شاہراہ دستور پرکس کی حکومت؟ سرکاری رٹ کہاں؟

شاہراہ دستور پرکس کی حکومت؟ سرکاری رٹ کہاں؟
 شاہراہ دستور پرکس کی حکومت؟ سرکاری رٹ کہاں؟

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر بدھ کو پیش آنے والے واقعہ نے تشویش کے در پھر سے کھول دیئے اور ایک مرتبہ پھر سوال سامنے آ گیا ہے کہ دھرنا فیم جماعتوں کا حقیقی مقصد اور ہدف کیا ہے اور کیا حکومت اب بھی خاموش تماشائی بنی منتظر رہے گی کہ دھرنوں کی پتلی حالت ان کو از خود سمیٹ دے گی اور حکومت کو ریاستی اختیار کا استعمال نہیں کرنا پڑے گا کہ یہ حضرات مزید نعشیں چاہتے ہیں۔دھرنوں کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود دباﺅ کے حربے کے طور پر عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے ان کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔عمران خان والا دھرنا خالی اور ڈاکٹر طاہر القادری والے دھرنے میں بہت کم لوگ رہ گئے ہیں لیکن عملی طور پر شاہراہ دستور اور ڈی چوک پر ان کا قبضہ برقرار ہے اور اسی وجہ سے عوام چہ میگوئیاں کررہے ہیں۔

بدھ کو ٹیلی ویژن پر یہ نظارہ دکھایا گیا کہ پاکستان عوامی تحریک کے ڈنڈا بردار کارکن جو جسمانی ساخت اور عمر کے لحاظ سے نوجوان اور جفاکش دکھائی دے رہے تھے اور ان کے حرکت کرنے والے انداز تربیت یافتہ کمانڈو جیسے تھے، یہ نوجوان ادھر سے گزرنے کی غلطی کا ارتکاب کرنے والے ہر شہری، گاڑی اور موٹرسائیکل کو روک کر ان سے شناخت طلب کرتے اور پھر ان کو جانے دیتے تھے، اسی حوالے سے ایک پولیس انسپکٹر اصغر گورایہ کو بھی روکا گیا اور پھر ایک نوجوان خاص انداز سے ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر جا بیٹھا۔یہ سٹائل گوریلوں والوں کا تھا۔پھر تلاشی لی، شناختی کارڈ دیکھا اور سرکاری ریوالور لے کر رکھ لیا، اس کے بعد ہی اس انسپکٹر کے لئے ممکن ہوا کہ وہ سپریم کورٹ جا سکے۔یہ درست کہ یہ ریوالور بعد میں اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا لیکن تمہی کہو کہ یہ انداز ”دھرنا“ کیا ہے؟ عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت کی رٹ کہاں ہے؟ کہ اصغر گورایہ اور خود اس کے محکمہ نے تو خاموشی اختیار کرلی ہے کہ پولیس بے بسی کی تصویر ہے۔

اسی نوعیت کا سوال ڈاکٹر طاہرالقادری سے بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ حضرات کون ہیں؟ اور ان کو ان حرکتوں کا اختیار کس نے دیا اور کیا یہی انقلاب ہے؟ عوامی تحریک کے یہ کارکن سخت تناﺅ کے دوران بھی تلاشی اور شناخت والا عمل کرتے رہے ہیں، بڑا حوصلہ ہے حکمرانوں کا کہ انہوں نے تب مصلحت کے تحت برداشت کیا تو اب بھی برداشت کئے جا رہے ہیں۔

عمران خان اور ڈاکٹرطاہرالقادری شاہراہ دستور خالی کرنے پر تیار نہیں ہیں، دھرنے اپنی اہمیت ضرور کھو بیٹھے لیکن اگر یہی صورت حال برقرار رہے تو حکومتی رٹ کا سوال تو اٹھتا رہے گا۔ بعض حضرات کا تو خیال ہے کہ یہ پلان کا اگلا مرحلہ ہے اور اب جلسوں کے بعد تحریک کا اعلان کرکے بڑے مظاہرے کرائے جائیں گے اور ان مظاہروں کو پرتشدد بنانے یا بننے کی ترکیب استعمال ہوگی اور ملک میں افراتفری پیدا کی جائے گی۔بڑے ہنگاموں کے نتائج کیا ہوں گے ان کے بارے میں فی الحال کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے لیکن دوسری طرف عدالت عظمیٰ کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کی ہدایت کے ساتھ ہی ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اب ترامیم کی تجاویز بھی پیش کی جارہی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ انتخابی اصلاحات والی پارلیمانی کمیٹی کو کام مکمل کرنے دیا جائے، تاکہ انتخابی اصلاحات ہو جائیں، اسی میں الیکشن کمیشن کی تشکیل اور چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا فیصلہ بھی ہو جائے گا، قائد حزب اختلاف نے وزیراعظم سے مشاورت کی اور اپنی طرف سے عدالت عظمیٰ کے روبرو درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے کام اور آئین اور قوانین میں ترامیم تک مہلت دی جائے۔سوال یہ ہے کہ اس کمیٹی نے جس کا تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا اب تک کیا کام کیا، اس کی طرف سے تحریک انصاف کے نامزد اراکین کو سمجھا کر اجلاسوں میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی اور اب عدالت عظمیٰ کے واضح احکام کے بعد خیال آیا کہ مزید وقت درکار ہے اور حتمی فیصلہ ہونا ضروری ہے، سید خورشید شاہ رجوع کریں گے تو پتہ چلے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور عدالت عظمیٰ کس حد تک رعائت دے گی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ہی نہیں حزب اختلاف بھی فیصلوں میں تاخیر کرتی ہے۔سر پر آ جائے تو خےال آ جاتا ہے۔سید خورشید پہلے کہاں سوئے ہوئے تھے۔اب مزید وقت مانگ رہے ہیں، پھر بھی سوال یہ ہوگا کہ تحریک انصاف اس مشاورت اور ترامیم والی کمیٹی میں شامل ہو گی اور یوں کیا بلدیاتی انتخابات مزید ملتوی کرانا ہیں کہ اگر فاضل عدالت عظمیٰ کے سینئر جج کو واپس لیا گیا تو الیکشن کمیشن نامکمل ہو جائے گا۔

بس ایک اور دو روز رہ گئے جب کراچی اور لاہور میں سیاسی اور عوامی قوت کے مظاہرے ہوں گے۔بلاول بھٹو کا جلسہ کل (ہفتہ) کو کراچی مزار قائد پر اور پرسوں (اتوار) ڈاکٹر طاہر القادری کا مینار پاکستان لاہورپر ہونا ہے جبکہ عمران خان سرگودھا میں 24اکتوبر کو خطاب کریں گے ۔لوگ اب پوچھتے ہیں، یہ سب کیا ہے؟

سرکاری رٹ کہاں

مزید : تجزیہ