ایجوکیشن بورڈ توجہ دے!

ایجوکیشن بورڈ توجہ دے!
ایجوکیشن بورڈ توجہ دے!

  

چند سال پہلے سکینڈری اینڈ انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن بورڈ لاہور نے امتحانات کے نتائج وقت پر لانے کے لئے سینٹر مارکنگ کروانے کا اہتمام کیا۔اس فیصلہ کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا۔امتحانات بھی وقت پر منعقد ہونے لگے اور رزلٹ آنے میں تاخیر کا امکان بھی معدوم ہو گیا۔ پچھلے سسٹم میں جوابی کاپیاں اساتذہ کرام گھروں میں بیٹھ کر چیک کرتے اور مارکنگ کا معیار قدرے بہتر رہتا، کیونکہ ایگزیمینرز کو ایک ماہ کاعرصہ دیا جاتا تھا، لیکنکچھ لوگ کاہلی سے کام لیتے اور بورڈ والے اُنہیں وارننگ بھیجتے بھیجتے تھک جاتے۔ اُدھر حکومت بورڈ کے حکام پر دباﺅ ڈالتی کہ رزلٹ بروقت سامنے آنا چاہیے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ فیصلہ ہوا کہ اب اساتذہ کرام کو بورڈ کے دفتر یا دفتر سے باہر کسی بھی جگہ بلوا کر مقررہ دنوں کے اندر اندر ان سے مارکنگ کروا لی جائے۔

سنٹر مارکنگ میں مارکنگ کا معیار بہتر رکھنے کے لئے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کسی بورڈ کے سائنس کے پرچے اس کے دائرہ کار میں نہیں دیکھے جائیں گے، بلکہ کسی دوسرے بورڈ کو بھیجے جائیں گے۔ مقصد یہ تھا کہ کوئی امیدوار ذاتی اپروچ سے مارکنگ میں گڑ بڑ نہ کروا سکے۔ یہ بھی طے ہوا کہ ہر ممتحن روزانہ پرچوں کی ایک متعین تعداد ہی مارک کرے، تاکہ لاپروائی اور جلد بازی سے کسی امیدوار سے مارکنگ میں زیادتی نہ ہو جائے۔اس کے ساتھ ساتھ سب ایگزیمینرز پر ہیڈ ایگزیمینرز بھی تعینات کئے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ جہاں جہاں کوئی ممتحن بے ضابطگی سے کام لے، اس کو ٹوک دے۔عملی سطح پر سنٹر مارکنگ کا فیصلہ بہتر ہی معلوم ہونے لگا، لیکن اس سے ممتحنین حضرات میں ایک منفی رجحان بھی فروغ پانے لگا، وہ یہ تھا کہ ممتحنین مارکنگ میں بے احتیاطی برتنے لگے۔ مثلاً ایگزیمینر کی خواہش ہوتی کہ وہ روزانہ پرچوں کی متعینہ تعداد سے زیادہ پرچے چیک کرے۔ بورڈ کے حکام نے صرف اس مقصد سے اس بے ضابطگی سے آنکھیں بند کر لیں کہ پرچے جتنی جلدی مارک ہوں گے، اتنی جلدی رزلٹ بروقت لانے میں سہولت ہو گی۔ آہستہ آہستہ طلباءبرادری کو شکایت ہونے لگی کہ مارکنگ کرتے ہوئے احتیاط اور توجہ سے کام نہیں لیا جاتا۔اچھے بھلے صحیح جوابات لکھنے والے فیل ہونے لگے یا انہیں بعض پرچوں میں اتنے کم نمبر ملتے کہ وہ سر پیٹ کر رہ جاتے۔ مثلاً امیدوار تین مضامین میں80فیصد سے اوپر نمبر لیتا ہے، لیکن باقی پرچوں میں وہ بمشکل پاس ہوتا ہے یا فیل ہی ہو جاتا ہے۔بورڈ نے ایسی شکایات کا حل یہ نکالا کہ متاثرہ امیدوار کو موقع دیا کہ اگر اسے کسی پرچے میں بے اطمینانی ہو تو وہ مقررہ فیس جمع کروا کر باقاعدہ درخواست دے کہ اس کا فلاں پرچہ نکلوا کر دیکھا جائے کہ ممتحن کہیں ٹوٹل کرنے میں تو غلطی نہیں کر گیا یا کوئی جواب چیک ہونے سے رہ گیا ہے۔ایسی غلطی ثابت ہو جاتی تو بورڈ اس غلطی کا ازالہ کرتا۔البتہ شکایت کنندہ کو بتا دیا جاتا کہ پرچے کی مارکنگ پر نظرثانی قطعاً نہیں ہو گی۔ کسی سوال کے جواب پر جو نمبر ایک دفعہ لگ گئے،انہیں چیلنج کرنا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ یہ دروازہ نہیں کھولا جا سکتا۔ اپنی جگہ یہ فیصلہ ہے تو درست کیونکہ اگر کوئی پرچہ ری مارک ہونے لگے تو بے شمار امیدواران شکایات کے پلندے لے کر بورڈ پر چڑھ دوڑیں۔

اب صورت حال یہ ہے کہ پرچہ نکلوانے کے شکایت کنندگان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہونے لگا ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق امسال ایسے شکایت کنندگان کی تعداد غیر معمولیہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ممتحن حضرات مارکنگ کے معاملے میں توازن برقرار نہیں رکھ رہے۔عام طور پر یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ سائنس کے مضامین کے امیدواران بے حد محنت سے تیاری کرتے ہیںان کی منزل انجینئرنگ یونیورسٹی ہوتی ہے یا میڈیکل کالج۔ جب ان کو کسی پرچے میں بے حد کم نمبر ملتے ہیں تو ان کے ذہن کھولنے لگتے ہیں، انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگتا ہے۔سننے میں آیا ہے کہ اس دفعہ کوئی 200 امیدواران نے مشترکہ طور پر درخواست دی ہے کہ ان کے پرچوں کو نکلوا کر بغور دیکھا جائے، انہیں نتائج پر قطعاً اطمینان نہیں ہے۔

بورڈ کے حکام کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے،جو ممتحنین پرچوں کی مارکنگ میں توازن ملحوظ نہیں رکھتے یا غیر معمولی غفلت سے کام لیتے ہیں، انہیں ڈس کوالیفائی کیا جائے، تاکہ آئندہ ایسی شکایات بند ہو جائیں۔ جن طلباءکے ساتھ مارکنگ میں زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ کیا جائے، ہماری قومی ترقی کا انحصار سرا سر نئی نسل کی کارکردگی پر ہے، اگر وہ مایوس ہونے لگے اور اس کی شکایات پر منتظمین روائتی سستی سے کام لیں گے، تو پھر ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ لینا چاہیے! ٭

مزید : کالم