ڈاکٹرنظام الدین کاتعلیمی وژن

ڈاکٹرنظام الدین کاتعلیمی وژن

اگرتاریخ کے اوراق پلٹیں تویہ بات کھل کرسامنے آتی ہے کہ کسی بھی قوم کی فکری ترقی میں ذہین شخصیتیں اہم کرداراداکرتی ہیں۔یہی وہ محترم شخصیتیں ہیں جنہوں نے انسانی فکرکوایسی جہتوں سے روشناس کرایا،جنہوں نے آگے چل کرزمانے کی کایاہی پلٹ دی۔ انہی شخصیات کوتاریخ نے عہدساز کے ٹائٹل سے پکارا۔اسی فہرست میں ایک معتبرنام ڈاکٹرپروفیسرمحمدنظام الدین کابھی ہے۔

جب یونیورسٹی آف گجرات کاقیام عمل میں لایاگیاتوتواس کے آغازہی میں یہ کہاجانے لگاکہ حکومت کایہ خواب شرمندہ تعبیرنہ ہوگا۔اور ویرانے میں مشکل سے ہی علمی بہارآسکتی ہے۔لیکن گجرات کے باسیوں کی یہ خوش قسمتی ٹھہری کہ کہ یونیورسٹی آف گجرات کی ڈرائیونگ سیٹ ڈاکٹرپروفیسرمحمدنظام الدین نے سنبھالی،اورانہوں نے آٹھ برس کی قلیل مدت میں اس یونیورسٹی کوپنجاب کاایک چمکتاہواستارہ بنادیا، اوراسکی روشنی سے گجرات کے آس پاس کے شہر، گوجرانوالہ،سیالکوٹ، نارووال، آزاد کشمیر اور وزیرآبادبھی فیض یاب ہونے لگے۔آپ شبانہ روز محنت اوراپنے تعلیمی وژن سے اس یونیورسٹی کوٹاپ ٹین یونیورسٹیوں کی فہرست میں لے آئے۔انہوں نے اپنے وژن کے مطابق یونیورسٹی کوایک مرکز فروغ تعلیم ہی نہیں بلکہ ایک حقیقی دانش گاہ بنادیا۔جہاں کی جانے والی تحقیق ملک بھرمیں ایک اعلیٰ اورمستندمقام رکھتی ہے۔

ڈاکٹرپروفیسرمحمدنظام الدین نے دوہزارچھ میں جب یونیورسٹی کاانتظام سنبھالاتواسکی ابتدائی عمارتوں کی تعمیرکی جارہی تھی۔انہوں نے یونیورسٹی جائن کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال سے راہنمائی طلب کی۔ اقبال کاکہناتھا،

 جہانِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

انہوں نے لاہوراوراسلام آباد کے درمیان اس خطے میں ایک ایساتعلیمی انقلاب برپاکیا،کہ جامعہ گجرات دیکھتے ہی دیکھتے سنگ وخشت کے جہان سے نکل کرایک جدیددانش گاہ کاروپ دھارگئی۔یہ آپ کے افکارتازہ ہی کاکرشمہ تھا،کہ اس ویرانے میں ایک جہاں تازہ پیدا ہو گیا۔ ڈاکٹرنظام الدین کے تعلمی وژن میں چارچیزیں اہم رہیں۔اول جدیدتعلیم،دوئم پروفیشنل تربیت یافتہ اساتذہ ، سوئم اطلاقی تحقیق اورعلم نافع۔ان کاکہناہے ایسے علم کاکوئی فائیدہ نہیں جوافراداورقوموں کوفائیدہ نہ پہنچائے اس نقطے کوسامنے رکھتے ہوئے انہوں نے اساتذہ سے فرداً فرداً اور اجتماعی ڈائیلاگ کیااورانہیں کالج اوریونیورسٹی کے درمیان فرق بتایاکہ کالجوں میں تعلیم دی جاتی ہے جبکہ یونیورسٹی علم تخلیق کرتی ہے اورتحقیق کے ایسے دروازے کھولتی ہے جوقوموں کومنزل مرادتک لے جاتے ہیں۔ ڈاکٹرنظام الدین نے اپنے وژن کے مطابق ،اساتذہ اورمحققین کی ایک ٹیم تشکیل دی تاکہ وہ اپنے خواب کی ایک مقررہ مدت میں تعبیرحاصل کرسکیں۔ انہوں نے علم کی ترویج کے ساتھ ساتھ اسکے عملی اطلاق پربھی زوردیا۔

