۔ سپریم کورٹ نے تو محض متعلقہ آرٹیکل 63 (1) سی کی تشریح کرکے مناسب احکامات جاری کئے ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے اضافی نوٹ میں اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ 1956ءاور 1962ءکے دساتیر میں دہری شہریت کے حامل افراد کے رکن پارلیمینٹ بننے پر پابندی کیوں عائد نہیں کی گئی تھی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ تب شہریت ایکٹ کے تحت کسی پاکستانی کو دہری شہریت رکھنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ آئینی طور پر رکن پارلیمینٹ کے لئے پاکستانی شہری ہونا ضروری تھا، اس لئے دوسرے ملک کی شہریت کا حامل 1956ءاور 1962ءکے دساتیر کے تحت بھی رکن پارلیمینٹ نہیں بن سکتا تھا۔ 1972ءمیں متعلقہ قانون میں ترمیم کرکے دہری شہریت کی اجازت دی گئی لیکن اس کے ساتھ ہی 1973ءکے آئین میں دہری شہریت رکھنے والوں کو پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا۔

یہ بات بھی دوررس نتائج کی حامل ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں ارکان پارلیمینٹ کے حلف نامے کا بھی ذکر کیا جو وہ اٹھانے کے آئینی طور پر پابند ہیں اور جس کی عبارت آئین کے جدول سوم میں دی گئی ہے۔ حلف نامے کے مطابق ارکان پارلیمینٹ پاکستان کے آئین کی پاسداری اور تحفظ کا اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہیں۔ آرٹیکل 63 (1) سی کے تحت نااہل دہری شہریت کے حامل ارکان پارلیمینٹ یہ حلف اٹھانے کے بعد کس طرح صادق اور امین یا پارسا اور سمجھدار کہلوا سکتے ہیں؟ یوں ایسے لوگ آئین کے آرٹیکل 62 (1) ایف کے تحت دائمی نااہل قرار پاتے ہیں۔

تفصیلی فیصلے سے اس بات کے اشارے بھی ملتے ہیں کہ وفاق کی طرف سے اس مقدمے میں مناسب تعاون کا فقدان رہا جیسا کہ فاضل بینچ نے 27 مارچ 2012ءکو اٹارنی جنرل سے توقع ظاہر کی تھی کہ وہ دہری شہریت کے حامل ارکان پارلیمینٹ کے بارے معلومات حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کریں گے لیکن اس توقع کو پورا نہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دہری شہریت کیس میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے 20 ستمبر 2012ءکو مختصر فیصلہ سنائے جانے کے بعد بھی کئی ارکان اسمبلی کی دہری شہریت کا معاملہ سامنے آیا اور انہیں مستعفی ہونا پڑا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمینٹ کے ارکان سے نیا بیان حلفی لیں کہ وہ دہری شہریت کے حامل اور آرٹیکل 63 (1) سی کے تحت نااہل نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمینٹ کے ارکان کے معاملہ کا اس ضمن میں فرداً فرداً جائزہ لینے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اس حکم پر کسی کو اعتراض بھی ہو تو اس پر عملدرآمد کرنا پڑے گا جب تک کہ سپریم کورٹ پر حکم واپس نہ لے لے۔ آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت پاکستان الیکشن کمیشن اور ملک کی تمام انتظامیہ و عدلیہ پر سپریم کورٹ کا حکم ماننے اور اس کی معاونت کرنے کی پابندی عائد ہے جبکہ آرٹیکل 220 کے تحت الیکشن کمیشن کا حکم ماننے سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے ان درخواستوں کی سماعت کے حوالے سے دائرہ اختیار کا بھی تعین کیا گیا ہے اور مختلف عدالتی نظائر سے ثابت کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 102 کے تحت بھارت میں بھی دہری شہریت کا حامل پارلیمینٹ یا کسی اسمبلی کا رکن نہیں بن سکتا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے ایک چیز یہ بھی ابھر کر سامنے آئی ہے کہ دہری شہریت کے حامل افراد موجودہ پارلیمینٹ اور اسمبلیوں کی رکنیت کے لئے تو نااہل ہیں ہی، وہ مستقبل میں بھی آئین کے آرٹیکل 62 (1) ایف کی زد میں آئیں گے۔ یہ دائمی نوعیت کی نااہلی ہے جو ایسے لوگوں کے لئے مختص ہے جو پارسا اور صادق و امین نہیں ہیں۔ اس فیصلے کا اطلاق ایسے افراد کے سیاسی مستقبل پر بھی منفی اثرات ڈالے گا جو ماضی میں بھی دہری شہریت کے باوجود رکن پارلیمینٹ رہے اور آئین کی پاسداری و تحفظ کا جھوٹا حلف اٹھا کر صادق اور امین لوگوں کی صف سے نکل گئے، ایسے لوگ دوسرے ملک کی شہریت چھوڑ بھی دیں تو آرٹیکل 62 (1) ایف کے تحت ان پر نااہلی کی تلوار لٹک گئی ہے۔

مزید :

تجزیہ -