مٹی پاﺅ!

مٹی پاﺅ!
 مٹی پاﺅ!

  

 وزیر اعظم جناب نوازشریف کا تازہ ترین بیان ہے کہ ”قومی خزانے میں ورد برد حرام سمجھتے ہیں“وزیر اعظم کا بیان تشنہ ہے۔ سمجھ نہیں آئی کہ وہ صرف ذاتی طور پر ہی ایسا ”سمجھتے“ ہیں یا اس کے آگے بھی ان کے کچھ ارادے ہیں۔ ”سمجھتا“ تو وہ ہے جو ہم جیسا بے اختیار ہے ۔ وزیراعظم تو مقتدر ہستی ہیں ۔ ان کا اس قسم کا بیان اگرہوتاکہ،” قومی خزانے میں خوردبرد حرام ہے، نہ خود کریں گے اور نہ کسی کو کرنے دیں گے“ تو ہم انہیں سنجیدہ جانتے۔۔۔۔ ویسے سچی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے اس بیان کو ہم نے کالم کا موضوع توبنا لیا ہے ،لیکن اگر سروے کیا جائے تو عوام میں سے کسی نے بھی اسے سنجیدہ نہیں لیا ہوگا ،کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جلسوںمیں سب سیاست دان اور حکمران ایسا ہی کہتے ہیں، لیکن یہ بات عملی طور پر نظر نہیں آتی ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہی نظر آتا ہے کہ شروع ہی سے حکمرانوں نے خزانے کو قومی نہیں ،بلکہ اپنا ذاتی خزانہ ہی سمجھا ہے ۔ معدودے چند ہی حکمران ایسے نظر آتے ہیں، جنہوں نے عملی طور پر بتا یا ہے کہ ”خزانے میں خورد برد حرام ہے“

حضرت عمرؓ کا واقعہ تو آپ جانتے ہی ہوںگے کہ مسجد میں عوام کو اپنی قمیض کے کپڑے کا حساب دے رہے ہیں کہ بیٹے نے اپنے حصے کاکپڑا بھی دیا تویہ قمیض بنی۔ حضرت علیؓ کے دور میں ان کے سگے بھائی حضرت عقیل ؓان کے پاس آئے کہ مجھ پر اتنا قرض ہوگیا ہے، میری مدد فرمائیے ۔ حضرت علی ؓ نے جواب میں فرمایاکہ جتنا آپ کا قرض ہے، اتنی میری سکت نہیں ۔ بھائی نے بیت المال یعنی قومی خزانے کی طرف اشارہ کیاتو آپ نے فرمایا کہ یہ عوام کی امانت ہے، میں اس میں خیانت نہیں کرسکتا۔ یہ واقعہ ہر اسلامی تاریخ میں درج ہے کہ حضرت علیؓ نے بھائی کو ناراض کرلیا، لیکن خزانے میں ”خوردبرد“ نہیں کی۔بنو امیہ کے سبھی خلفاءنے قومی خزانے کو ذاتی بنا لیا تھا، مگر ان میں سے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کانام دیانت کی وجہ سے تاریخ میں سنہرے حروف سے جگمگا رہا ہے ۔ حضرت امام حسین ؓ کے پوتے جناب محمد بن علی سے عمر بن عبدالعزیز ؒکی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایاکہ وہ بنی امیہ کے نجیب ہیں اور قیامت کے دن وہ بصورت امت واحدہ اٹھیں گے (حوالہ تاریخ الخلفاءاز علامہ سیوطیؒ)۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز جب تک سلطنت کے کاروبار میں مشغول رہتے ، اس وقت تک شاہی لیمپ جلتا رہتااور جب آپ فارغ ہوجاتے تو اسے بجھا کر اپنا مٹی کا چراغ جلا لیتے ۔ ایک دن اپنے غلام کو کہاکہ پانی گرم کر لاﺅ۔ وہ آیا تو پوچھا کیسے گرم کیا تو اس نے کہا کہ شاہی باورچی خانہ سے ۔ آپ ناراض ہوئے اور ایک درہم کی لکڑیاں شاہی باورچی خانہ پہنچا دیں ۔ ان کے غلام نے ایک دن ان کی زوجہ سے شکایت کی کہ مسور کی دال کھا تے کھاتے ناک میں دم آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے آقا کا بھی روز کا یہی کھانا ہے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒصرف ڈھائی سال خلافت کرنے کے بعد39سال کی عمر میں بنو امیہ ہی کے ہاتھوں زہر خورانی کے باعث شہید ہوئے، کیونکہ بنو امیہ نے بذریعہ غصب جو کچھ جمع کیا تھا،وہ سب کچھ ان سے سختی کرکے واپس لے لیا گیا تھا۔

بنو امیہ کی طرح بنو عباس نے بھی قومی خزانے کو ذاتی جاگیر کی طرح استعمال کیا، لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی طرح ان کے بھی ایک خلیفہ کانام عدل و احسان اور دیانت کی بدولت تاریخ میں زندہ ہے ۔ ناصر الدین الظاہربااﷲ 622 ہجری میں باون سال کی عمر میں خلیفہ بنا۔نہایت عادل اور نیک نہاد خلیفہ تھا۔رعایا پر احسان کرتا تھا۔عوام پر تمام غیر ضروری ٹیکس ختم کر دئیے گئے اور جمع خزانے عوام کی بہبود پر خرچ کئے جانے لگے۔ اس وقت کے” اسحاق ڈار“ یعنی خزانچی نے اس پر اعتراضات کئے تو خلیفہ نے جواب دیا، جمع کرنا تاجروں کا کام ہے۔ عوام کا مال عوام پر ہی خرچ ہونا چاہئے ۔ایک دفعہ اس سے کہا گیا کہ جتنا مال آپ عوام پر خرچ کرتے ہیں، کوئی نہیں کرتا ۔بولا میں نے عصر کے وقت دکان کھولی ہے، مجھے نیکی کرنے دو، میں کب تک زندہ رہوں گا۔ اس نیک انسان کی یہ بات بھی درست تھی623 ہجری میںصرف نوماہ کی مدت خلافت کے بعد یہ اپنے رب کے حضور پیش ہوگیا۔اس کے متعلق ابن اثیر لکھتے ہیں کہ جب الظاہر خلیفہ ہوا تو اس نے لوگوں پر ایسا عدل و احسان کیا کہ لوگوں کو حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت عمرؓ کا زمانہ یاد آگیا۔

 برصغیر کی تاریخ بھی حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ سے بھر ی پڑی ہے۔ عوام کے پیسے سے بیگم کا مزار یعنی تاج محل بنایا جارہا ہے۔ بھئی ضرور بناﺅ ،مگر اپنے ذاتی خزانے سے۔ اختیار ہو تو سرکاری خزانے سے ہر کوئی اپنی بیگم کے لئے تاج محل بنا دے ۔ ہم بھی کم نہ کریں،بلکہ بیگم ہی کیوں ،اپنے لئے ہی ایک ایڈوانس تاج محل بنا چھوڑیں گے تاکہ مرنے کے بعد یار دوست ہمیں اس میں گھسیڑ دیں۔ (شکر ہے کہ اﷲنے ہمیں بے اختیار رکھا ہے)۔ بہرحال برصغیر کی تاریخ میں بھی ہمیں ایک روشن ستارہ دکھائی دیتا ہے ۔

ناصر الدین محمودکی بحثیت بادشاہ 10 جون 1246ءکو دہلی میں تاج پوشی کی گئی ۔ نہایت قابل، ہردلعزیزاور فیاض بادشاہ تھا۔ اس نے ہندوستان پر بیس سال مضبوطی اور طاقت کے ساتھ حکومت کی۔اس کی فتوحات بہت تھیں اور ملکی خزانے کو اس نے اموال غنیمت سے بھر دیا تھا،لیکن اس کی زندگی اور عادات نہایت سادہ تھیں۔وہ کسی قسم کی سرکاری تنخواہ یا خزانے سے ذاتی مصارف کے لئے کوئی رقم نہیں لیتا تھا۔ قرآن پاک کی کتابت کرکے روزی کماتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھاکہ جو آدمی یہ نہیں جانتاکہ روٹی کس طرح کمائی جاتی ہے،وہ اس کا حق دار نہیں ہوسکتا۔اپنے آباﺅ اجداد کے برعکس اس نے کوئی حرم نہیں بنایااور نہ ہی لونڈیوں اورکنیزوں کی فوج اکٹھی کی، بلکہ اس کی صرف ایک ہی بیوی تھی۔ اکیلی ہی سے وہ اپناگھریلو کام کرنے کو کہتاتھا۔ جب ایک موقع پراس نے شکایت کی کہ آپ کے لئے روٹی پکاتے ہوئے میری انگلیاں جل گئی ہیں۔ اس لئے مدد کے لئے اسے ایک کنیز کی ضرورت ہے ،لیکن بادشاہ نے اس کی درخواست منظور نہ کی، بلکہ اسے ثابت قدم رہنے کی تلقین کی اور کہاکہ یہ سب اختیار کرنے کے عوض اسے قیامت کے روز اس کا اجر ملے گا۔ اسے یہ بھی بتایا کہ سرکاری دولت اس کے پاس اس کی رعایا کی امانت ہے، جو اﷲتعالیٰ نے اسے دی ہوئی ہے اور وہ اس بات کا پابند ہے کہ اس دولت کو بلاضرورت اخراجات پر خرچ نہ کرے۔

بات وزیراعظم کے بیان کے حوالے سے شروع ہوئی تھی۔ اﷲتعالیٰ نے انہیں تیسری بار موقع دیا ہے پھر اور کوئی موقع شائد نہ ملے ۔ اگر انہوں نے سنجیدگی سے یہ بات کی ہے تو ان کو چاہئے کہ احتساب کا کوئی مربوط نظام قائم کرجائیں تاکہ خزانے میں کوئی خوردبرد کرنا چاہے بھی تو نہ کرسکے۔ اب تک جو چل رہا ہے وہ ”مٹی پاﺅ“نظام ہے۔ پچھلی حکومت نے جو کیا ہوتا ہے۔ اس پر اگلی حکومت آکر ”مٹی پا“ دیتی ہے تاکہ اگلی بار وہ بھی حکومت میں آکر اس کے ”کارناموں“ پر ”مٹی پا“ دے۔

دوستو، آپس کی بات ہے کہ کسی کالم سے متاثر ہوکر کسی حکمران نے کبھی کوئی تبدیلی نہیں کی ۔درجنوں کالم روز چھپتے ہیں، ان کے پاس اپنے وزیروں کے لئے بھی چند منٹ نہیں ہوتے وہ ”بے چارے“ بھی ”بقول وہ خود“ ملاقات کے لئے کئی کئی ماہ انتظار کرتے ہیں ، وہ کہاں ایسے کالم پڑھتے ہیں ۔اس لئے بے فکر رہیں یا بافکر رہیں، ہونا کچھ بھی نہیں۔ یہ کالم ہم نے اپنے ”کتھارسس“ کے لئے لکھا ہے، اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے ۔ سو، دوستوآرام کرواور ان باتوں، خیالوں اور خوابوںپر ”مٹی پاﺅ“.... بلکہ ہمارے اس کالم پر بھی ”مٹی پاﺅ“ ۔

مزید : کالم