غلطی کی گنجائش نہیں ہے

غلطی کی گنجائش نہیں ہے
غلطی کی گنجائش نہیں ہے

  

”عمران خان کے جلسے کی واہ واہ کیا بات ہے۔ لاکھوں لو گ اسے سننے کے لئے آتے ہیں۔ کوئی آواز سننے آتا ہے۔ کوئی ادائیں دیکھنے آتا ہے ، تو کوئی اپنا غم ہلکا کرنے آتا ہے “ ۔ دوسری سانس لئے بغیر گامو یہ سب کچھ کہہ گئے۔ ہاتھ میں لمبی لکڑی، سر پر گٹھری، جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ اس میں کیا ہے۔ آج پھر آدھمکے تھے قبل اس کے کہ مَیں کچھ کہتا وہ بول پڑے۔ ابھی میاں والی کے جلسے کا مزا ختم نہیں ہوا تھا کہ گنبدوں کے شہر ملتان میں بہت بڑا جلسہ کر دیا ۔ اس کا جھنڈا اونچا ہے۔ مشرف کے جھنڈے سے بھی اونچا ہے۔ مَیں سمجھ گیا کہ جھنڈا نہیں، ایجنڈا کی بات کر رہے ہیں۔ وہ مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے کو ہمیشہ جھنڈا ہی کہتے ہیں۔ بار بار کی اصلاح بھی ان کے کام نہیں آ سکی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ملتان میں البتہ مزا کر کرا ہو گیا۔ مَیں نے پو چھا کہ وہ کیسے ؟ کہنے لگے کہ دیکھا نہیں لوگ اپنا غم ہلکا کرنے آئے تھے، لیکن ان کا دم ہی نکل گیا۔ اتنے بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں۔ انہیں انتظامات کرنا نہیں آتے ہیں۔ یہ لوگ کیوں کر مارے گئے۔ بد انتظامی تھی۔ شاہ محمود اب بھلے انتظامیہ کو کوستا رہے، ان کی خامیاں گنواتا رہے،لیکن ساری خامی تو انتظامات میں تھی۔ شاہ محمود کا شہر تھا۔ اسے انتظامات پر توجہ دینا چاہئے تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ ان کا دل بھرا ہوا ہے۔ وہ بولتے رہے اور خوب بولے۔ جب جلسے میں بار بار کہا جاتا رہا کہ پانی بھیجیں اور ایمبولنس کا انتظام کریں تو شاہ محمود کو تقریر جاری رکھنے کی بجائے اس آواز پر کان دھرنا چاہئے تھا، لیکن ان پیروں اور میروں کو غریبوں کی کیا پرواہ۔ پارٹیاں تبدیل کرنے سے رویہ تبدیل ہوتا ہے نہ ہی خاصیت تبدیل ہوتی ہے۔ شاہ محمود جس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں پارٹی تبدیل کرنا معمول کی با ت سمجھی جاتی ہے ویسے ہی جیسے کسی کو اپنے جسم کے کپڑے تبدیل کرنا ہوتے ہیں۔ گامو نے ایک بار پھر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا۔

پاکستان تحریک انصاف اب تو18سال کی ہو گئی ہے۔ تنظیم ، نظم اور نکھار پن تو آجانا چاہئے تھا، لیکن وہ ابھی تک ان خوبیوں سے محروم نظر آتی ہے۔ عمران خان دعوےدار تو ہیں نئے پاکستان کے وزیراعظم بننے کے، لیکن وہ آج تک کپتان کے خول سے باہر نہیں نکلے ہیں اور لوگوں کو طرح طرح کے ہول میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ سیاست اور کرکٹ مختلف کھیل ہیں اور سیاست بھی پاکستان جیسے ملک کی جو لسانی بنیادوں پر بُری طرح تقسیم ہے، جہاں لوگ عبادت بھی فرقہ واریت کی بنیاد پر کرتے ہیں جیسے تیرا خدا کوئی اور ہے، میرا خدا کوئی اور یہاں قومی مسائل کو مقامی اور علاقائی پہلو سے دیکھا جاتا ہے اور علاقائی مسا ئل کو قومی مسائل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی سیاست میں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ذرا سی غلطی بڑے پچھتاوے کا سبب بن سکتی ہے اور کبھی معمولی سی بات اہمیت حاصل کر جاتی ہے۔ شاعر بہزاد لکھنوی درست ہی فرماتے ہیں: ”دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے، ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے“ ۔ملتان کے جلسے کا اختتام عمران خان کے آئندہ جلسوں پر اثرات مرتب کرے گا۔ گامو کا خیال ہے کہ ان کے آئندہ کے دو جلسوں میں حاضری کم رہے گی، کیونکہ لوگ اپنا غم ہلکا کرنے آتے ہیں، دم دینے کے لئے نہیں آتے ہیں۔

