چمڑے کے کارخانوں کو قربانی کے جانوروں کی 74لاکھ کھالیں وصول

چمڑے کے کارخانوں کو قربانی کے جانوروں کی 74لاکھ کھالیں وصول


اسلام آباد (اے پی پی) عیدالاضحی کے موقع پر ملک میں چمڑے کے کارخانوں کو قربانی کے جانوروں کی 74لاکھ کھالیں وصول ہوئی ہیں جبکہ رواں سال عید قربان کے موقع پر قومی خزانے کو 13.5 تا 14ارب روپے کی آمدنی ہونے کی توقع ہے۔ آل پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے چیئرمین محمد مصدق نے کہا ہے کہ رواں سال عید قربان کے موقع پر قربانی کے تین روز میں چمڑے کی صنعتوں نے 70 لاکھ سے زائد کھالیں موصول ہوئی ہیں جن میں بھینسیں اور گائے کی 25 لاکھ 50 ہزار کھالیں ‘ بکرے کی 42 لاکھ کھالیں ‘ بھیڑ کی 8 لاکھ کھالیں اور اونٹ کی تقریباً 30 ہزار کھالیں خریدی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال گائے اور بھینسوں کی کھال کی اوسط قیمت 3700 تا 4200 روپے جبکہ بکرے کی کھال 375 تا 435 روپے اور بھیڑ کی کھال 300 روپے اور اونٹ کی کھال کی اوسط قیمت 2500 روپے رہی ہے ‘ انہوں نے کہا کہ کھالیں اکٹھی کرنے والے فلاحی ادارے اگر کھالوں کو بروقت نمک لگا کر ان کو جلد از جلد چمڑے کی صنعت تک پہنچانے کا اہتمام کرلیں تو بہت سی قیمتی کھالوں کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے محمد مصدق نے کہا کہ چمڑے کی مقامی صنعتیں اپنے خام مال کا تقریباً 20 فیصد قربانی کے موقع پر خریدتے ہیں اور چمڑے سے مختلف اقسام کی مصنوعات تیار کرکے برآمدات کے لئے سالانہ 17 تا 18 ارب روپے کا قیمتی زرمبادلہ کماتے ہیں ‘ رواں سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر ضائع ہونے والی کھالوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کھالوں کو بروقت محفوظ نہ کرنے کی وجہ سے 25 فیصد تک کھالیں ضائع ہو گئی ہیں ۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی ہے کہ چمڑے کی صنعتوں کو بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ٹینری کی صنعت اپنا کام جاری رکھ کر چمڑے کو جلد از جلد محفوظ بناسکے جس سے قیمتی زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید : کامرس