A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

’’ماہِ نو‘‘ کا سرسید احمد خان نمبر

’’ماہِ نو‘‘ کا سرسید احمد خان نمبر

Oct 17, 2017

ناصربشیر

آج ہی کے دن یعنی 17اکتوبر 1817ء کو دلی میں پیدا ہونے والے سرسید احمد خان برصغیر کے سب سے پہلے ماڈرن آدمی تھے۔وہ لگے بندھے راستوں پر چلنے والے آدمی نہیں تھے۔ وہ اپنا راستا آپ بنانے والے تھے۔ تعلیم، سیاست، ادب، اخلاق اور بہبودِ عامہ کے کاموں کو انہوں نے وہ نیاپن دیا جو بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے منشور بن گیا۔ آج اگر برصغیر پاک و ہند میں سائنس اور دیگر جدید علوم کی تحصیل کا چلن ہے تو یہ سراسر، سرسید احمد خان احمد خان کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ سیاست کو انہوں نے تدبر، تعقل اور تحمل کا تحفہ دیا، جس سے قیام پاکستان کے لئے نہایت خوش اسلوبی سے ایک راہ ہموار ہوئی۔ ادب کو انہوں نے استدلال، حقیقت پسندی اور مقصدیت عطا کی۔ اخلاقیات کو انہوں نے نظری بحثوں سے نکال کر عملی شکل دی اسی لئے وہ سوانح عمری سے زیادہ لوگوں کے عملی کردار کو اہم جانتے تھے۔ بہبودِ عامہ ان کی گھٹی میں شامل تھی۔ یہ تربیت انہیں گھر سے ملی تھی کہ کمزوروں کا ہاتھ کِس طرح تھاما جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی والدہ گھر کی آمدن میں سے پانچ فیصد ہر ماہ بچا لیا کرتی تھیں اور اس رقم سے وہ یتیم اور غریب لڑکیوں اور بیواؤں کی شادیاں کروایا کرتی تھیں۔ سرسید احمد خان نے والد صاحب سے دنیاداری اور دربار داری کے آداب سیکھے اور والدہ سے دل اور درد کی دولت پائی۔ والد صاحب کے ساتھ وہ بادشاہ کے دربار میں جاتے۔ والد صاحب جب دربار کی زندگی سے اکتا گئے تو انہوں نے اپنی خلعت سرسید احمد خان کو دلوانا شروع کر دی تھی۔ والدہ نے ساری عمر دل اور درد کا کاروبار کیا، جسے سرسید احمد خان نے اپنے کردار اور شخصیت کا حصہ بنا لیا تھا اور ساری عمر اسی ’’کاروبار‘‘ سے وابستہ رہے۔

سرسید احمد خان نے اپنی سوئی ہوئی قوم کو پہلی بار جگانے کی کوشش کی اس لئے آج انہیں ہم اپنا پہلا محسن کہہ سکتے ہیں۔ سونے اور جگانے کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس سلسلے میں ’’حیاتِ جاوید‘‘ میں مولانا الطاف حسین حالی نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے، جو وزارتِ اطلاعات و نشریات کے زیرِ اہتمام چھپنے والے رسالے ’’ماہِ نو‘‘ کے سرسید احمد خان نمبر میں بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ درج کرنے سے پہلے واضح کرتا چلوں کہ یہ کالم میں دراصل ’’ماہِ نو‘‘ کے اسی شمارے کے تعارف کے لئے لکھ رہا ہوں۔ سرسید احمد خان کا کیا ہے؟ وہ میرے لکھے لفظوں کے قطعاً محتاج نہیں۔ انہیں تو تاریخ بھی جانتی ہے اور دنیا بھی۔ اس خاص شمارے کے بارے میں چند کلمات بعد میں لکھوں گا، پہلے یہ واقعہ پڑھ لیجیے جو سرسید احمد خان نے حالی کو سنایا تھا۔

’’ایک بار خلعت ملنے کی تاریخ پر ایسا ہوا کہ والد بہت صبح سویرے اٹھ کر قلعے چلے گئے اور میں بہت دن چڑھے اُٹھا۔ ہرچند بہت جلد گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچا مگر پھر بھی دیر ہو گئی۔ جب لال پردے کے قریب پہنچا تو قاعدے کے موافق اول دربار میں آداب بجا لانے کا وقت نہیں رہا تھا۔ داروغہ نے کہا کہ بس اب ایک ہی دفعہ خلعت پہن کر دربار میں جانا۔ جب میں نے خلعت پہن کر دربار میں جانا چاہا تو دربار رخصت ہو چکا تھا اور بادشاہ تخت پر سے اٹھ کر ہَوا دار پر سوار ہو چکے تھے۔ بادشاہ نے مجھے دیکھ کر والد سے، جو اُس وقت ہَوا دار کے پاس ہی تھے، پوچھا: ’’تمھارا بیٹا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’حضور کا خانہ زاد‘‘۔ بادشاہ چُپکے ہو رہے۔ لوگوں نے جانا کہ بس اب محل میں چلے جائیں گے، مگر جب تسبیح خانے میں پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ تسبیح خانے میں بھی ایک چبوترہ بنا ہُوا تھا، جہاں کبھی کبھی دربار کیا کرتے تھے، اس چبوترے پر بیٹھ گئے اور جواہر خانے کے داروغہ کو کشتی حاضر کرنے کا حکم ہُوا۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ بادشاہ نے مجھے اپنے سامنے بلایا اور کمال عنایت سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’دیر کیوں کی؟‘‘۔۔۔ حاضرین نے کہا : ’’عرض کرو کہ تقصیر ہوئی‘‘۔ مگر میں چپکا کھڑا رہا۔ جب حضور نے دوبارہ پوچھا تو میں نے عرض کیاکہ سو گیا تھا۔ بادشاہ مسکرائے اور فرمایا: ’’بہت سویرے اٹھا کرو‘‘! اور ہاتھ چھوڑ دیے۔ لوگوں نے کہا: ’’آداب بجا لاؤ‘‘۔ میں آداب بجا لایا۔ بادشاہ نے جواہرات کی معمولی رقمیں اپنے ہاتھ سے پہنائیں۔ میں نے نذر دی اور بادشاہ اٹھ کر خاص ڈیوڑھی سے محل میں چلے گئے۔ تمام درباری میرے والد کو بادشاہ کی اس عنایت پر مبارک سلامت کہنے لگے‘‘۔

