…… تو پھرعوام نوکریوں کے لئے کِدھر جائیں؟

…… تو پھرعوام نوکریوں کے لئے کِدھر جائیں؟

  



وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے عوام سے کہا ہے کہ وہ حکومت سے نوکریاں نہ مانگیں، روزگار دینا حکومت کا نہیں نجی شعبے کا کام ہے، حکومت صرف ماحول پیدا کرتی ہے حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی،حکومت چار سو سرکاری محکمے بند کرنے پر غور کر رہی ہے یہ محکمے معیشت پر بوجھ ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا ہم روزگار دِلانے میں لگ جائیں تومعیشت تباہ ہو جائے گی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے(اپنے اپنے ادوارِ حکومت میں) نوکریوں کی بندر بانٹ سے اداروں کو تباہ کیا۔ ”پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے“ شاید ایسے ہی مواقع پر بولا جاتا ہے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا وفاقی وزرا کورس کے انداز میں ہر روز کہہ رہے تھے کہ پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دیئے جائیں گے۔ ایک وفاقی وزیر نے تو خیر سے کئی بار کہا کہ پاکستان میں اتنی زیادہ نوکریاں پیدا ہوں گی کہ باہر سے لوگ ملازمت کے لئے پاکستان آیا کریں گے، پھر بھی نوکریاں زیادہ ہوں گی اور امیدوار کم،یہ خوش کُن دعویٰ وزیر باتدبیر آج بھی کبھی کبھارکرتے رہتے ہیں،ایک بار یہ بھی فرما دیا کہ انہوں نے اپنے ذاتی وسائل سے کچھ نوکریاں دینے کا آغاز بھی کر دیا ہے،ایک طرف تو ایسے بلند بانگ اور دلفریب دعوے تھے اور اب دوسری طرف وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے سرے سے ہی ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں کہ ملازمتیں دینا حکومت کا کام ہی نہیں۔ یہ نجی شعبے کا کام ہے،اُن کے اس فرمان پر کوئی دِل جلا شاید کہہ دے کہ عوام اگر نوکریوں کے لئے حکومت کی جانب نہ دیکھیں تو کیا لنگر کی کچی پکی روٹیوں پر نظر رکھیں۔

اس حد تک تو بات درست ہے کہ ملک کی وسیع آبادی کو سرکاری شعبے میں مطلوبہ ملازمتیں نہیں دی جا سکتیں،لیکن یہ بات بھی تو غلط نہیں کہ جو ملازمتیں مختلف شعبوں میں موجود ہیں وہ تو میرٹ پر دی جائیں اور مستحق افراد ان نوکریوں پر لگائے جائیں،لیکن بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ اگر نائب قاصد کی دس بیس آسامیاں پیدا ہوتی ہیں تو اس کے لئے ہزاروں درخواست گزار درخواستیں لے کر پہنچ جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں،جو سرکاری ملازمت کی امید پر اوورایج ہونے والے ہوتے ہیں،ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اگر چپڑاسی بھی بھرتی ہو گئے تو اپنی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر دورانِ ملازمت مزید ترقی کر جائیں گے،اب تو ایک مثال بھی سامنے آ رہی ہے کہ گریڈ ایک میں بھرتی ہونے والا ایک افسر ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور اپنے لئے سرکاری وسائل کی وساطت سے اتنی دولت پیدا کر لی،جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا،لیکن شاید ان سادہ لوح لوگوں کو معلوم نہیں کہ ایسے مواقع نہ تو ہر کسی کو ملتے ہیں اور نہ ہی ہر نائب قاصد افسر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت صرف ایسا ماحول فراہم کرتی ہے،جس سے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں،لیکن معاف کیجئے چودہ ماہ کی تحریک انصاف حکومت نے اب تک تو ایسا ماحول بھی تخلیق نہیں کیا،جس سے ملازمتیں پیدا ہوں،بلکہ حکومت کے اقدامات سے تو وسیع پیمانے پر بیروزگاری پھیلی ہوئی ہے۔آج ہی کے اخبارات میں ایک خبر چھپی ہوئی ہے کہ فیصل آباد کے تاجروں نے ہڑتال کر دی ہے اور یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو وہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں اُن کا ساتھ دیں گے،تاجروں کی ایک بڑی ہڑتال27 اور28 اکتوبر کو بھی ہونے والی ہے۔یہ ہڑتالیں اس امر کی جانب اشارہ ہیں کہ روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں،اس وقت ملک میں کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے،جہاں بیروز گاری کا عفریت منہ کھولے نہ کھڑا ہو،جو لوگ ابھی کل تک لاکھوں روپے کما رہے تھے اور نتیجے کے طور پر خوشحال زندگی بسر کررہے تھے اب بچوں کی فیسیں ادا کرنے سے عاجز ہیں اور ان کے بچوں کو سکولوں سے نکالا جا رہا ہے کیونکہ اب اُن کی آمدنی بند ہو چکی ہے اور اُن کے اداروں میں شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے، جو صنعتیں چند سال سے پھل پھول رہی تھیں اور جہاں ملازمتوں کے مواقع بڑھنے کے ساتھ ساتھ تنخواہیں بھی بڑھ رہی تھیں اب وہاں اوّل تو ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور جہاں کہیں موجود ہیں وہاں تنخواہیں کم ہو گئی ہیں، بڑی بڑی خوشحال صنعتیں حرماں نصیبی کی تصویر پیش کر رہی ہیں، دیہاڑی دار مزدوروں کو مزدوری میسر نہیں، جنوبی پنجاب سے ہزاروں لوگ لاہور میں آ کر ترقیاتی منصوبوں میں مزدوری کر رہے تھے اور ایسے محسوس کرتے تھے جیسے وہ دبئی آئے ہوں،ایک نوکری چھوڑتے تھے تو دو دستیاب ہوتی تھیں،لیکن جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے لاہور میں ایک بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہوا،پہلے سے جاری بڑے بڑے پراجیکٹس کے ٹھیکیداروں کو بروقت ادائیگیاں نہیں ہو رہیں،جس کی وجہ سے وہ مزدوروں کو بھی اُجرتیں نہیں دے پا رہے،جنوبی پنجاب کے یہ مزدور روزگار نہ ملنے کی وجہ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے۔معلوم نہیں ایسے لوگوں کے لئے حکومت نے کوئی لنگر خانہ کھولا ہے یا نجی شعبے کی کسی مخیر شخصیت کا انتظار کر رہی ہے، جو ایسا کوئی لنگر کھولے اور اس پر تختی حکومت کی لگ جائے جیسے سیلانی کے لنگر کو حکومت نے اپنا بنا لیا، جوپہلے ہی 62 ہزار افراد کو روزانہ کھانا کھلا رہا ہے۔حکومت اگر ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں کرے گی تو لنگر خانوں کی تعداد بڑھانا پڑے گی،لیکن لگتا ہے کچھ عرصے کے بعد حکومت لنگر خانوں سے بھی ہاتھ اُٹھا لے گی اور کوئی عقل مند وزیر یہ اعلان کر دے گا کہ بھوکوں کو روٹی کھلانا حکومت کا کام نہیں۔

نجی شعبہ لوگوں کو ملازمتیں اسی وقت فراہم کر سکتا ہے جب ملکی معیشت 7فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہو، لیکن اس وقت عالم یہ ہے کہ شرح ترقی بمشکل2.4 فیصد تک پہنچتی دکھائی دیتی ہے اور عالمی اداروں کا خیال ہے کہ اگلے برس یہ شرح بمشکل حاصل ہو گی اور2024ء تک یہ شرح5فصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔یہ شرح اگر حاصل بھی ہو جائے اور اس کے حصول تک حالات سازگار رہیں تو بھی یہ اِس قابل نہیں ہوگی کہ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے،ایسے میں نجی شعبہ کہاں سے ملازمتیں دے گا؟ اور وہ ماحول کہاں سے آئے گا، جو حکومت فواد چودھری کے بقول بنانا چاہتی ہے،تاکہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں۔اب سرکاری ملازمتوں کا باب تو بند ہی سمجھنا چاہئے، کیونکہ ایک وزیر نے صاف کہہ دیا ہے کہ ملازمتیں دینا حکومت کا کام ہے ہی نہیں،نجی شعبہ فی الحال اس قابل نہیں کہ نئی ملازمتیں تو کجا پرانی ملازمتیں ہی برقرار رکھ سکے، ایسے میں بیروزگاروں کی فوج ظفر موج نوکریوں پر نہیں،لنگر خانوں پر نظر رکھے جو ابھی معلوم نہیں کب کھلنے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