اساتذہ کی تربیت

اساتذہ کی تربیت

  

جہالت کے خاتمے کے لئے تعلیم و تربیت لازمی ہے۔ تعلیم میں بہتری لانے کے لئے تربیت یافتہ اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل بھی سکولوں اور کالجوں میں تعلیمی خدمات انجام دینے کے لئے تربیتی ادارے موجود تھے۔ جن کو نارمل سکولز کہتے تھے جہاں ماہر اساتذہ کی نگرانی و تربیت میں ٹیچرز کو پرائمری اور مڈل سکولوں میں پڑھانے اور علوم بچوں کو منتقل کرنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ یہ عمل جاری رہا۔ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ان سکولوں کا درجہ بڑھا کر گورنمنٹ ایلیمنٹری ٹیچرز ٹریننگ کالجوں کا درجہ دے دیا گیا جو کہ ایک سالہ پروگرام کے بعد پی ٹی سی، سی ٹی او ٹی، ڈرائننگ ٹیچرز کو سرٹیفکیٹ جاری کر سکتے تھے۔

جس کی بنیاد پر انہیں سکولوں میں ملازمت مل جاتی تھی۔(2003-2004) میں حکومت پنجاب نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے نہ صرف پاکستان بلکہ صوبہ پنجاب میں پہلی ٹیچرز ٹریننگ یونیورسٹی قائم کی۔ جس کا پنجاب اسمبلی نے چارٹر بھی منظور کیا۔اب پنجاب کے 36 اضلاع میں قائم گورنمنٹ ایلیمنٹری ٹیچرز ٹریننگ کالجوں کو یونیورسٹی کالجوں کا درجہ دیتے ہوئے یہاں پر مختلف گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ کلاسز کا اجراء کیا گیا۔۔۔مثلاً:

-1 بی ایڈ صبح/ شام

-2 ایم ایڈ صبح/ شام

-3 بی۔ ایس ایجوکیشن۔ صبح

-4 ایم۔ ایڈ/ بی ایڈ (اسپیشل ایجوکیشن)

-5 بی۔ ایڈ۔ ارلی چائلڈ ہوڈ

-6 ایم۔ اے ایجوکیشن وغیرہ کا اجراء ہوا۔

یہ ایک ’’خاموش تعلیمی انقلاب‘‘ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ ان 35 اداروں سے ہر ایک سے ہزاروں طلبہ و طالبات گریجوایشن/ پوسٹ گریجوایشن مکمل کر کے تعلیمی و تربیت اور ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کو حکومت پنجاب نے بطور (Educator) (BS-9 to BS-17) بھرتی کیا۔ ان میرٹ کے حامل نوجوانوں نے نہ صرف این ٹی ایس بلکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھی پاس کیا اور ملازمت کے حق دار ٹھہرے۔ ان تعلیمی اداروں میں حکومت پنجاب اور دیگر ملکی اور غیر ملکی تعلیمی معاون ایجنسیوں نے اربوں روپے خرچ کئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان 35 کالجوں میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں۔ جیسے وسیع و عریض بلڈنگ (نئی و پرانی)، لائبریری، کمپیوٹر لیب اور اس سے متصل لیبارٹری سکول اور بڑے شہروں میں ہوسٹل بھی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر 600 اساتذہ جن کی تعلیمی قابلیت (ایم اے، ایم ایس سی، ایم ایڈ) تھی اور انہوں نے این ٹی ایس اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کو پاس کر کے بی ایس 17 سے بیس ایس 20 بطور (سبجیکٹ سپیشلسٹ/ سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ) تعینات ہوئے تھے۔

ان اساتذہ کی مزید ٹریننگ ڈائریکٹریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ نے بھی کی جو کہ حکومت کا فوکل ادارہ تھا۔ اس ادارے نے اساتذہ کو بیرون ملک بھی تربیت دلائی۔ یہ ادارے دو ہی مقاصد کے لئے کام کرتے تھے۔ قبل از ملازمت پری سروسز، دوران ملازمت ان سروسز دونوں ہی ٹاسک ان کالجوں نے باحسن و خوبی ادا کئے۔ لیکن 2015ء میں سابقہ حکومت پنجاب نے ان تعلیمی اداروں میں جاری پری سروس (قبل از ملازمت) تعلیمی پروگراموں کو فوری طور پر بند کر دیا اور 35 تعلیمی اداروں میں صرف ان سروس ٹریننگ اکیڈمی قائم کر دیں۔ جس کی وجہ سے متوسط طبقہ بالخصوص طالبات جن کی تعداد ان تعلیمی اداروں میں 98 فیصد تھی۔ ان پر بی۔

ایڈ، ایم۔ ایڈ۔ ایم اے ایجوکیشن، بی،ایس، بی۔ ایس اسپیشل ایجوکیشن اور دیگر پروگراموں پر داخلہ کی سہولت چھین لی گئی جو کہ سراسر ناانصافی ہے اب طلبہ و طالبات مجبور ہیں کہ مارکیٹ میں موجود کم معیار کے تعلیمی اداروں میں بھاری فیسوں کے عوض داخلے پر مجبور کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اب لاکھوں روپے جیب میں ہوں تو تب ہی ان پرائیویٹ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے ممکن ہیں۔ جبکہ سابقہ 35 کالجوں میں طلبہ اپنے گھر کے قریب اپنے ہی ضلع میں صرف پندرہ ہزار روپے فیس جمع کروا کر حکومتی خرچ پر تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ دوسری طرف (600 کوالیفائیڈ اساتذہ) اور کالجوں کے وسائل اور ان اداروں کی پروفیشنل لیگیسی ضائع ہو رہی ہے۔

جناب یہ تعلیمی ادارے دونوں ہی گول یعنی ٹاسک کی ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں۔ یہی ان تعلیمی اداروں کا قانونی مینڈیٹ اور تعلیمی فیچرز ہے۔ جس کے لئے ان کو قومی خزانے سے بھاری وسائل خرچ کر کے بنایا گیا تھا اور انہوں نے ایک لمبا تعلیمی سفر بھی کوالٹی اور کامیابی سے طے کیا ہے۔لہٰذا غریبوں اور متوسط طبقہ کی نمائندگی کے دعویٰ دار وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ پجاب، وزیر تعلیم پنجاب اور چیف جسٹس پاکستان خصوصی نوٹس لیں۔ اور پنجاب کے ان 35 اضلاع میں حسب سابق پری سروس ٹریننگ کورسز (قبل از ملازمت) اسی سال 2018ء میں دوبارہ اجراء کیا جائے حکومت کو اس کام کے لئے کسی اضافی رقم کی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ 600 اساتذہ کالجوں میں ضروری سہولیات، وسائل، ذرائع اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی رجسٹریشن پہلے ہی سے موجود ہے حکم جاری کر کے اسے از سر نو داخلہ 2018ء کو یقینی بنایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -