انقلاب کی قیمت اور نئی رکاوٹیں

انقلاب کی قیمت اور نئی رکاوٹیں
انقلاب کی قیمت اور نئی رکاوٹیں

  

عملی سیاست میں دوبارہ حصہ لینے کے اعلان کے بعد فیصل آباد میں اپنے پہلے بڑے جلسے کی کامیابی سے سرشار، پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے واضح کر دیا ہے کہ انقلاب کی منزل تک پہنچنے کے لئے سارے کام وہ خود نہیں کریں گے، بلکہ انقلاب کے شیدائیوں کو بھی اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں ڈاکٹر طاہر القادری نے بتا دیا کہ عوام کو انقلاب کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انہوں نے یہ بات بھی بتا دی کہ انقلاب کے شیدائی نوٹ، سپورٹ اور ووٹ دینے کے لئے تیار ہیں اور اگلے تین چار ماہ میں الیکشن کا مرحلہ آ سکتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ انقلاب کے شیدائیوں نے اپنے حصے کا کام (نوٹ، سپورٹ اور ووٹ) نہ کیا تو انقلاب کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں ہو گا، لہٰذا ان کے معتقدین اور انقلاب کے شیدائی کسی خوش فہمی میں نہ رہیں اور اپنے حصے کے کام پر بہت زیادہ توجہ دیں اور یہ مت سوچیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب کا تحفہ ، اپنی تنہا جدوجہد سے، ان کی جھولی میں ڈال دیں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری اس سے پہلے بھی ”دھرنا لیکچرز“ میں اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ انقلاب کی منزل محض قیادت کی جدوجہد سے حاصل نہیں ہو گی، اس کے لئے عوام کو بھی باہر نکل کر اپنے حِصے کام کرنا ہو گا۔ لوگ بیدار ہو کر گھروں سے باہر نکل کر اُن (ڈاکٹر طاہر القادری) کے انقلابی پروگرام کو گھر گھر پہنچائیں۔ فی الحال تو انقلاب کے شیدائی نوٹ دیں، وقت آنے پر ووٹ دینے کے لئے بھی تیار رہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جب ”سیاست نہیں ریاست بچاﺅ“ اور ”چہرے نہیں نظام کو بدلو“ کے نعروں کے ساتھ اپنی انقلابی تحریک کا اعلان کیا تھا، تو انہیں بعض حلقوں کی طرف سے (میڈیا سمیت) یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ نادیدہ قوتوں پر انحصار کرنے کی بجائے انتخابی عمل میں کامیابی حاصل کر کے نظام تبدیل کرنے کے لئے جدوجہد کریں، لیکن اس مشورے کو ڈاکٹر طاہر القادری نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے طے شدہ پروگرام پر عمل درآمد کو اہمیت دی۔ دو ماہ تک کامیاب دھرنے کے عمل سے گزرتے ہوئے انہوں نے بالآخر اپنی جدوجہد میں انتخابی کامیابی کو شامل کیا اور اپنے پہلے بڑے اور کامیاب جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو صاف صاف بتا دیا کہ انہیں نوٹ، سپورٹ اور ووٹ کی ضرورت ہے۔ ان کے بغیر انقلاب کی منزل تک پہنچنے کا خواب شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو گا۔ فیصل آباد جلسے میں شرکا کی بہت بڑی تعداد کو دیکھ کر ڈاکٹر طاہر القادری نے سجدہ¿ شکر ادا کیا اور پھر دونوں پھیلا کر اپنے سر کو ممنونیت سے جھکا کر حاضرین کا بھی شکریہ ادا کیا، جبکہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بار بار فتح کا نشان ”وی“ بنایا۔

تاریخی جدوجہد میں عوام کی تائید اور حمایت انتہائی ضروری ہُوا کرتی ہے۔ وقت اور مرحلہ وار کامیابیوں کے ساتھ عوامی تائید اور حمایت کی ضرورت بڑھتی رہتی ہے، لہٰذا ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے ”سپورٹ“ کی ڈیمانڈ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اِسی طرح ”نوٹ“ کا مطالبہ بھی درست ہے کہ طویل دھرنے کے بعد سیاسی جلسوں کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری کو مالی وسائل اکٹھے کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے عقیدت مندوں اور پیرو کاروں نے کسی بھی مرحلے پر مالی وسائل مہیا کرنے سے انکار نہیں کیا۔

اندرون ملک ہی نہیں، بیرون ملک بھی ان کے عقیدت مندوں اور پیرو کاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو اپنے پیروکاروں اور عقیدت مندوں سے بہت زیادہ رقوم پاکستان بھجوانے کی اپیل کریں گے اور غیر ملکی قرضے ادا ہو سکیں گے۔ انہوں نے مالی وسائل اکٹھے کرنے کے لئے پورے ملک کا دورہ کرنے کے علاوہ بیرون ملک جا کر بھی مالی عطیات وصول کرنے کا پروگرام بھی بنایا ہے۔

آخری مرحلے میں ڈاکٹر طاہر القادری نے ”ووٹ“ کی ڈیمانڈ کی ہے کہ اُن کے خیال میں بہت جلد ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آنے والا ہے۔ اگرانہیں سپورٹ اور نوٹ کے بعد مطلوبہ تعداد میں ووٹ بھی مل گئے، تو پھر ڈاکٹر طاہر القادری کا خوابِ انقلاب، شرمندہ¿ تعبیر ہو سکے گا۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی کامیابی، میدانِ سیاست میں موجود نئی اور پرانی قوتوں کے لئے قابل ِ قبول ہو گی؟ جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری اپنے دھرنے کی کامیابی سے یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے، اِسی طرح اب عمران خان بھی خود کو مقبول ترین لیڈر قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن تو پچھلے کئی ماہ سے ”وزیراعظم عمران خان“ کا نعرہ پورے اعتماد سے لگا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا گراف چاہے جتنا بھی نیچے ہو، آصف علی زرداری اور اُن کے ساتھی آج بھی پیپلزپارٹی کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی قرار دیتے ہیں۔

انہیں امید ہے کہ اقتدار میں پہنچنے کی اگلی باری پیپلز پارٹی کی ہو گی اور بلاول کو پارٹی کے علاوہ حکومتی معاملات چلانے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ(ن) والے اندرون اور بیرون ملک ”گو نواز گو“ کے نعرے سننے کے بعد بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اگلی باری بھی انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوگی اور ان کا دورِ اقتدار کم از کم دو تین سال تک تو چلتا رہے گا۔ ان حالات میں ڈاکٹر طاہرالقادری کس طرح اقتدار میں آنے کا سوچ سکتے ہیں؟

آنے والے دنوں میں جیسی بھی صورت حال ہو، ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کے پیروکاروں کو یقین ہے کہ اقتدار کا ہما، ان کے سر پر بیٹھے گا اور وہ اپنے انقلابی منشور اور پروگرام کی مدد سے ملک کو ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم بناتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے مقابلے میں عمران خان، آصف علی زرداری اور نواز شریف ہی ہیں۔ سراج الحق بھی ہوں گے کہ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اقتدار میں آنے کی اگلی باری جماعت اسلامی کی ہے، لہٰذا بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ڈاکٹر طاہر القادری اور اُن کے رفقاءکو کرنا پڑے گا۔ ہزاروں لغزشیں ہیں، لبوں تک جام آنے میں!!  ٭

مزید : کالم