سانحہ ملتان تخریب کاری نہیںاتفاقی حادثہ تھا،تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ

سانحہ ملتان تخریب کاری نہیںاتفاقی حادثہ تھا،تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ

لاہور(پ ر)سانحہ ملتان کے حوالے سے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پنجا ب حکومت کو موصول ہو گئی ہے رپورٹ کے مطابق یہ ایک اتفاقیہ حادثہ تھا جس میں تخریب کاری کا کوئی عنصر شامل نہیںتھا- جس گیٹ پریہ واقعہ پیش آیا وہ کھلا تھا اور لائٹ کا بھی مناسب انتظام تھا-رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرونی گیٹ کے اندر اور باہر کافی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے اورواقعہ کی ویڈیو میں پولیس اور ریسکیو 1122موقع پر موجود تھی-رپورٹ کے مطابق اے ایس آئی محمد انور نے سٹیج پر موجود شاہ محمود قریشی کو بھگدڑ کے واقعہ کی خود اطلاع دی اورشاہ محمود قریشی نے اس واقعہ کے حوالے سے اعجاز چوہدری اور عمران خان کو بھی آگاہ کیا-واقعہ کی اطلاع ملنے پر عمران خان نے اپنی جاری تقریر روک کر لوگوں کو مذکورہ گیٹ سے واپس آنے کی ہدایت کی -ویڈیورپورٹ کے مطابق اس اثناءمیں ریسکیو 1122کی مزید گاڑیاں بھی موقع پر پہنچ گئیںاوربھگدڑ پر قابو پانے اور لوگوں کو پیچھے دھکیلنے کے لئے واٹر کینن سے پانی کا سپرے کیا گیا-پانی پھینکنے کی وجہ سے لوگ مذکورہ گیٹ سے پیچھے آئے اور گیٹ پر دباﺅ کم ہوا-ویڈیو رپورٹ کے مطابق امدادی کاررائیوں کیلئے مذکورہ گیٹ کو بند کر دیا گیا اور زخمیوں کو موقع پر ہی فوری طبی امدادفراہم کی گئی-تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی دستیاب ویڈیو سے بھی حقائق کی تصدیق ہوتی ہے جس میں لمحہ بہ لمحہ یہ مناظر عکس بند کئے گئے ہیں -تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ یہ ایک اتفاقیہ حادثہ تھا جس میں تخریب کاری کا کوئی عنصر شامل نہیںتھا-جلسہ گاہ میں گیٹس کھلے تھے اور روشنی کا بھی مناسب انتظام کیا گیا تھا-ریسکیو 1122کی جانب سے پانی کا سپرے کرنا سود مند ثابت ہوا جس سے کئی ایک قیمتی جانیں محفوظ رہیںاور لوگ منتشر ہوئے- رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی انتظامیہ نے ضلعی انتظامیہ سے طے پانے والے معاہدے کی شقو ں پر مکمل عملدر آمدنہیں کیا۔

تحقیقاتی رپورٹ

مزید : صفحہ اول