عمران خان کو کباڑ خانے سے مال نہیں خریدنا چاہئے۔ یہ کباڑ خانے کا مال اسے بہت مہنگا پڑے گا۔ یہ مال سستا ضرور ہوتا ہے، لیکن استعمال شدہ ہوتا ہے۔ اس کا پرزہ پرزہ ڈھیلا ہوتا ہے۔ یہ چلتے چلتے ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ گامو آج تقریر کے موڈ میں تھے۔ مَیں نے سوال کیا کہ کباڑ خانے کا ذکر کہاں سے نکل آیا ۔ کہنے لگے کہ یہ عمران خان کباڑ خانے میں کیوں داخل ہو گیا ہے۔ تمام استعمال شدہ کارتوس کیوں جمع کر رہا ہے۔ بھلا استعمال شدہ کارتوس کبھی کام بھی آئے ہیں، پھر انہوں نے ایک ایک نام گنوانا شروع کئے۔ یہ نام ان سیاست دانوں کے تھے، جو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پھر انہیں داخل کیا جارہا ہے۔ کہنے لگے کہ بھلا ملتان کے ضمنی انتخاب میں عامر ڈوگر کی مدد کیوں کی جارہی ہے۔ کباڑ ے کا مال ہے۔ خود تو استعفیٰ دے کر باہر آرہے ہیں اور انتخاب بھی لڑ رہے ہیں۔ مَیں نے کہا کہ میدان اس لئے نہیں چھوڑا کہ جاوید ہاشمی کی کامیابی گوارہ نہیں ہے۔ اگر ایسا تھا تو کھل کر مقابلہ کرنا چاہئے تھا اور اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہئے۔ اپنا امیدوار کم از کم نیا کارتوس تو ہوتا۔ استعمال شدہ کارتوس کیوں چلایا جا رہا ہے۔ یہ بھی شاہ محمود کی سیاست ہے کہ عامر کو مدد دیکر احسان کرنا ہے تاکہ آئندہ اپنے لئے بھی راستہ صاف ہو سکے۔

1970ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب کے اکثر حلقوں میں آزمودہ سیاست دانوں کی جگہ نئے لوگ امیدوار کی حیثیت سے متعارف کرائے تھے۔ کراچی کے بھی کئی حلقوں میں ایسا ہی کیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی چوں کہ ایوب خان کی موجودگی میں تشکیل پارہی تھی تو پاکستانی سیاست کے کھلاڑی ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی وفاداری کا یقین تو دلا رہے تھے، لیکن براہ راست شمولیت سے ہچکچا بھی رہے تھے۔ وہ لوگ ایوب خان اور ان کے گورنر ملک امیر محمد خان کالا باغ سے خوف زدہ تھے۔ 2013ءکے انتخابات کی طرح جیسے عمران خان کو یقین ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ شامل ہونے والے وہ افراد، جنہیں انتخابی سیاست کو کوئی تجربہ نہیں ہے، کامیاب ہو بھی سکیں گے یا نہیں۔