ڈاکٹرنظام الدین نے اساتذہ اورطلباکا ذہنی افق وسیع کرنے کے لئے یونیورسٹی میں عالمی، علاقائی اورقومی سطع کی درجنوں کانفرنسیں اورڈائیلاگ کرائے۔یونیورسٹی آف گجرات طلبا،طالبات کی خفتہ صلاحیتوں کو بیدارکرنے کے لئے مختلف بین الااقوامی اورقومی شخصیات کومدعوکرچکی ہے۔یونیورسٹی میں طلبا،طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداداس بات کی غمازہے کہ یونیورسٹی میں تعلیم وتحقیق درست سمت کی طرف رواں دواں ہے۔طلبا میں ہم نصابی مشاغل کو فروغ دینے کے لئے جامعہ گجرات میں کانفرنسیں، سیمینار اور ورکشاپ اورعلمی ادبی محفلیں بپاکرناایک معمول ہے۔ جس سے ایک طرف توطلباکی علمی پیاس بجھتی ہے تودوسری طرف نوخیزذہنوں کی آبیاری بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی کوصرف گجرات تک ہی محدودنہ رہنے دیابلکہ وزیراعلیٰ کے وژن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اسکے کیمپس لاہوراورسیالکوٹ میں بھی قائم کئے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس کے سب کیمپس نارووال ، راولپنڈی اورچکوال میں بھی یونیورسٹی کے سب کیمپس قائم کئے،جس سے یونیورسٹی آف گجرات کی علم کی کرنیں اب پورے صوبے کوروشن کررہی ہیں۔

ڈاکٹرمحمدنظام الدین کاشماروطن عزیزکے ان چیدہ ماہرین میں ہوتاہے جواپناتن من دھن سبھی کچھ وطن عزیز کی ترقی کے لئے قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ان کے دل میں قوم کادردہے ،اسی لئے وہ بیرون ملک کی پرآسائش ملازمت اورآسودہ زندگی چھوڑ کر وطن لوٹ آئے تھے۔ وطن سے محبت ہی انہیں اٹھارہ ، اٹھارہ گھنٹے کام پرمجبورکرتی ہے۔ ڈاکٹر پروفیسرمحمد نظام الدین جیسی قدآورعلمی شخصیت کی تعلیمی خدمات اورانکے تعلیمی وژن کودیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کوچاہئے کہ ان کی علمی خدمات سے فائیدہ اٹھائیں تاکہ ایسے گوہرنایاب کوضائع ہونے سے بچایاجاسکے ۔پنجاب حکومت انہیں تعلیمی مشیربھی مقرر کر سکتی ہے اورپھر انہی کی قیادت میں پنجاب کا ہائیرایجوکیشن کمیشن بھی تشکیل دیا جا سکتاہے۔

اگراس دھرتی کے لوگوں کی خواہش دیکھی جائے ، جہاں ڈاکٹرنظام الدین نے تعلیمی انقلاب برپاکیاہے تو ان کاکہناہے کہ ڈاکٹرپروفیسرمحمدنظام الدین کویونیورسٹی آف گجرات میں ہی ایک اوردورانیہ تفویض کر دیا جائے، تاکہ یونیورسٹی کی ترقی کی رفتاررکنے نہ پائے اورانہوں نے اپنے ہاتھوں سے جس پودے کوسینچاہے وہ ایک ایسا تناور درخت بن جائے جس کی چھترچھاو¿ں سے پورے پنجاب کے ہی نہیں،بلکہ پورے پاکستان کے طالب علم فیضیاب ہوسکیں۔

مزید : کالم