اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے والے 210 سے زائد پارلیمنٹیر ینز کی معطلی برائےنام

اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے والے 210 سے زائد پارلیمنٹیر ینز کی معطلی ...

       لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل ) اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہ کروانے والے اراکین پارلیمنٹ کی معطلی بڑی سزا نہیں ہے۔گوشوارے جمع کروانے پر رکنیت کی بحالی معمول ہے۔وزرا ءکی وزارتیں برقرار رہینگی ۔الیکشن کمیشن نہ توپارلیمنٹیرینز کا کچھ بگاڑسکتاہے اور نہ کسی کومستقل طورپر معطل یا نااہل قرارسکتا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 15اکتوبر کواثاثوں کی تفصیلات جع نہ کروانے والے 210سے زائد پارلیمنٹیرینز کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ جوکہ کمیشن کے اپنے قانون عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ 1976کے سیکشن 42-A(3)کی خلاف ورزی ہے۔ سیکشن 42-Aکے تحت ہرپارلیمنٹیرینز پابند ہے کہ وہ 30ستمبر تک اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کروائے ۔ اور الیکشن کمیشن پابند ہے کہ وہ سیکشن42-A(3)کے تحت تفصیلات جمع نہ کروانے والے تمام پارلیمنٹیرینزکی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔لیکن کمیشن نے 15اکتوبر کو اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے والے 210سے زائدارکان پارلیمنٹیرینزکی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کیاہے۔ جو کہ قانون ھذا کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی مذکورہ قانون الیکشن کمیشن کو کسی بھی پارلیمنٹیرین کو معطل کرنے سے زیادہ اختیار بھی نہیں دیتا۔کمیشن نہ تو کسی رکن کو مستقل طورپر معطل کرسکتا ہے اور نہ ہی نااہل قرار دے سکتا ہے۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہ کروانے والوں میں سینیٹ کے دو،قومی اسمبلی کے 40، پنجاب اسمبلی کے 98،سندھ اسمبلی کے 28، خیبر پختونخوا اسمبلی کے 32 اور بلوچستان اسمبلی کے 8 ارکان شامل ہیں۔وفاقی وزیرپیر صدر الدین شاہ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، تحریک انصاف ڈاکٹر عارف الرحمان علوی،محمود الرشید، مسلم لیگ ن کے دانیال عزیز، چوہدری جعفر اقبال، میاں عطائمحمد مانیکا، پیپلز پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر عبد القیوم سومرو، اویس مظفر ٹپی،شگفتہ جمانی سمیت دیگر ارکان نے بھی اپنے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ بدھ کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق سینیٹ کے دو ارکان سینیٹر ڈاکٹر عبد القیوم سومرو، سینیٹر محمد یوسف کی رکنیت اثاثو ں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پرمعطل کردی گئی ہے اس طرح قومی اسمبلی کے 40 ارکان، ساجد نواز، علی محمد خان، مجاہد علی، عاقب اللہ، ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون، انجینئر داور خان کنڈی، قیصر جمال، چوہدری خادم حسین، محسن شاہ نواز رانجھا، چوہدری حامد حمید، ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی، عبد المجید خان، نجف عباس سیال، رانا عمر نذیر خان، اظہر قیوم ناہرہ، چوہدری جعفر اقبال، چوہدری عابد رضا، دانیال عزیز، سہیل شوکت بٹ، سلیمان حنیف، محمد عارف چوہدری، سید محمد عاشق حسین شاہ، چوہدری محمد منیر اظہر، سردار اویس احمد خان لغاری، غلام ربانی کھر، پیر سید محمد ثقلین شاہ بخاری، عالم داد لالیکا، پیر صدر الدین شاہ، پیر بخش جونیجو، عارف الرحمان علوی، سردار کمال خان بنگلزئی، مولانا قمر الدین، سید عیسیٰ نوری، عائشہ رضا فاروق، بیگم مجیداں وائیں، شاہین رفیق، شگفتہ جمانی، علیزہ اقبال حیدر، ریتا عیشور کی رکنیت بھی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پرمعطل ہوگئی ہے صوبائی اسمبلیوں کے جن ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے ان میں پنجاب اسمبلی کے 98 ارکان راجہ اشفاق سرور، غلام دستگر لک، چوہدری عبد الرزاق ڈھلوں، رانا شعیب ادریس خان، نعیم اللہ گل،حاجی محمد الیاس انصاری، امتیاز احمد لالی، چوہدری محمد اقبال، قیصر اقبال سندھو، چوہدری رفاقت حسین گجر، چوہدری شبیر احمد، رانا عبد الستار خان، رانا محمد افضل، خواجہ محمد وسیم، خواجہ عمران نذیر، محسن لطیف، میاں محمد اسلم اقبال، میاں محمود الرشید، خرم اعجاز چٹھہ، جمیل حسن خان، میاں محمد منیر، پیر زادہ میاںمحمد شہزاد بھٹہ، نغمہ مشتاق، پیر زادہ محمد جہانگیر سلطان، میاں عطائمحمد مانیکا، سردار محمد جمال خان لغاری، ملک غلام مرتضیٰ کھر، شوکت علی لالیکا، شاہین اشفاق، فرزانہ بٹ، نجمہ بیگم، سائرہ افتخار، شازیہ طارق، سندھ اسمبلی کے 28 ارکان،سید ناصر حسین شاہ، سید اویس قادر شاہ، غلام رسول خان جتوئی،محمد علی بھٹو، خورشید احمد جونیجو، سید ضیائعباس شاہ، نواب محمد تیمور تالپور، اویس مظفر ٹپی، شہناز بیگم، رخسانہ پروین، ڈاکٹر لعل چند، مکیشن کمار چاولہ، دیوان چند چاولہ، خیبر پختونخوا اسمبلی کے 32 ارکان شوکت علی یوسفزئی، جاوید نسیم، فضل الٰہی، ارباب اکبر حیات، سید محمد اشتیاق، فضل شکور خان، سلطان محمد خان، محمد زاہد درانی، امجد خان آفریدی،سردار محمد ادریس، نوابزادہ ولی محمد خان، مولانا مفتی فضل غفور، ڈاکٹر حیدر علی خان، سراج الحق، بلوچستان اسمبلی کے 8ارکان سید محمد رضا، ڈاکٹر حمید خان اچکزئی، عبد المجید خان، عامر خان رند، حاجی محمد اسلام، مجیب الرحمان محمد حسنی اور یاسمین بی بی شامل ہیں۔ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ معطل کئے گئے ارکان سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کر سکیں گے تاہم وہ وزیر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔پارلیمنٹیرینز جب چاہیں اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کروا ئیں اور بحال ہوجائیں۔انہیںمعطلی کے نوٹیفکیشن سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

پارلیمنٹرینز معطلی

 

مزید : صفحہ آخر