جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے

جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے
 جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے

  

’’خاموشی بہترین جواب تھا ‘‘ پھر خاموشی پر ہی قائم رہا جاتا تو اچھا تھا۔نبی پاکﷺ کا فرمان ہے ’’عبادت کے دس حصے ہوتے ہیں ، نو حصے خاموشی میں ہیں اور ایک حصہ لوگوں سے دور رہنے (اختلاط نہ کرنے) میں ہے۔

‘‘ حکمت میں ہے کہ نوے فیصد عبادت خاموشی میں ہے۔ نظام مملکت اصولوں کے طابع رہ کر ہی چلتے ہیں ، ریاست کی بقا آئین کی پیروی میں ہی ممکن ہے کسی کی خواہشات پر نہیں وہ بھی ادنٰی ترین خواہشات پر، شخصیات اور خواہشات نظام کے تابع ہوتی ہیں نا کہ نظام ان کے تابع۔۔۔حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا ’’جس شخص پر خواہشات غالب ہوں وہ آخر کار شرمندہ ہوتا ہے اور کوئی بھی خواہشا ت پر قابو پائے بغیر عزت کے مقامات تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ نظام میں ادارے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

آئین ہر ادارے کی ذمہ داری وضع کرتا ہے۔ اداروں کی حدود آئین میں متعین ہیں ہر ادارہ اپنی حدود کے اندر رہ کر ہی کام کر سکتا ہے کسی دوسرے ادارے کی مداخلت سے ادارہ تباہ تو ہو سکتا ہے اصلا ح نہیں ہو سکتی۔

ستر سالہ تاریخ میں ہم نے یہی سبق سیکھا ہے کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کو چلانے کی کوشش کرے بھی تو نتیجہ بگاڑ کی شکل میں ہی نکلتا ہے ادارہ پہلے سے زیادہ کمزور ہو جاتا ہے۔پاکستانی لوگ تو اس پر پورری پی ایچ ڈی رکھتے ہیں۔

قرضوں کا بوجھ اگر بڑھ رہا ہے ، برآمدات کے مقابلے میں درآمدات بہت بڑھ گئی ہیں اور توازن بگڑ رہا ہے تو اس کے لئے تشویش کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے یا پھر ون ٹو ون ملاقات میں وزیراعظم کے گوش گزار یہ بات کی جاسکتی تھی۔ادارے موجود ہیں ،فورم بھی موجود ہیں ،طریقہ کار بھی وضع ہے مناسب اور متوازن طرز عمل یہی تھا کہ وہاں اپنی تشویش ظاہر کی جاتی

۔ معشیت کو درپیش حالات سے ہر پاکستانی اس وقت فکر مند ہے ۔احسن اقبال کے اس بیان میں بہت وزن ہے کہ جب یہ بات بیرونی سرمایا کاروں تک پہنچے گی تو وہ یہاں سرمایا کاری کا کیسے رسک لیں گے ؟

معاشی معاملات پر بیان پر احسن اقبال کے اعتراض پر ہم ڈرے سہمے لوگوں نے کسی طوفابن کی آہٹ محسوس کرنی شروع کردی۔میڈیا کے ہائی بلڈ پریشر اور ٹینشن کے مریض اینکروں نے اگلے چوبیس گھنٹے میں دھڑن تختہ ہونے کی خبریں دینی شروع کردیں۔

افواہ ساز فیکٹریوں نے اپنے لاؤڈ سپیکر اونچے کر دئیے اور مسیج پھیلانے میں پوری پھرتی دکھا ئی مگر یہ اب نوے کی دہائی نہیں وقت بدل چکا،سچ مچ بہت بدل چکا، سب کو علم ہے کہ جس جن کو ہم آواز دے رہے وہ سب کچھ تباہ کر جاتا ہے اور سوائے نوحہ خوانی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

احسن اقبال کا بھی بیان نہیں بنتا تھا خود وزیرخزانہ کو سامنے آنا چاہئے تھا اور کھل کر تمام معاشی معاملات قوم کے سامنے رکھتے اور بیرونی سرمایا کاری اوربڑے پراجیکٹس سمیت اپنی مثبت باتیں بتاتے مستقبل میں آنے والا معاشی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی منصوبہ بندی سے قوم کو آگاہ کرتے مگر وہ احتسابی معاملات میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ شائد انہیں فکر لاحق ہے کہ اتنے قلیل عرصہ میں اتنی کمال جادوگری کے کمالات کا حساب اب کیسے دیں۔

احسن اقبال کے بیان کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آرکے وضاحتی بیان سے ان ادنٰی خواہشات رکھنے والوں کو یقیناًمایوسی ہوئی جو اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران دھڑن تختہ کی خواہش رکھتے تھے اور بوٹوں کو بوسہ دینے کے لئے بے تاب تھے۔

معاشی معاملات پر تشویش ایک مثبت بات ہے، لیکن جس عوامی فورم پر انہوں نے اظہار کیا وہ مناسب نہ تھا، جس کا حکومتی رد عمل آیا جسے قبول کیا گیا۔ جمہوریت ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہورہی ہے۔

خیر کی روشنی نمودار ہو رہی ہے۔ٹویٹ واپس لینا اور اب وضاحتی بیان دینا اس بات کی علامات ہیں کہ اداروں کو اب ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت آسانی سے ہضم نہیں ہو گی۔کوئی ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کرکے حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایگزیکٹو کا رول خود ادا کرسکتا ہے۔ آئین نے ،جس کو جو رول دیا ہے وہی ادا کرے گا اور ہر ادارہ ایگزیکٹو کے تابع ہے، جس کو پارلیمنٹ کی حمائت حاصل ہے اور سارے معاملات کا جائزہ لینے کا آئینی اختیار پارلیمینٹ کے پاس ہے۔

پارلیمنٹ ہی ایسا فورم ہے، جس پرتمام ملکی معاملات پر کھل کر بات ہو سکتی ہے اور اس کا حق عوامی نمائندوں کے پاس ہے۔سیاستدان اگر جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا وہاں محض ہلڑ بازی ا اور گالم گلوچ کی بجائے مختلف امور پر سیر حاصل بحث ہونی چاہئے۔احسن اقبال کو یہ جرات بھی کرنی چاہئے کہ وہ وزیراعظم اور وزرا کو پابند کریں کہ وہ ہر سیشن میں کم از کم ایک دفعہ اسمبلی تشریف لایا کریں

۔جب آپ لوگ خود پارلیمنٹ کو اہمیت نہ دیں گے اور وزرا غیر حاضر رہیں گے تو پھر ملکی معاملات اور حکومتی خامیاں چوکوں اور چوراہوں پر ہی زیر بحث لائی جائیں گی۔اصل فورم کو خود پارلیمنٹرین اہمیت نہیں دیتے اور اسے محض گالم گلوچ اور کردار کشی کا میدان بنا رکھا ہے۔پارلیمنٹ جتنی مضبوط ہوگی ریاستی ادارے اسی قدر اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کریں گے اور حکومتی نظم ونسق بھی اسی قدر احسن طریقے سے چلایا جا سکے گا۔

وقت کے ساتھ ساتھ عوام کا نظریہ جمہوریت مضبوط ہو رہا ہے ۔اب وہ دن گزر گئے کہ ایک بیان پر سب کچھ الٹ پلٹ ہو جاتا تھا اب اس بیان پر منتخب نمائندے اور عوام اپنا استحقاق مجروح ہونے کا معاملہ اٹھانے لگے ہیں۔ ایسے منظر قوم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے کہ ادارے اب اپنی غلطی سدھارنے لگے ہیں اور انہیں ایگزیکٹو اٹھارٹی کے سامنے رائے بدلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

منتخب حکومتیں اب اداروں کی من مرضی اور ان کی پالیسیوں کو اپنانے کو تیار نہیں اور اپنی اپنی اصلاح کرنے کا مشوررہ دے رہی ہیں اور کسی بھی طرح ماضی کی نقصان دہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے پر تیار نہیں۔ریاستی اداروں کے لئے اب ایگزیکٹو اتھارٹی کو بائی پاس کر کے کھل کر کھیلنا مشکل دکھائی دے رہا ہے جو انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ایگزیکٹو کی رٹ بحال ہونا جمہوریت کی مضبوطی کی نوید ہے۔

ماضی کے برعکس سوچ بدل رہی ہے اب ڈکٹیٹر شپ کے حق میں بات کرنے والی آوازوں کے مقابلے میں جمہوریت کے حق میں بولنے والی آوازیں بہت زیادہ بھی ہیں اور طاقتور بھی شائد اسٹیبلشمنٹ بھی عوام اور میڈیا کے موڈ کا اندازہ لگا چکی ہے کہ اکثریت کا خیال ہے جمہوریت ہی واحد نظام ہے، جس میں منتخب نمائندوں کا احتساب ممکن ہے چاہے حکمران طبقہ ہو یا اپوزیشن ان کا بے لاگ احتساب جمہوریت میں ہی ممکن ہے وہ یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ،جبکہ آمریت میں ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی ان میں یہ اہلیت ہوتی ہے ۔جمہوری نظام میں ہی اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔کسی بھی قوم میں عوامی شعور کا بلند ہونا اور جمہوریت پسندی ایک مبارک بات ہوتی ہے ۔آج کا منظر مستقبل کے ایک روشن اور مضبوط جمہوری پاکستان کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔

مزید : کالم