آئندہ جمعے گجرات اور 21 نومبر کو لاڑکانہ میں جلسے کا اعلان، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کل کے الیکشن سے سبق سیکھیں : عمران خان

آئندہ جمعے گجرات اور 21 نومبر کو لاڑکانہ میں جلسے کا اعلان، مسلم لیگ ن اور ...
آئندہ جمعے گجرات اور 21 نومبر کو لاڑکانہ میں جلسے کا اعلان، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کل کے الیکشن سے سبق سیکھیں : عمران خان

  

سرگودھا (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کل کے ضمنی انتخاب کے نتیجے سے سبق سیکھیں کیونکہ ان کی پارٹنر شپ اب ٹوٹنے کے قریب ہے ،ہم اگلے جمعے کو گجرات میں جبکہ 21 نومبر کو لاڑکانہ میں جلسہ کر رہے ہیں، میری قوم جاگ گئی ہے اور ہم جلد نیا پاکستان بنائیں گے کیونکہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت چل رہی ہے، جمہوریت عوام کو حکمرانوں سے سوال کرنے کا حق دیتی ہے اس لئے میں پوچھتا ہوں کہ 30 ہزارروپے کے بل کی عدم ادائیگی پر میرا کنکشن تو کاٹا گیا مگر 584 ارب روپے کے نادہندہ کنکشن کیوں چل رہے ہیں؟