بھٹو کے ساتھ تو محمود علی قصوری (پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد موصوف وفاقی وزیر قانون بنا دئے گئے تھے ) نے شرط بھی لگا دی تھی کہ پیپلز پارٹی بیس سے زا ئد نشستیں حا صل نہیں کر سکے گی۔ محمود قصوری نامور وکیل ضرور تھے اور سیاست میں نیشنل عوامی پارٹی کا حصہ تھے، لیکن انتخابی سیاست سے خوف زدہ تھے۔ جب انہیں لاہور کے حلقے سے علامہ اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال کے مقابلے پر ٹکٹ دینے کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے معذرت کر لی تھی۔ بھٹو خود اس حلقے سے امیدوار بنے تھے ۔ سندھ میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ بدین سے میر علی احمد تالپور کو امیدوار بنانا تھا کہ حاجی نجم الدین سریوال کا مقابلہ کر سکیں۔ حاجی نجم الدین سریوال اس دور میں کونسل مسلم لیگ کے سربراہ تھے۔ کونسل مسلم لیگ نے محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی انتخاب لڑا یا تھا۔ علی احمد تالپور کی معذرت پر بھٹو خود امیدوار نبے تھے۔ ٹھٹھہ میں رئیس یوسف چانڈیو کے مقابلے پر امیدوار کا قرعہ فال مخدوم امین فہیم کے نام نکلا تھا، لیکن ان کے والد مخدوم محمد زمان طالب المولی نے یہ کہہ کر کہ امین ابھی نوجوان ہے اسے تجربہ نہیں ہے، انکار کر دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو یہاں بھی امیدوار بننا پڑا تھا۔ خود بھٹو کو پیپلز پارٹی کی اتنی بڑی کامیابی کا یقین نہیں تھا، لیکن انتخابات میں ان لوگوں نے جن کے پاس دوسرے وقت کی روٹی نہیں ہوتی، جن کے سر اور جسم پر کپڑا نہیں ہوتا، جن کے پیر ننگے ہوتے ہیں، جن کے پاس سر چھاپنے کے لئے جگہ نہیں ہوتی، تاریخی فیصلہ صادر کر دیا تھا۔ لوگوں نے یہ فیصلہ اس لئے دیا تھا کہ وہ اپنی غربت کا علاج چاہتے تھے، وہ ملک کے وسائل میں اپنا حصہ چاہتے تھے، لیکن ان لوگوں کو کچھ نہیں ملا۔ 45 سال انتظار کے بعد ان ہی لوگوں کی نئی نسل نے ایک بار پھر تبدیلی کا خواب دیکھا ہے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسوں میں لوگوں کی اس بڑی تعداد میں شرکت ان کی خواہشات کی عکاس ہے۔ نئے لوگوں کی لیاقت اور قابلیت پر سوال پیدا ہونے کے باوجود عام لوگ اپنی محرومیوں کے ازالے کی خاطر نئے امیدواروں کی کوتاہیوں کو نظر انداز بھی کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری تو پھر بھی تنظیم سازی پر توجہ دے رہے ہیں جیسا اعلان انہوں نے فیصل آباد کے جلسے میں کیا کہ انہیں سپورٹ، نوٹ اور ووٹ چا ہئے ۔ عمران خان کو بھی آزمودہ سیاست دانوں کی شمولیت پر انحصار کرنے کی بجائے ابھی سے نہ صرف اپنی تنظیم سازی پر بھی توجہ دینا چاہئے،بلکہ اپنے ایسے امیدوار تیار کرنا چاہئے،جو ابھی سے اپنے اپنے حلقوں میں اپنے آپ کو متعارف کرانے کا کام شروع کریں ۔ 2013ءکے انتخابات کے دوران کئی حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں نے آزمودہ اور جغادری سیاست دانوں کے مقابلے میں ان سے زیادہ ووٹ حاصل کئے، حالانکہ عمران خان نہیں آئے، پارٹی نے کوئی عملی مدد نہیں کی۔ کوئی باقاعدہ انتخابی مہم نہیں چلائی گئی ۔ ان امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ لوگ آزمودہ سیاست دانوں، استعمال شدہ اور چلے ہوئے کارتوسوں، لوٹ مار کی سیاست کرنے والوں سے بیزار ہو چکے ہیں۔ ان کا دم گھٹنے لگا ہے۔ وہ تازہ ہوا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ اِسی طرح جیسے 1970ءسے قبل ایوب خان کے دور میںگھٹن تھی، عمران خان کی وزیراعظم بننے کی خواہش اور جلد بازی میں اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس تماش گاہ میں لوگوں کو شکیل بدایونی کی غزل جسے بیگم اختر نے خوب گایا ہے ، بار بار سننے پر مجبور ہونا پڑے اور پھر آئندہ50سال بھی ہاتھ ہی ملتے گزر جائیں۔ ” اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا، جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا “ ۔

مزید : کالم