2018ء کا مشرقِ وسطیٰ

2018ء کا مشرقِ وسطیٰ
2018ء کا مشرقِ وسطیٰ

  

بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کو توقع ہی نہیں خواہش بھی ممکن نہیں رہی۔ یہ زخم شاید ہمیشہ رستا رہے گا۔ ایران میں ٹرمپ نے حکومت مخالف احتجاج کی حوصلہ افزائی ہی نہیں کی ہوا بھی دی ہے، شاید اس طرح امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران کی توجہ اندرونی حالات کی طرف کرکے اس کے علاقائی اثرورسوخ کو کم کردے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ایران پوری قوت کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کرنے کے بعد یورپین کمپنیوں کو بھی ایران سے تجارت کرنے پر بھی پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ سب اقدامات اور فیصلے امریکی فوجیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں، جو عراق میں ایران کی جوابی کارروائیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔اگرچہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، بلکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کے امکانات زیادہ ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ کے افق پر یہ دونوں ہی 2018ء میں چھائے رہیں گے، ایران میں فوجی پریڈ پر حملے کا الزام بھی سعودی عرب پر ہی عائد کیا گیا۔ اسرائیل اور امریکہ کو سہولت کار قرار دیا گیا،اِس کے بعد امکان ہو گیا ہے کہ دونوں کے درمیان سرد جنگ باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اِس واقعہ یا حادثہ کے علاوہ درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اول: ریاض میں جارحانہ عزائم رکھنے والی قیادت موجود ہے۔ دوم: یمن میں شروع ہونے والی جنگ دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سوئم: ایران اپنی عراق اور شام میں کامیابی کے بعد کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر کسی ’’ایڈونچر‘‘ کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔

ان سب میں کوئی وجہ بھی اتنی ٹھوس نہیں کہ امریکہ کی اس کوشش پر حاوی ہوجائے جو نہیں چاہتا کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی بڑا تصادم ہو جائے، کیونکہ یہ اس کی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے اور عالمی منڈی اور معیشت کے لئے بھی دھچکا بن سکتا ہے۔ 1980ء سے اِس خطے میں بڑی مضبوط امریکی موجودگی ہے اور صدر ٹرمپ بھی ایران کے بارے میں شدید ترین جارحانہ عزائم رکھنے کے باوجود ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ یہ آگ اسرائیل کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس کا دفاع امریکہ کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ اور ستون ہے، امریکہ جنگ کے بغیر ہی ایران کو تنہائی اور مشکل معیشت کا نشانہ بنانا چاہے گا، لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بحری جنگی جھڑپوں کے امکان کو نظر انداز کردیں، لیکن ’’جنگ‘‘ کے امکان کو بالکل رد کیا جا سکتا ہے۔

1980-88ء ایران عراق جنگ کے حالات اِن دونوں کے درمیان دہرائے جانے کی نہ وجہ موجود ہے اور نہ ہو گی،لیکن اگر ایسے حالات بنتے دکھائی دیئے تو امریکہ کی فوری مداخلت ایسا نہیں ہونے دے گی، جب تک امریکی حکمت عملی تبدیل نہیں ہوتی۔ ویسے تو عالمی مارکیٹ میں استحکام ایران کا اپنے داخلی معاملات میں کافی حد تک اُلجھ جانا 2018ء میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے لئے حوصلہ افزا ہیں، لیکن کویت میں ہونے والے دسمبر 2017ء کے اجلاس جس میں خلیجی ریاستوں کے باہمی اختلافات واضح ہوئے تھے، اس تعاون کونسل کے مستقبل پر سوال اُٹھا دیئے تھے۔ سعودی عرب اور عرب امارات کے سینئر اہل کار اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ قطر کے مسئلے پر جون 2017ء میں ان سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں، لیکن اس کے باوجود یہ دونوں اس طرف آمادہ دکھائی نہیں دیتے کہ وہ قطر کے ساتھ مذاکرات اور کسی قسم کا معاہدہ کرنے یا تلخی ختم کرنے کے لئے تیار ہیں، بلکہ یہ کشیدگی طویل سے طویل تر ہوتی جائے گی۔

برسوں سے ابھی تک خلیج میں کوئی سیاسی، معاشی، سلامتی کے مفادات پر کوئی خاص زرد پڑتی دکھائی نہیں دیتی۔ قطر نے بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی ہے، جس سے تعاون کونسل کی پابندیوں کا خاص اثر دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ نے بھی اس خطے میں کئی مشترکہ جنگی مشقیں ملتوی کر دی ہیں۔ سفارتی سطح پر بھی خلیج تعاون کو اپنی کونسل میں تضادات دکھائی دیتے ہیں، سعودی عرب اور عرب امارات ایک نئے معاہدے کی تیاری کررہے ہیں، جبکہ ملٹری، سیاسی، معاشی، تجارتی اور تہذیب اور معاشرت کے حوالے سے دو علیحدہ علیحدہ اتحاد بنتے نظر آرہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین ایک اتحاد ہے،جبکہ قطر، کویت اور اومان دوسرا اتحاد بن گیا ہے، جو سعودی عرب کی اجارہ داری کے لئے ایک چیلنج ہے۔

یہ تو تھی 2018ء میں خلیج کی صورت حال۔مشرق وسطیٰ میں ترکی کے مفادات بھی ہیں اورامریکہ تو پوری دنیا کا پڑوسی ہے، 2017ء میں ان کے شروع ہونے والے ’’مفادات کے تنازعات‘‘ مزید خراب ہوگئے ہیں۔ 2019ء میں ہونے والے ترکی کے صدارتی انتخابات کے لئے طیب اردوان اقتدار اور اختیارات پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرتے نظر آتے ہیں، خصوصاً کردوں کے علاقے میں اُن کی جارحانہ سیاسی سرگرمیوں زور پکڑ رہی ہیں، خصوصاً ری پبلکن پیپلز پارٹی کے خلاف ’’سلامتی کے لئے خطرہ‘‘ قرار دیا جانا اور خصوصاً اِس پارٹی کی طرف سے یہ الزامات لگائے جانے کے بعد کہ طیب اردوان کے خاندان کے افراد منی لانڈرنگ کے ذریعہ آف شور کمپنیوں اور بیرونی بینکوں میں سرمایہ کاری جیسے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔

2019ء سے پہلے ہی شاید طیب اردوان قبل ازوقت انتخابات کا اعلان کردیں، تاکہ اپوزیشن کے لئے موثر انتخابی مہم چلانے کا وقت نہ ہو،امریکہ اور ترکی کے تعلقات 2017ء میں مزید خراب اس وقت ہوئے، جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لئے ویزا سروس بند کردی۔ سفیر بھی واپس چلے گئے ہیں اور شاید کچھ وقت تک نئے سفیروں کی تقرری بھی نہ ہوسکے۔ الفاظ کی جنگ میں بھی تیزی دکھائی دیتی ہے، پچھلے ہفتے صدر ٹرمپ کے نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزر نے شام میں ادلیب کے مسئلے پر ترکی پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ ترکی کی افواج ادلیب میں داخل ہوئی ہیں اور ان کی رہنمائی القاعدہ کے جنگجو کر رہے تھے۔ 2018ء میں ترکی، امریکہ کشیدگی تیز تر ہوتی دکھائی دیتی ہے اور اگر امریکہ نے ایران پر پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کیا تو مزید ایک وجہ بن جائے گی، کیونکہ حالیہ دنوں اور مہینوں میں ترکی اور ایران کے تعلقات بہت بہتربلکہ مضبوط ہوئے ہیں۔2018ء میں روس شام میں اپنی فوجی موجودگی کے ساتھ خانہ جنگی ختم کرانے کے لئے سیاسی کوشش بھی کرے گا۔

صدر بشارالاسد کی حکومت نے اپوزیشن کو اپنی شرائط پر جنگ بندی کی پیش کش، بلکہ ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی ہے، چنانچہ یہ علامت ہے کہ شام کی حکومت روس کی مصالحت کنندہ کی حیثیت کو اہمیت نہیں دے رہی، کیونکہ وہ اپوزیشن کے آخری ٹھکانے کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن آہستہ آہستہ ہی سہی، سرکاری فوج کی پیش کش جاری ہے، لیکن روس اور شام دونوں یہ بھی جائیں گے کہ اپوزیشن یعنی باغی فوج میں جو لوگ مذاکرات کے لئے آمادہ ہوں تو ان مذاکرات میں امریکی رضا مندی بھی شامل کرلی جائے،بشارالاسد کا انحصار روس پر کم ہوگیا ہے، کیونکہ اسے مضبوط ایرانی ’’پشت پناہی‘‘ مل گئی ہے۔

اب اس حکمت عملی نے شام میں امن کے امکانات روشن کر دیئے ہیں۔اس وقت قریب دو ہزار امریکی فوجی شام میں ہیں،تاکہ آئی ایس آئی ایس معاہدہ اپنے قدم نہ جما سکے، ان کی موجودگی کی وجہ سے بات مذاکرات تک پہنچی ہے، لیکن مکمل پُرامن قیام کے لئے انتظار کرنا پڑے گا، فی الحال امریکی فوجی شام میں مقیم رہیں گے۔ اس وقت امریکہ کے ساتھ یاترکی، تہران، بغداد اور دمشق پس پردہ مشترکہ کوششوں میں مصروف ہیں، شام میں کردوں کے خودمختاری کے مطالبہ سے کیسے نپٹا جائے، کیونکہ یہ لہر دیگر ہمسایہ ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -