بھارتی مگ طیارے اڑن تابوت ، بیوائیں بنانے کی مشینیں بن گئے

بھارتی مگ طیارے اڑن تابوت ، بیوائیں بنانے کی مشینیں بن گئے
بھارتی مگ طیارے اڑن تابوت ، بیوائیں بنانے کی مشینیں بن گئے

  

 نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)روسی ساختہ طیاروں کو بھارتی ایئر فورس کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ حادثات کا شکار بھی یہی جہاز ہوتے ہیں اور روسی ساختہ مگ طیاروں کو ، اڑن تابوت اور بیوائیں بنانے کی مشین کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اسی ہفتے مشرقی بھارت میں روسی ساختہ تربیتی جہاز سخوئی- 30 گر کر تباہ ہو گیا ،خوش قسمتی سے دونوں پائلٹ محفوظ رہے۔ اس سے پہلے گزشتہ مارچ میں تربیتی پرواز کے لیے استعمال ہونے والا امریکی ساختہ ٹرانسپورٹ طیارہ گر کر تباہ ہوا جس میں سوار عملے کے پانچوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دو سال قبل بھارتی وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا تھا کہ روس سے خریدے گئے 872 مگ طیاروں میں آدھے سے زیادہ حادثات کا شکار ہو چکے ہیں اور ان حادثات میں 200 پائلٹوں ہلاک ہوئے تھے ۔

 پائلٹس ان طیاروں میں فنی خرابیوں کی اکثر شکایات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان طیاروں کے بعض ماڈلز انتہائی تیزی سے لینڈنگ کرتے ہیں جب کہ بعض طیارے ایسے بنائے گئے ہیں کہ ان سے رن وے بھی ٹھیک طرح نظر نہیں آتا۔بھارتی ایئر فورس کے سربراہ نے خبر دار کیا تھا کہ اگر پرانے طیاروں کو نئے طیاروں سے تبدیل نہ کیا گیا تو یہ ملک کی سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوں گے۔یاد رہے کہ بھارت اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک ہے۔

گزشتہ روز بھارت کے سابق نیوی چیف ایڈمرل ڈی کے جوشی نے بھی وزارت دفاع کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اتنے بے اختیار تھے کہ آبدوزوںکے لیے بیٹریاں تک نہیں خرید سکتے تھے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے بھارت کو سپر پاور بنانے کے وعدوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ریٹائرڈ نیوی افسر اودے بھاسکر کا کہنا ہے ابھی تک ہر بھارتی حکمران ان مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ سکا ہے۔

مزید : بین الاقوامی