فاسٹ باؤلر کی سیاست

فاسٹ باؤلر کی سیاست
فاسٹ باؤلر کی سیاست

  



فاسٹ باؤلراب بھی ان کی شخصیت پر غالب ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں پاکستانی قومی ٹیم میں کھیلنا شروع کیا اور 1992ء میں ورلڈ کپ جیت کر ریٹائر ہوئے۔ 140کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کبھی سوئنگ اورکبھی یارکر کراتے ،کوئی تادیر آؤٹ نہ ہوتا توغصے میں باؤنسر مارکر ہراساں کرتے۔ مدمقابل بیٹسمین کو دباؤ میں رکھتے،ہر بال کے بعد گرجدار آواز میں امپائر سے اپیل کرتے۔ فاسٹ باؤلر بیٹنگ میں چھکوں چوکوں کے لئے بیٹ گھماتا توکرکٹ سٹیڈیم کے ولولہ انگیز ہجوم میں برقی رد دوڑ جاتی۔ زندگی کے27سال باؤلنگ کراتے، بیٹ گھماتے اورمداحوں کی تالیوں اور مسکراہٹوں کے درمیان گزرے۔ 44سال کی عمر میں سیاست میں آئے تو زندگی کے رنگ بدل گئے، عزائم بدل گئے، اورشوق بھی، مزاج، مگرنہیں بدلا۔ عمران خان نے پارلیمنٹ کے غیر معمولی مشترکہ اجلاس کو اپنے سیاسی موقف کے سامنے غیر اہم سمجھا۔یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں کشمیر اور علاقائی صورت حال کاادراک نہیں، البتہ وہ اجلاس کو نوازشریف کی سیاسی چال سمجھ رہے تھے۔ ان کے نزدیک اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانامہ لیکس کی تحقیقات ہیں،باقی سب سیاسی میلے ہیں۔ نفسیات کی زبان میں ٹنل ویژن میں کوئی شخص صرف ایک سمت پر سوچتا ہے ،آس پاس کی چیزوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔اس کے ذہن پر ایک خیال یا جذبہ یا موقف اس حدتک غالب آجاتا ہے کہ دوسروں کی اہمیت کوبالکل نظرانداز کردیتا ہے ۔کپتان کے خیال میں اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نوازشریف ہے،اگر نوازشریف ہٹ گیا تو ملک کے سارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ اس بار وہ اسلام آباد سے وزیر اعظم کا استعفیٰ لے کر ہی آئیں گے۔

آپ کو یاد ہوگاکہ احتجاج کے 2014ء کے ایڈیشن میں بھی انہوں نے وزیر اعظم کا استعفیٰ لے کر آنا تھا، مگر126روز کی باؤلنگ اور امپائر سے بارباراپیلوں کے باوجود دھرنے سے خالی ہاتھ لوٹے، البتہ پارٹی کا صدر گنوا آئے اورایک جیون ساتھی لے آئے۔ عمران خان کے مطابق نواز شریف کرپٹ ہیں اور حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں ،لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ انہیں حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ وہ 30اکتوبر کواسلامی جمہوریہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد بند کردیں گے۔ان کی پارٹی ان کے حکم کی پابند ہے، چنانچہ ان کے پچاس ہزار یا لاکھ کارکن اسلام آباد کا گھیراؤ کریں گے اور حکومت کو بے بس کرنے کی اپنی سی کوشش کریں گے۔اگر سیاسی فیصلے سنانے اور منوانے کا یہی اصول اپنا لیا جائے تو پھر ہر پارٹی اپنے چند ہزار کارکنوں کا جتھہ لے کر دارالحکومت پر چڑھائی کردے گی اورمن چاہا مطالبہ منوالے گی۔ اگر کل کو ایم کیو ایم کہے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، ہمارے مطالبات مانو، ورنہ ہم کراچی بند کردیں گے۔ مولانا فضل الرحمن ارشاد فرمائیں کہ فاٹا میں میری مرضی کی اصلاحات لائی جائیں، ورنہ میں دارالحکومت بند کردوں گا۔ اسفند یار ولی کسی مطالبے پر پشاور بند کرنے آجائیں تو؟فیصلہ کپتان پر چھوڑتے ہیں۔

لیڈر تو روشنی دکھاتا ہے، نئی راہیں کھولتا ہے، منزل مراد کی طرف بڑھاتا ہے۔ حوصلہ شکن حالات میں کارکن مچلتے ہیں، بھڑکتے ہیں، مگر لیڈر جھنجلاتا ہے، نہ بھڑکتا ہے، وہ کارکنوں کے جذبات کو بھڑکاتا نہیں، بلکہ تعمیری رخ دیتا ہے، مگر ایسا لگتا ہے کپتان کسی شیخ کے جلادو،ماردو،توڑ دو کے فلسفے سے متاثر ہوگئے ہیں ۔ نوجوان تو ان کے پیچھے نئے پاکستان کا خواب لے کر آئے تھے،وہ توسچے دل سے اپنی توانائیاں نئے پاکستان کی تخلیق پر کھپانا چاہتے تھے۔ وہ مارو اور جلادو کی سیاست کی بجائے زندگی بخش جد وجہد سے ملک بدلنا چاہتے تھے ،یہ ناتراشیدہ ہیرے کسی مشّاق کاریگر کے منتظرتھے۔ انہیں ایک نیا ویژن، نئی فکر، نئی سمت اورنیا آہنگ دے کر ملک میں تبدیلی لائی جاسکتی تھی،ایسی تحریک اٹھائی جاسکتی تھی جو سماج بدل دیتی،سیاست کے انداز بدل دیتی ۔اتنی بڑی قوت، مگربھڑکیلے مکتب فکر کی بھینٹ چڑھ گئی ۔نوّ ے کی دہائی میں مرحوم قاضی حسین احمدنوجوانوں کی ایسی تحریک اٹھانا چاہتے تھے جوبوسیدہ نظام کو اکھاڑ پھینکے۔مرحوم بھی جلسوں اور احتجاجوں کے شوقین تھے ، اسے لہو گرم رکھنے کا بہانہ کہتے ۔کارکنوں کو تھکا تھکا کر ہلکان کردیا، مگرعوام ان کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، چار فیصد ووٹ لینے والی جماعت دو فیصد پر آگئی ۔ قاضی صاحب نوجوانوں کو اپنی طرف نہیں کھینچ سکے، مگر خان صاحب اکٹھے ہوئے نوجوانوں کو احتجاج کا ایندھن بنارہے ہیں،کارکنوں کوجذباتی سیاست کی بھٹی میں دہکا کرراکھ کررہے ہیں۔

خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہر دروازے پر دستک دی ،مگر سب نے سنی ان سنی کردی ۔انہیں خودسوچنا چاہئے کہ وہ ملک کی مقبول پارٹی کے سربراہ ہیں ،پارلیمنٹ کے اندر ان کی موثر نمائندگی ہے ،الیکٹرانک میڈیا ان کا دلدادہ ہے ،پھر بھی ان کی کوئی نہیں سنتا توانہیں جذبات کی دھند سے اٹھ کر سوچنا چاہئے ۔۔۔ آپ کا موقف کمزور ہے یا آپ کی حکمت عملی ناقص ہے؟کپتان کا موقف بالکل درست !کون نہیں چاہے گاکہ ملک کا نظام شفاف اور کرپشن سے پاک ہو ،سب کو انصاف ملے ،سب کو عزت اور روز گار ملے ، ملک کا سربراہ صاف دامن اور دیانت دار ہو ، مگریہ سب کچھ کیسے حاصل ہو؟ یہ انہیں کور کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر سوچ بچار کرنا ہے۔ کیا شفاف نظام صرف سیاسی تقریروں،مطالبات اور الٹی میٹم کے ذریعے قائم ہوسکتا ہے؟کیا احتجاج اور دھرنے متبادل نظام کے خدوخال بتا اور دکھا سکتے ہیں؟کپتان شائد کسی اور کی بات سننا ہی نہیں چاہتے۔پارٹی کے ان رہنماؤں پر بھی برس پڑتے ہیں جو ان سے اختلاف کرتے ہیں ۔جس پارٹی کے اندر اختلاف رائے کی گنجائش نہ رہے ،اسے غیردانشمندانہ فیصلوں سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پارلیمنٹ عوام کی نمائندگی اورطاقت کا مظہر ہے۔اس کی مضبوطی ہی سیاسی قیادت اور جمہوریت کی کامیابی ہے۔ اگر عمران خان پارلیمنٹ میں جاتے، کشمیر ایشو پر پالیسی تقریر کرتے ،حکومت کی خارجہ پالیسی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے، کمزوریوں پر کڑی تنقید کرتے ،اپنی تجاویز دیتے تو ان کا اپنا قد اور وقاربڑھتا اوردشمن کو زبردست پیغام جاتا۔اس موقعہ پر ان کے دوسرے رہنما بھی وزیر اعظم کی موجود گی میں پانامہ پر ’’غبار‘‘ نکال سکتے تھے ۔اگر وہ سڑکوں کے بجائے پارلیمنٹ میں اپنا مقدمہ پیش کریں،اپنی جنگ وہاں لڑیں توقوم کا بھی بھلا ہوگا اور خود ان کا بھی ۔

ریاست کے بالادست ادارے پارلیمنٹ میں قوم کے حقیقی ایشوز پر بات ہوگی توسطحی اور جذباتی تقریروں کے بجائے ٹھوس نکات زیر بحث آئیں گے۔اپوزیشن ،حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے، آپ اس کی کرپشن اور ناقص پالیسیوں پر تنقید کریں، پارلیمنٹ، میڈیا پر انہیں آڑے ہاتھوں لیں، انہیں دلیل اور گفتگو سے زچ کریں ۔راستے بند کرنے سے آپ اپنے ماننے والوں کو زبردستی اور ہاتھا پائی کا سبق سکھائیں گے ۔ اسلام آباد میں جلسوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کے لئے پنجاب اورخیبر پختوا کے ضلعی رہنماؤں کو ٹارگٹ دئیے جاتے ہیں ۔ ان جلسوں کو ناکام بنانے کے لئے پنجاب حکومت پی ٹی آئی کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور راستے بند کرنے کے احکامات دیتی ہے، مگرحیران کن بات ہے کہ اس کے باوجود لوگ پہنچ جاتے ہیں ؟اس میں پولیس اور انتظامیہ بڑے مزے کا کھیل کھیلتی ہے ۔پولیس پارٹی کے لوگوں کو پکڑنے کی بجائے ان سے ’’سلامی‘‘ لے لیتی ہے، جبکہ گرفتاریاں دکھانے کے لئے عام مسافروں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہیں پر بس نہیں، بلکہ ان عام لوگوں کو پیسے لے کرچھوڑا جاتا ہے ۔2014ء کے دھرناسیریل میں وسطی پنجاب کے ایک ضلع میں250سے زائد افراد کو جیل میں ڈالا گیا، جن کو ڈی سی او کے پی ایس اونے دس سے بیس ہزار روپے فی کس لے کر باعزت رہا کیا۔۔۔ بہرحال ، کرکٹ اور سیاست کے میدان میں فرق ہوتا ہے ۔سیاست میں بیانات کی تیزباؤلنگ اور الٹی میٹم کے باؤنسرزیادہ کارگر نہیں ہوتے ۔سیاست میں کسی کو آؤٹ کرنے کے لئے تدبر، تحمل اور تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے جو فی الحال بروئے کار نہیں آرہی۔ ہجوم اور ہیجان کی سیاست غباراٹھا سکتی ہے ،غبار نکال سکتی ہے،لیکن ٹھوس نتیجہ پیدا نہیں کرسکتی۔فاسٹ باؤلرضرور سوچیں !

مزید : کالم