یہ واقعہ تب کا ہے، جب سرسید احمد خان کی عمر آٹھ یا نو برس رہی ہوگی۔ اس عمر میں سرسید احمد خان نے راست گوئی کا دامن تھاما اور پھر ساری عمر تھامے رہے۔ سرسید احمد خان کو بادشاہ کے سامنے سچ بولنے پر سزا بھی ہو سکتی تھی، لیکن بادشاہ نے ان کی راست گوئی پر ان سے شفقت کا مظاہرہ کیا، یوں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ بات ان کے دماغ میں راسخ ہو گئی کہ راست بازی ہی میں آدمی کی عزت ہے۔ بادشاہ کے منہ سے نکلے ہوئے چار لفظ ’’ہمیشہ سویرے اٹھا کرو‘‘ کو انہوں نے حرزِ جاں بنا لیا۔ پھر وہ یوں جاگے کہ دوبارہ سوئے ہی نہیں، بلکہ اپنی سوئی ہوئی قوم کو بھی جگاتے رہے۔:

حالی و اکبر و اقبال و ظفر جاگتے ہیں

لوگ سو جائیں تو پھر اہلِ نظر جاگتے ہیں

اب کچھ بیان ہو جائے ’’ماہِ نو‘ کے بارے میں جو اس وقت میرے سامنے پڑا ہوا ہے۔ آرٹ پیپر پر چار رنگوں میں چھپا ہوا سرسید احمد خان نمبر تقریباً ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ سترویں جلد کا پہلا شمارہ ہے۔ اس شمارے کے مشمولات نہایت وقیع اور مستند ہیں۔ مولانا حالی کی ’’حیاتِ جاوید‘‘ کا ایک مختصر سا حصہ بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے آج کے لکھنے والوں کے بہت سے نئے مضامین بھی اس میں شامل ہیں۔ اس میں عقیل عباس جعفری، سید عبداللہ، اصغر ندیم سید، پرویز ہود بھائی، محمد حمید شاہد، سعادت سعید، زاہد حسن، شاہدہ دلاورشاہ، صدیق مسیح، فتح محمد ملک، انوار احمد، تنویر قیصر شاہد، رفاقت علی شاہد، سعید احمد سلطان، غافر شہزاد، سعید پرویز، شاہین مفتی، شاہد بخاری، مولوی عبدالحق، کرامت بخاری، وجاہت مسعود، اصغر عباس، مرزا اطہر لطیف، صغرا صدف، ضمیر آفاقی، کاظم جعفری، امجد طفیل، جمیل احمد عدیل، محمد جمیل آفاقی، حسن عسکری کاظمی، محمد ظہیر بدر، ظہیر حسن، عتیق وردگ، عنبرین خالد، اقصیٰ قریشی اور سعید اظہر کے نئے اور پرانے مضامین شامل ہیں۔ یہ شمارہ محمد سلیم کی نگرانی میں شبیہہ عباس، صائمہ بٹ اور مریم شاہین نے مرتب کیا ہے۔ مجھے پہلی بار لگا ہے کہ سرکاری اداروں کے سرکاری افسروں نے رسالے کے صفحہ ء اول پر بہت سا کام کرنے کے بعد اپنے نام چھپوائے ہیں۔ ورنہ ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ کام کشور ناہید، پروین ملک، قائم نقوی اور صفدر بلوچ کا ہوتا ہے اور کئی سرکاری افسرو ں کے نام مفت میں درج کر دیے جاتے تھے۔ میرے دیرینہ رفیقِ کار اور سینئر صحافی سعید اظہر نے اس کی پروف ریڈنگ کی ہے۔ مجھے تلاش کے باوجود اس میں پروف کی غلطی دکھائی نہیں دی۔ اگر یہ رسالہ کوئی پرائیویٹ ادارہ چھاپتا تو اس کی قیمت چار ہزار روپے سے کم نہ ہوتی، لیکن اس کی مجلسِ ادارت نے صرف چار سو روپے قیمت مقرر کرکے مطالعے کے شوقین افراد پر مہربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔

’’ماہِ نو‘‘ کا یہ خاص شمارہ میرے خیال میں ملک کے ہر تعلیمی ادارے کی لائبریری میں موجود ہونا چاہیے۔ اگر ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس شمارے کے بارے میں مضامین چھاپے اور مسلسل پروگرام کرے تو نئی نسل کو اپنے پہلے محسن کے بارے میں کماحقہ، آگاہی حاصل ہو سکتی ہے۔ پنجاب پبلک لائبریریز کے ڈی جی اور میرے دوست ڈاکٹر ظہیر بابر چاہیں تو نہایت بہترین حکمتِ عملی کے ساتھ ’’ماہِ نو‘‘ کا سرسید احمد خان نمبرپنجاب کی ہر لائبریری میں پہنچ سکتا ہے۔

مزیدخبریں