نظام کی لعنت

نظام کی لعنت
نظام کی لعنت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نواز ڈوگر ضلع قصور کے شہر آلہ آباد کا رہنے والا تھا ۔ روزگار کی تلاش اسے لاہو ر لے آئی ، برسوں مختلف کارخانوں میں خدمات سر انجام دینے کے بعد رائے ونڈ سند ر مانگا روڈ پر قائم ایک ٹیکسٹائل مل میں بھرتی ہوگیا۔ ۔ نواز ڈوگر یہاں ایڈمن منیجر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہا تھا ۔وہ ایک ملنسار ارو ہمدرد شخص تھا اس مل کے اکثر ملازمین اس سے بے پناہ خوش تھے ۔مزدور اپنے دکھ سکھ تک اس کے گوش گزار کرتے اور وہ حتی المقدور ان کی مدد کرتا تھا ۔اپنے دائرہ اختیار کے اندر ہر مسئلے کی تلافی ترجیحی بنیادوں پرکرتا ہروقت ہنستے مسکراتے چہرے والے اس شخص کی موت اتنی دردناک تھی کہ سانسیں ہارجانے کے بعد زندگی سے بے نور چہرے پر بھی آخری لمحات کی تکلیف جیسے رقم ہوگئی تھی۔

14اکتوبر کے دن بھی وہ معمول کے مطابق اپنے دفتر گیا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ مل کا یہ گیٹ وہ آخری بار پار کررہا ہے اور یہ ٹیکسٹائل مل آج اس کی مقتل گاہ بن جائے گی ۔ کارخانے میں کئی روز سے مزدوروں کی ہڑتال چل رہی تھی ۔انتظامیہ کے ساتھ مزدوروں کی روزہی تو تکررار ہوتی تھی ، معمولی جھگڑے بھی ہوجاتے تھے مگر اس روز تناؤ بہت زیادہ تھا ۔ مزدوروں کو لگ بھگ تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی ۔ معمولی اجرتوں پر کام کرنے والے ان مزدوروں کے گھر کا چولہا سرد تھا ۔ تنگ دستی کی کسی نے شکل نہیں دیکھی مگر یقیناً وہ بہت بھیانک ہوگی کہ انسان کو جانور بنا دیتی ہے ۔ مزدوروں کے اپنے مسائل تھے کسی کو کریانے والے نے ادھار بند کرکے صبح صبح لتاڑا ہوگا ، کسی کو دودھ والے کی سننی پڑی ہونگی ،کسی کے بچے کا نام فیس نہ دینے کے سبب سکول سے کٹ گیا ہوگا۔کسی کے بجلی گیس کے کنکشن منقطع ہونے والے ہونگے کوئی مالک مکان کی کڑوی کسیلی سن کر آرہے ہونگے اور بہت ساروں کو تو صبح ناشتے میں بیوی کی صلواتیں ہی ملی ہونگی ۔ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور آج یہ حد پار ہوگئی تھی برداشت ،صبر اور اندر کی گھٹن جب حدیں توڑتی ہے تو حیوانیت کے قالب میں ڈھل جاتی ہے ۔

اس روز بھی ایسا ہی ہوا۔ سو سے زائد مزدوروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ انتظامیہ کے دفتر پر چڑھ دوڑے ، ہجوم بے قابو ہوجائے تو کب کسی کے قابو میں آتا ہے لیکن اس روز اس ہجوم کا نشانہ نواز ڈوگر بن گیا ۔ وہ بھی کوئی سیٹھ تو نہیں تھا، ایک مزدور ہی تھا ۔ایڈمن منیجر کے دم چھلے نے اس کی جان لے لی۔ مزدوروں نے تشدد کرکے ایک مزدور کی زندگی چھین لی ۔خبر آئی کہ سو سے زائد مزدوروں کیخلاف مقدمہ درج ہوگیا ہے۔ میں نے لاہور پولیس کے پی آر او حماد رضا کی مدد لی ان کی ذاتی دلچسپی پر مشکور بھی ہوں جب ان کی کوششوں سے اس مقدمہ کے تفتیشی سب انسپکٹر سرور سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ نواز ڈوگر کے قتل کا مقدمہ ان کے لواحقین کی مدعیت میں چار افراد کیخلاف درج ہوا ہے۔ ۔ٹیکسٹائل مل مالک کے گناہوں کی سزا بھگتنے والا نواز ڈوگر تو منوں مٹی تلے دفن ہوگیا ، کچھ مزدور قاتل بن گئے اور اب ان کی ایک نسل کورٹ کچہریوں کے دھکے کھاتے قبر میں اُتر جائے گی کیونکہ اس قانون کو سمجھنے والے کہتے ہیں کہ تین سو دو کی دفعہ کسی ہرے بھرے درخت پر بھی لگادی جائے تووہ سوکھ جاتاہے مگر اس ساہو کا ر کوسزا کون دے گاجواس واقعہ کا اصل ذمہ دار بلکہ حقیقی قاتل ہے ۔

مزدوروں کی معمولی اجرتوں کو بھی روک لینے والے ان سیٹھوں کی اپنی عیاشیاں جاری رہتی ہیں ۔ ان کے ایک وقت کے کھانے کی قیمت بھی کئی مزدوروں کی ماہانہ اجرت سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے ہاتھ میں چمچماتی گھڑی کی قیمت سے کئی مزدوروں کے گھر بن سکتے ہیں مگر ان کے لبوں سے لفظ خسارہ جدا نہیں ہوتا اور اس سارے خسارے کا نزلہ گرتا ہے بے چارے مزدورں پر ۔۔۔نواز ڈوگر کے قاتل یہ مزدور نہیں جو مجبوریوں کی زنجیروں میں جکڑے اپنی اجرت بھی بھیک کی طرح لینے پر مجبور کردیے گئے ہیں ،نواز ڈوگر کا قاتل اس ٹیکسٹائل مل کا مالک ہے مگر اس پر مقدمہ تو درکنار کوئی اسے شامل تفتیش کرنے کی بھی جرأت نہیں کرسکتا۔۔۔

ایک لمحہ کیلئے فرض کرلیں اس مقدمہ کے تفتیشی کا ضمیر جاگ جاتا ہے ۔وہ اس مقدمہ میں ٹیکسٹائل مل کے مالک کو شامل تفتیش کرلیتا ہے قتل کے محرک یا وجہ عناد کو بُنیاد بنالیتا ہے تواس سے حاصل کیا ہوگا؟ایان علی کو نوٹوں سے بھرے بیگ کے ساتھ گرفتار کرنے والا انسپکٹر اعجاز چوہدری کتنے دن زندہ رہا ؟اس کے قاتل آج تک گرفتار اس لیئے نہ ہوسکے کہ بااثر طبقات کے معاملہ میں ہمارا قانون اندھا ،بہرہ ،گونگا بن جاتا ہے اس کی ساری صلاحیتیں ہی مرجاتی ہیں ۔ نیب کا ایک انتہائی ایماندار جواں سال افسر کامران فیصل جب رینٹل پاور پراجیکٹ اور اس جیسے دوسرے اہم مقدمات میں بڑے مگر مچھوں کی گردن تک پہنچ جاتا ہے تو ایک روز اچانک اپنے کمرے میں مردہ پایا جاتا ہے ہمارا قانون آج تک فیصلہ نہیں کرسکا کہ یہ قتل تھا یا خود کشی؟ اس نظام کی فرسودگی دیکھئے کہ اس نے قانون کو مٹھی بھر با اثر طبقے کی گھر کی لونڈی بنادیا ہے جبکہ باقی بیس کروڑ انسان جیسے صرف کیڑے مکوڑے ہیں یہ قانون ان کو ایک غلام جتنا درجہ اور حقوق بھی نہیں دے پاتا۔

یہاں کرپٹ بااثر نام نہاد اشرافیہ کی وفاداری کے بدلے تمغے اور ترقیاں ملتی ہیں جبکہ وطن عزیز اور اپنے فرض سے وفاداری نبھانے والوں کا جینا دو بھر کردیا جاتا ہے ۔۔۔تف ہے اس لعنتی نظام پر ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