نئے حکومتی بم

نئے حکومتی بم
نئے حکومتی بم

  

تخت تبدیل بھی ہو سکتا ہے تختے میں کبھی

اپنے عہدے سے وہ معزول بھی ہو سکتا ہے

جانتا کون تھا خاور وہ درخشاں تارا

گر کے آنکھوں سے کبھی دھول بھی ہو سکتا ہے

شاعر نے تو شاید یہ شعر سابق حکومت پر کہا ہو گا جو یقیناََ ٹھیک بھی ہے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے کہ جب حد سے گزر جانے والوں کے سروں پر پڑتی ہے تو آواز تک سنائی نہیں دیتی مگر سابق حکومت قصہ پارینہ بن چکی ہے اپنے کئے کی سزا بھگت رہی ہے مگر یہ نئی تبدیلی کی دعوے دار حکومت کس ڈگر کی جانب چل پڑی ہے۔ 18 اگست 2018کو بننے والی حکومت ابھی تو خود شیر خوار ہے اور ابھی سے ہی بڑے بڑے فیصلے کرنے شروع کر دیے ہیں کیا یہی تبدیلی تھی جس میں غریب عوام جو کہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی اس پر مزید مہنگائی کا بوجھ لادنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اس عوام پر مختلف طرح کے بموں کا تجربہ کرنے کا سوچا جا رہا ہے جن میں قابل ذکر بجلی بم، گیس بم، پٹرول بم، ٹیکس بم اور انکم ٹیکس جیسے بڑے بڑے بم شامل ہیں ۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق وزارت مالی معاملات کے وزیر اسد عمر نے بجلی کے نرخوں میں دو روپے فی یونٹ تک کے اضافے کا عندیہ دیا ہے جو بڑھ کر چار روپے فی یونٹ تک جا سکتا ہے جو کہ غریب عوام کے ساتھ بھدا مذاق ہے۔ وہ عوام جو پہلے ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مختلف طرح کے ٹیکس دے رہی ہیں جن میں الیکٹری سٹی ڈیوٹی 1.5% ، جنرل سیلز ٹیکس 17% ، نیلم جہلم سرچارج، پی ٹی وی فیس ، فنانسنگ کوسٹ سرچارج اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں جو کہ صرف 300 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین ہیں جبکہ 300یونٹ ماہانہ سے زائد یونٹ استعمال کرنے والوں پر ٹیرف ریشنلائزیشن نامی ٹیکس بھی لگا دیا جاتا ہے جبکہ کمرشل بلوں میں انکم ٹیکس بھی شامل ہوتا ہے یعنی کہ اگر ہم 300 یونٹ کے گھریلو میٹر کے بل کا حساب لگائیں تو استعمال شدہ بجلی کی اصل قیمت 2642روپے بنتی ہے جبکہ اس قیمت پر 751 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور کل ملا کر بات 3393 روپے تک جا پہنچتی ہے ۔اس کے علاوہ جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں کی لائن لاسز دور کرنے اور اپنی نا اہلی چھپانے کے لئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے غریب و شریف عوام پر اضافی بوجھ لاد دیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ واپڈا ملازمین جو مفت یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ وہ بھی عذاب کی صورت میں عوام پر پڑتے ہیں اور اب جبکہ نئی حکومت کی جانب سے فی یونٹ میں دو سے چار روپے اضافہ کیا جا رہا ہے جس کی بدولت عوام کے کندھوں پر تقریباََ چار سو ارب روپے ماہانہ کا بوجھ پڑے گا تو آپ خود اندازہ لگا لیں کہ آنے والے دنوں میں بجلی کا بل کہاں سے کہاں تک جا پہنچے گا ۔

حال ہی میں اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت وہ گھریلو صارفین جن کو ماہانہ گیس بل 220 روپے آتا تھا اب وہ 275 روپے ماہانہ بل ادا کیا کریں گے یعنی کے فی میٹر 55 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ 1352 روپے میں 11.8kg کا فروخت ہونے والا سلنڈر 1673روپے میں 321 روپے کے اضافے کے ساتھ دستیاب ہوگا گیس بلوں میں اضافے سے غریب عوام مزید تنگدستی کا شکار ہو گی جس تنگ دستی کو دور کرنے کے لئے تبدیلی کو ووٹ دیا اس کے ساتھ ساتھ پیٹرول ایک سو دس روپے فی لیٹر تک مہنگا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور یہ تما م تر بوجھ صرف اور صرف غریب عوام پر لادا جائے گا جبکہ ذخیرہ اندوز اس آنے والی مہنگائی کے سونامی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور لٹیں گے تو صرف غریب۔ گڈ گورننس کے نام پر عوام کے ساتھ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ شاید مڈل کلاس کے طبقے کو ہی ختم کر دے اور دو ہی قسم کی کیٹگری بچے جن میں وہ لوگ شامل ہوں جو امارت کے خط استوار سے اوپر ہوں اور یا وہ لوگ جو غربت کے خط استوار سے نیچے کیونکہ جہاں ایک جانب تو مہنگائی کا جن بوتل سے نکلنے ہی والا ہے وہیں دوسری جانب ڈالر نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں اونچی اڑان بھر لی ہے اور تبدیلی کے چند دنوں بعد ہی بیس روپے کے اضافے کے ساتھ مظلوم پاکستانی عوام کو منہ چڑھاتا ہوا ہاتھ سے نکل گیا ہے جس کی بدولت پاکستان پر گردشی قرضوں کے حجم میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے اور اس اضافی قرض کو اتارنے کے لئے پاکستان کو مزید نیا قرض درکار ہے اور نئے قرض کے تناظر میں ہی آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پرمعاہدے ہونے جا رہے ہیں جس کے تحت اوپر بیان کردہ مہنگائی کے بم جلد پھٹنے والے ہیں اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس ہو شربا مہنگائی پر (ن) لیگی رہنماؤں کی جانب سے قابل ذکر بیان سامنے نہیں آ رہے اور آئیں بھی تو کیسے؟ کیونکہ اس تمام کارستانی میں سو فیصد ہاتھ سابقہ (ن) لیگی حکومت ہی کا ہے جنہوں نے قرض پہ قرض لے کر ہوا میں اڑا دیے اور اس قرض سے کوئی خاطر خواہ فوائد حاصل نہ کر سکی۔

یہاں پر ایک بات وزیر اعظم عمران خان صاحب سے کہنا چاہوں گا کہ سابق حکومت کی جانب سے کیے گئے غیر ضروری اور غلط اقدامات کی سزا پہلے سے پسی ہوئی غریب عوام کو نہ دیں بلکہ ملک سے لوٹا ہوا پیسہ ملک میں واپس لائیں ان چوروں لٹیروں کی جاگیروں کو نیلام کریں۔ بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالیں۔ قانون کی گرفت مضبوط کریں اور ہو سکے تو خان صاحب اپنی توجہ ریکوڈک منصوبے پر بھی مرکوز کر کے دیکھیں امید کرتے ہیں کہ آپ کو مہنگائی بم گرانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -