میڈیا نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا

میڈیا نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا
میڈیا نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا

  

’’میڈیا نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا‘‘ ۔۔۔یہ ہیں وہ الفاظ جو چیئر مین قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میاں عبدالمنان ایم این اے فیصل آباد نے میڈیا کے نمائندوں کو انٹرویو کے دوران کہے۔۔۔میاں عبدالمنان نے میڈیا کے طرز عمل پر تنقید کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم، پارلیمانی ارکان اور ان کے سکریٹریوں کی تنخواہوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ جہاں تک پاکستانی میڈیا کے رخِ کردار کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں سب سے اہم اور لائق توجہ پہلو شعبہ صحافت سے متعلق افراد کی تعلیم و تربیت کا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل صحافت سے وابستہ شخصیات علم و ادب، دینی، ملی و سیاسی اور بین الاقوامی معلومات کے اعتبار سے نابغۂ روزگار تھیں۔ اس دور کی صحافت مقاصد کے حصول کی آئینہ دار اور نظریات کے فروغ کی علمبردار تھی، بعد ازاں جب تحریک آزادئ ہند ہمہ گیر ہوئی اور فرنگی سامراج کا تخت اقتدار الٹ گیا اور برصغیر کے عوام کی گردن میں پڑا طوقِ غلامی ٹوٹ گیا تو دنیا بھر میں آزادی کے گیت گائے جانے لگے تھے۔

اس کے بعد مطلع ہند پر ایک نئی اسلامی مملکت کا ستارہ طلوع ہوا اور پاکستان کے نام سے دنیا کی سب سے بڑی مسلم مملکت معرض وجود میں آ گئی، جس کے بانی اور سربراہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ سیاسی اور انتظامی امور میں گونا گوں اعلیٰ صلاحیتوں سے متصف تھے، لیکن ان کے چند رفقاء کے سوا اکثر نا تجربہ کار اور نظم مملکت سے نا آشنا تھے۔ انہوں نے آزادی کو ’’مادر پدر آزادی‘‘ سمجھ کر ایسی ایسی حرکتیں کیں کہ خدا کی پناہ ۔۔۔اللہ نے بے وسیلہ اور ہر اعتبار سے تہی دست قوم پر دولت و سرمائے کے دروازے کھول دیئے ،جس کے غلط استعمال اور اسراف کے باعث مقاصد کے بجائے ’’مفادات‘‘ امراض متعدی کی مانند ہمہ گیر ہو گئے اور اس کے وائرس کے مہلک اثرات سے شاید ہی کوئی محفوظ رہ سکا ہو، چنانچہ صحافت رفتہ رفتہ ایک نفع بخش صنعت کا درجہ اختیار کر کے پرنٹ اور الیکٹرانکس دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور نوبت باایں جا، رسید :

اک وہ دور صحافت کا تھا علم و ہنر معیار

آج زنانہ تصویروں سے ہی رنگیں ہیں اخبار

پرنٹ میڈیا نے تو اپنی مقبولیت کے لئے رنگین تصاویر کی اشاعت سے ہی معاشی آسودگی کی راہ اختیار کی، لیکن پاکستانی الیکٹرانکس میڈیا نے اپنے چینلوں کے ذریعے وہ اُودھم مچایا اور اخلاق و شرافت کی سفید چادر پر عریانی و فحاشی کے وہ شرمناک داغ دھبے ڈالے ہیں کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ٹی وی چینلوں پر لڑکے لڑکیوں کو بلا جھجک بوس وکنار کرتے اور عشق و محبت کی پینگیں بڑھاتے دکھایا جا رہا ہے۔ برقی میڈیا کے زیادہ تراشتہارات، موبائل ٹیلیفون کمپنیوں، چائے کے مختلف برانڈوں اور دیگر مصنوعات پر مشتمل ہوتے ہیں، ان میں سے یو فون کمپنی کے ایک نشریئے میں دوسری شادی کا ارادہ کرنے والے شخص کو بالا خانے سے دھکا دیگر نیچے پھینکنے اور اس پر کرسیاں اور گھر کا دیگر سامان گرانے کا منظر دکھایا گیا تھا۔ ان کمپنیوں کے علاوہ کھانے پینے کا سامان بنانے والے اداروں کے اشتہارات دیکھئے تو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ اشیائے خورونوش تیار کرنے کا ہے، اور سب سے بڑھ کر برقی میڈیا کی خرابی یہ کہ صرف شہری علاقے میں رہائش پذیر بڑے بڑے سرمایہ داروں کے طرز بود و باش، ان کی بیاہ شادیوں کے رسم و رواج کو ہی دکھایا جاتا ہے، دیہاتی علاقے کے لوگوں کے احوالِ زندگی اور ان کی شادی بیاہ کی صورت حال کبھی نہیں دکھائی گئی اور نہ ہی کبھی ’’اخلاق سدھار‘‘ پروگرام نشر کر کے معاشرے میں بد اخلاقی چوری، ڈاکے، معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے شرمناک واقعات کی روک تھام کی خاطر کبھی کوئی مہم شروع کی گئی ہے۔

پاکستانی میڈیا کی اکثر نشریات بھارتی چینلوں کا چربہ اور نقالی پر مشتمل ہوتی ہیں ،جن کی اخلاق سوزی دیکھ کر پاکستان قومی اسمبلی کے رکن اور قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میاں عبدالمنان کی رگ حمیت و غیرت پھڑک اٹھی اور انہوں نے بھی بر ملا اظہار کر دیا کہ میڈیا نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اس غرق شدہ بیڑے کو بد اخلاقی کے سمندر سے نکالنے کے لئے قومی اسمبلی کے ارکان خصوصاً وزیر اطلاعات و نشریات کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، اور اراکین اسمبلی کے ساتھ چند تجربہ کار صحافیوں، دانشوروں اور علمائے کرام پر مشتمل ایک نگران کمیٹی بنانی چاہئے جو اخلاق سوز اور بے ہودہ پروگراموں کی اشاعت روک کر اصلاحی اور مفید خلق پروگرام پیش کرائے ،مثلاً ان دنوں ٹی وی چینلوں پر چائے کے برانڈ اور موبائل ٹیلیفون کے اشتہاروں کے ساتھ نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایسی اچھل کود دکھائی جا رہی ہے جیسے انہیں زہریلی مکھیوں نے کاٹ کھایا ہو اور وہ بے ہنگم اچھل کود کر کے بے چینی کا مظاہرہ کر رہے ہوں ،نشر ہونے والے اشتہارات کا مقصد مصنوعات کا تعارف کرانا ہے، کیا اس بے ہنگم اچھل کود سے مصنوعات میں نکھار پیدا ہو جاتا ہے؟

یہ صحیح ہے کہ سید نا محسن انسانیتؐ کے ارشادِ اقدس کے مفہوم کے مطابق : ’’میری امت کے افراد پر ایک ایسا وقت آ جائے گا کہ وہ غیر قوموں کی نقالی اور پیروی میں اس حد تک بڑھ جائیں گے کہ ان کے ایک ایک انداز کو اپناتے ہوئے غیروں کے نقشِ قدم پر چلیں گے اور اسلامی تہذیب و معاشرت کے بجائے غیروں کی تہذیب و تمدن کو اختیار کرنے میں فخر محسوس کریں گے‘‘۔۔۔ حضرت رسول اللہؐ کے ارشاد کے مفہوم پر توجہ دے کر امت مسلمہ کے نوجوانوں، خصوصاً نوجوان لڑکیوں کا طرزِ زندگی اور فیشن دیکھ لیجئے، کیا کوئی شخص یہ تصور کر سکتا ہے کہ یہ اسی قوم کی بیٹیاں ہیں جن کے آباء اجداد لاکھوں کی تعداد میں نصف صدی سے زائد عرصہ پہلے ہندو سکھ دھرم اختیار کرنے اور غیر مسلموں کی تہذیب اپنانے سے انکار کرنے کی پاداش میں خاک و خون میں تڑپائے گئے تھے، جن کی مائیں، بہنیں اور معصوم بچے بے دردی کے ساتھ ذبح کر دیئے گئے تھے۔ ایک مسلم قوم کی عورتوں اور لڑکیوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کی نقالی ہی اختیار کرنی ہے تو اپنے قریب کے ہمسایہ ملک بھارت کی ہندنیوں اور سکھنیوں کی تہذیب کیوں نہ اپنالی جائے؟

بقول امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اگر کوئی جہنم میں جانے پر بضد ہے تو اسے پیدل نہیں بائی ایئر جہنم جانا چاہئے، خجل خراب ہو کر پیدل جانے کا کیا فائدہ؟‘‘ اور اگر جنت میں جانا ہے تو آقائے نامدار سید نا محسن انسانیتؐ اور آپ کے اہل بیت و صحابہ کرامؓ کا اسوۂ حسنہ اور طرزِ زندگی اختیار کرنا چاہئے، اسی سے ہی مسلم امہ کے افراد قرار پائیں گے اور شائستہ و حیا دار زندگی اختیار کرنا ہو گی، غرضیکہ پاکستان برقی میڈیا کی نشریات حیا سوزی کو فروغ دینے کا باغث بن رہی ہیں، بد اخلاقی کے اس ناگفتہ بہ سیلاب کے خلاف بند باندھنے اور سکون و اطمینان کا ماحول اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی وزیر اطلاعات و نشریات کو اگر ہماری نہیں تو اپنی جماعت مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالمنان ہی کے توجہ دلاؤ نوٹس کی جانب نگاہ التفات کر لینی چاہئے، تاکہ پاکستانی معاشرہ مسلم معاشرت کا گہوارہ بن جائے اور مقصد قیام پاکستان کا حصول بھی ممکن ہو سکے۔

مزید :

کالم -