سرگودھا میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام کو دھوکہ دینے کا بدلہ کل ملتان کے ضمنی انتخاب میں مل گیا ہے، مسلم لیگ ن کے ساتھ مک مکا کی وجہ سے کل ان کے امیدوار کی ضمانت ہی ضبط ہو گئی ہے، اتنی بڑی پیپلزپارٹی کے ساتھ اتنی بری ہوئی ہے اور سب کچھ صاف ہو گیا ہے، آصف زرداری اور نواز شریف اس سے سبق سیکھیں اور اوپر سے نوراکشتی اور اندر سے بھائی بھائی کا کھیل ختم کریں کیونکہ اب بات یہاں نہیں رکے گی، میں 12نومبر کو لاڑکانہ آ رہا ہوں اور سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کا پیچھا کریں گے اور آئندہ جمعے کو ہم پنجاب میں گجرات میں جلسہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ نیا خیبر پختونخواہ تو بنا لوں پھر نیا پاکستان بھی بنا لینا، میں کہتا ہوں یہ فیصلہ عوام سےکروا لیتے ہیں اور ہم خیبر پختونخواہ میں الیکشن کرواتے ہیں یہ لوگ پنجاب میں الیکشن کروا دیں، دیکھ لیتے ہیں کہ عوام کا کیا جواب ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ن کی چھٹی حکومت ہے اور عوام پولیس کے ہاتھوں تنگ ہے جبکہ صحت کا یہ حال ہے کہ بچوں کو چوہے کھا رہے ہیں، خیبر پختونخواہ میں یہ حالات نہیں ہیں، میں نواز شریف کو چیلنج دیتا ہوں کہ آئیں مقابلہ کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کبھی کبھی قوموں کو اپنی حالت بدلنے کا موقع دیتا ہے، آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم نیا پاکستان بنائیں ، وہ نیا پاکستان جو قائد اعظم نے بنانا تھا، میں مزدوروں اور تنخواہ داروں کے لئے کھڑا ہوں جو اپنا بجلی کا بل ادا نہیں کر سکتے، چند دن پہلے بجلی کا بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے میرا کنکشن کاٹ دیا گیاکیونکہ میں بل جلا دیا تھا، میں نے بل اس لئے جلایا کہ نواز شریف کے دور میں بجلی کی قیمت میں اسی فیصد اضافہ کر دیا گیا اور اس حکومت نے 480ارب روپے کا زیر گردش قرضہ ادا کیا، اس پیسے کا کوئی آڈٹ نہیں کیا گیا اور یہ قرضہ پھر سے عوام کے سر چڑھ چکا ہے۔ انہوں نے شکوہکیا کہ بجلی مہنگی سے مہنگی ترین کی جا رہی ہے، میرا کنکشن تو 30ہزار روپے بل ادا نہ کرنے پر کاٹا گیا مگر وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدارت، پارلیمنٹ ہاؤس اور اتفاق فاؤنڈری بھی لاکھوں کے بل کے نا دہندہ تھے مگر ان کے کنکشن نہیں کاٹے گئے، ملک بھر میں 584ارب روپے کے بجلی کے بل ادا نہیں ہوئے مگر وہ کنکشن چل رہے ہیں اور ان کے حصے کے بل عوام دے رہی ہے۔ کپتان کو کہنا تھا کہ نندی پور پراجیکٹ 23ارب سے بڑھ کر 83ارب روپے پر پہنچ گیا، اس میں ۰۵ ارب روپے کا اضافہ ہوا اور یہ قیمت میری قوم ادا کرے گی، جس پر مختلف ٹیکس لگائے جائیں گے اور ان کی چوری کا پیسہ ہم ادا کریں گے، میں نے اس لئے بغاوت کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ جب تک یہ دھاندلی زدہ حکومت ختم کئے بغیر اور نواز شریف کا استعفیٰ لئے بغیر ہم گھر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے شرکاء کو مخاطب کر کے کہا کہ میراپاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سوال ہے کہ کیا ان کو فکر ہے کہ ان کے بچوں نے اس ملک میں ہی رہنا ہے؟ اگر ان کو اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے تو یہ کیوں نواز شریف اور زرداری سے سوال نہیں کرتے کہ اپنا سرمایہ تو تم نے باہر رکھا ہے اور حکومت یہاں کر رہے ہو، اپنا پیسہ ملک میں واپس لے کر آئیں کیونکہ ہم پر قرضہ چڑھا ہوا ہے اور اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ مہنگائی بڑھتی جائے گی جب تک سارے کارکن اپنے حکمرانوں سے سوال نہیں کریں گے۔ اگر پاکستان میں ان لوگوں کا پیسہ محفوظ نہیں تو غیر ملکی سرمایہ کون دے گا؟ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کوتو یونیورسٹی میں لیکچر دینا چاہئے کہ کام کئے بغیر پیسہ کیسے کماتے ہیں، یہ ہنر پوری پاکستانی قوم کو بتانا چاہئے کیونکہ پشاور میں بھی بلاول ہاؤس بن رہا ہے اور یہ کسی کو پتا ہی نہیں کہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے اور میاں نواز شریف تو بچارے اپنی ماں کے گھر رہتے ہیں اور بچوں کے پیسے پر گزارہ کر رہے ہیں، تو مسلم لیگ ن کے کارکن کیوں نواز شریف سے سوال نہیں کرتے کہ ان کا سارا پیسہ کہاں آیااور کیوں وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے؟ اگر وزیر اعظم اپنی قوم کو جواب نہیں دیتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جمہوریت نہیں بادشاہت ہے کیونکہ جمہوریت تو عوام کو حکمرانوں سے جواب لینے کا حق دیتی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میں سرگودھا کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ جب ہم کوئی کام کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو کوئی ہمیں روک نہیں سکتا، اللہ نے ہمیں قدرتی خزانوں سے مالا مال ملک دیا ہے اور ساری آبادی تو نوجوانوں کی دی ہے، ہمیں تعلیم حاصل کرنی ہے اور ان حکمرانوں کا احتساب کر کے اپنے حقوق لینے ہیں، سب سے پہلے شفاف الیکشن کروانے ہیں لیکن اس سے پہلے تو پچھلے الیکشن میں دھاندلی کروانے والے سارے کرداروں کا احتساب ہو گااور اس کے بعد سب لوگ تیار ہو جائیں کیونکہ اگلا سال الیکشن کا سال ہے۔ خطاب کے آغاز میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں جس طرح بڑی تعداد میں بچے، عورتیں اور بڑے نکلے ہیں اب کسی کو شک نہیں ہو نا چاہئے کہ میری قوم جاگ گئی ہے جبکہ آج سٹیج پر بھی لوگوں کی تعداد کم کر کے انتہائی منظم جلسہ ہو رہا ہے اور لگ ہی نہیں رہا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ ہو رہا ہے کیونکہ آج سارے انتظام تو ہم نے اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں