ایس ای سی پی کے خالد مرزا کی دہائی!

ایس ای سی پی کے خالد مرزا کی دہائی!

  



اس بات کو خود حکومتی ذرائع،بلکہ وزیراعظم بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ بیورو کریسی کام سے گریزاں ہے اور خوفزدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے،اس سلسلے میں بات نیب تک پہنچی،چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بیورو کریٹس کے روبرو تقریریں کیں ان کو یقین دلایا،حتیٰ کہ ایسے احکام جاری کئے،جن کے تحت کسی سرکاری افسر کے خلاف شکایت پر کارروائی یا اس کو بلانے سے قبل چیئرمین سے اجازت لی جائے گی۔یہ سب اپنی جگہ،لیکن یہاں ایس ای سی پی کے چیئرمین خالد مرزا نے بھانڈا ہی پھوڑ دیا ہے۔خالد مرزا اچھی شہرت کی حامل اہل شخصیت ہیں اور ان کو موجودہ حکومت ہی نے چیئرمین بنایا تھا۔ خالد مرزا نے شکوہ کیا کہ ان کے ادارے کو کام ہی نہیں کرنے دیا جاتا۔ یہ ادارہ مختلف قوتوں کے دباؤ کا شکار ہے،ان میں سرکاری تو ہیں،مارکیٹ کی بعض مضبوط قوتیں بھی شامل ہیں،ان کا مزید کہنا ہے کہ ایس ای سی پی کے18سے20 لوگ اُٹھا لئے گئے ان کو چھوڑا نہیں جا رہا،حالانکہ ان کے خلاف الزامات کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوا کہ کوئی کسی کی سننے کو تیار نہیں،خالد مرزا کے مطابق جو کام ایس ای سی پی کے دیکھنے والے ہیں ان کو نیب کا ادارہ دیکھ رہا ہے،حالانکہ ان کے پاس ماہرین نہیں،ایسی حالت میں یہ ادارہ کام ہی نہیں کر سکتا اور نہ کر رہا ہے،ان کے مطابق بعض قوتوں میں سے ایک دو کا تعلق عالمی مافیا سے بھی ہے۔ چیئرمین خالد مرزا نے مزید انکشاف بھی کیا کہ کسی کو مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر کی پروا نہیں، اور جہاں تک ایس ای سی پی کے حاضر عملے کا تعلق ہے تو وہ سب خوفزدہ ہیں اور کام نہیں کرتے کہ نامعلوم کب ان کی باری آ جائے۔ خالد مرزا کی تفصیلی گفتگو بڑی چشم کشا اور خود فریبی کے دائرہ سے باہر لانے والی ہے، ایک طرف تو کیپیٹل مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر کی منت سماجت کی جا رہی ہے اور دوسری طرف حالت ِ زار یہ ہے کہ نیب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے،ان حالات اور خیالات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی سے کسی کو انکار نہیں اور اب تک کی تشہیر سے عوامی ذہن بھی بن چکا، کم از کم سیاست دان تو راندہ درگاہ ہیں۔اگر یہ سب سچ ہے تو پھر تحریک انصاف اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان نے ادارے درست کرنے کا جو نعرہ لگایا اور کہا تھا کہ سب درست کئے جائیں گے تو ایسا کیوں نہیں ہو رہا،الٹا کام کرنے والے خوفزدہ ہیں،حکومت کو ان شکایات کا تحمل سے جائزہ لینا ہو گا کہ حالات اچھے نہیں۔اگر یہی صورت رہی تو ”نیا پاکستان“ کا خواب پورا نہیں ہو سکتا اور حالات مزید بدتر ہوں گے۔خالد مرزا تو خود ان کی اپنی پسند ہیں،ان کی باتوں پر ہی غور کر لیں، اداروں کو اعتماد دیں اور کرپشن کے خلاف مہم کو غیر جانبدار،بلا امتیاز بنائیں اور اتنے تیز نہ چلیں کہ ہر ایک ہی چور ہے،ثبوت کے ساتھ بات کی جائے یہی بہتر راستہ ہے۔

مزید : رائے /اداریہ