’امریکہ اگر تم جنگ چاہتے ہو تو ہم بھی تیار ہیں، اب دنیا میں ہر جگہ۔۔۔‘ روس کھل کر امریکہ کے مقابل آگیا، واضح اور خطرناک ترین پیغام دے دیا

’امریکہ اگر تم جنگ چاہتے ہو تو ہم بھی تیار ہیں، اب دنیا میں ہر جگہ۔۔۔‘ روس ...
’امریکہ اگر تم جنگ چاہتے ہو تو ہم بھی تیار ہیں، اب دنیا میں ہر جگہ۔۔۔‘ روس کھل کر امریکہ کے مقابل آگیا، واضح اور خطرناک ترین پیغام دے دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ماسکو (نیوز ڈیسک) امریکہ ساری دنیا کو جنگ کی دھمکیاں دیتا پھرتا ہے لیکن روس کو دھمکی دینے پر اسے ایسا جواب ملا ہے کہ امریکی حکام واقعی آئیں بائیں شائیں کرنے لگے ہیں۔ اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکا سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ”اگر تم جنگ چاہتے ہو تو تمہیں جنگ ہی ملے گی، اور ہر جگہ ملے گی۔“
امریکہ کی جانب سے حالیہ کچھ عرصے کے دوران نہ صرف اشتعال انگیز بیان بازی کی گئی ہے بلکہ مشرقی یورپ کی جانب روس کی سرحد پر نیٹو افواج بھی جمع ہورہی ہیں جبکہ جنوبی کوریا جیسے ممالک میں امریکہ اپنا میزائل دفاعی نظام بھی نصب کررہا ہے ۔ شام میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے یہ دھمکی بھی دے دی گئی ہے کہ ان حملوں کے الزام میں صدر ولادی میر پیوٹن کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ امریکہ کے اس بیان پر روس میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ جنگ کرنا چاہتا ہے تو صدر ولادی میر پیوٹن پیچھے ہٹنے والے نہیں۔

سب سے حیران کن خبرآگئی، روس نے انتہائی حیران کن کام کردیا، امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ملک پر ’حملہ‘ کردیا
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات ایک بار پھر سرد جنگ کے زمانے کی سطح پر جاچکے ہیں اور آنے والے دن انتہائی اہم ہیں کیونکہ تعلقات میں مزید خرابی متوقع ہے۔ روس کے سابق لیفٹیننٹ جنرل یییوگینی بوزنسکی نے روسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ”امریکی اشتعال انگیزی کا سخت ردعمل آئے گا۔ جہاں تک روس کا تعلق ہے تو یہ تمام محاذوں پر کھلی جنگ کرے گا۔ اگر امریکہ کا یہ خیال ہے کہ وہ جنگ کو محدود رکھ سکے گا تو یہ درست نہیں کیونکہ اس کے شعلے ہر طرف بلند ہوں گے اور امریکہ ان کی لپیٹ میں آئے گا۔“

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے بھی اچھے نہیں تھے لیکن حالیہ بیانات کو بدترین کشیدگی کی علامت قرار دیا جاسکتا ہے، جس کا نتیجہ روس اور امریکہ کے علاوہ عالمی امن کے لئے بھی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