جو بچھڑ گئے

جو بچھڑ گئے
جو بچھڑ گئے

  



یہ 1972ء کے تیسرے مہینے کی بات ہے، مَیں نے روزنامہ مغربی پاکستان میں کام شروع کیا، اس سے پہلے جناب استاد محترم حسین تقی صاحب کے ساتھ پی پی آئی میں تھا۔1971ء کے اندوہناک واقعات کے بعد بھٹو شہید نے حکومت بنائی۔ ہر طرف عوامی راج کے چرچے تھے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد کرنافلی پیپر ملز سے نیوز پرنٹ کی آمد بند ہو چکی تھی، اب اخباری کاغذ غالباً لاطینی امریکہ سے منگوانا پڑتا تھا اور اس کے لئے حکومت نے پرمٹ سسٹم بنایا تھا۔ بعض چھوٹے اخبارات، جو اشتہارات کی آمدن کی کمی کے سبب چل نہیں پاتے تھے، انہیں کاغذ کی بلیک مارکیٹ میں فروخت سے آمدن ہو جاتی تھی۔ مولانا کوثر نیازی مرحوم وزیر اطلاعات تھے، انہیں پرمٹ جاری کرنے کا اختیار تھا۔

بھٹو کی حکومت میں صوبائی وزراء، وزرائے اعلیٰ اور وفاقی کابینہ کے ارکان کو اپنی اپنی وزارت پر مکمل کنٹرول تھا اور وہ پالیسی بنانے میں آزاد تھے، لیکن وزیراعظم کو کارکردگی کے حوالے سے جوابدہ تھے۔ ابھی پاکستان کی سیاست میں شیر اور خادم اعلیٰ کی آمدنہیں ہوئی تھی کہ ارکانِ کابینہ بے چارے بن جاتے اور اپنے جاننے والوں سے گزارش کرتے کہ مَیں وزیراعلیٰ یا وزیراعظم سے ملاقات کا وقت دلوا دوں۔ خیر یہ بات الگ سے کرنے کی ہے۔ کہنا صرف یہ تھا کہ مولانا کوثر نیازی اپنی وزارت کے احکامات اور پالیسی کے حوالے سے مکمل طور پر بااختیار تھے، لہٰذا جن چھوٹے اخباروں کے ساتھ ان کی دوستی تھی، انہیں پرمٹ قدرے بڑا مل جاتا اور کاغذ کا بڑا حصہ مارکیٹ میں مہنگے داموں بک جاتا۔ اب جیسا کہ مَیں نے لکھا ہے، آپ اسے بلیک بھی کر سکتے ہیں۔ سو جناب ہمارے اخبار کا کاغذ بھی مارکیٹ میں بک جاتا۔ کوثر نیازی صاحب کے ان دنوں دو اصحاب دست راست سمجھے جاتے تھے۔ محترم نذیر ناجی اور لاہور ٹی وی سٹیشن کے جنرل منیجر ظہیر بھٹی۔

اخبار میں میرے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سید امتیاز راشد بھی تھے۔ ناجی صاحب کی ادارت میں مغربی پاکستان اخبار میں جن لوگوں نے شمولیت اختیار کی تھی۔ان میں نصرت جاوید، مستنصر جاوید، اشفاق سلیم مرزا بھی شامل تھے۔ مستنصر، اشفاق سلیم مرزا اور مَیں محلہ دار اور بچپن کے دوست ہیں۔ اشفاق سلیم مرزا اس وقت پاکستان کے ممتاز فلسفی دانشوروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔مَیں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اپنے اس تعلق کے باوجود میری دوستی امتیاز راشد اور میاں فیاض فوٹوگرافر کے ساتھ تھی۔ ناجی صاحب شام ڈھلے دفتر سے نکل جاتے اور پھر لہکتے جھومتے واپس آتے۔ ان کے ساتھ اسی مستانہ روی میں سید عباس اطہر بھی شامل ہوتے۔ امتیاز راشد سیڑھیوں سے آواز لگاتے۔

باملاحظہ ہوشیار، دو بادشاہ آتے ہیں۔ امتیازان دونوں حضرات کو گلی میں سے دیکھ لیتے۔ ان کے آنے پر کسی نہ کسی کی شامت ضرور آتی۔ امتیاز راشد اورمیاں فیاض کے مابین انتہائی محبت تھی، لیکن امتیاز راشد کو میاں صاحب کو تنگ کرنے میں مزہ آتا تھا اور وہ اس کام کے لئے مجھے استعمال کرتے تھے۔ میاں صاحب ذرا ہکلاتے تھے۔ جب وہ کسی بات پر رکتے تو امتیاز راشد کہتے میاں صاحب چوتھا گیر لگاؤ اور میاں صاحب کے ہاتھ میں جو چیز ہوتی وہ امتیاز راشد کو مار دیتے۔ کبھی کبھار آواز دھم سے آتی تو اخبار کے مالک شیخ شفاعت اپنے کمرے سے آواز لگاتے: ”شاہ جی میاں صاحب نوں تنگ نہ کرو“۔

کوپر روڈ اور بیڈن روڈ کی نکڑ پر ایک شخص بونگ پائے لگا کر بیٹھتا تھا۔ہمارا خاندانی کاروبار چونکہ حلوائی کا تھا، اس لئے میرے گھر میں دیسی گھی فراواں تھا۔ مَیں گھر سے پراٹھے بنوا کر لے آتا تھا، کبھی کبھار ہم میاں فیاض کو پراٹھے اور بونگ کی دعوت دے کر اس دکان پر لے آتے اور میاں صاحب سے کہتے کہ آرڈر دیں۔ اس زمانے میں آٹھ آنے میں چھوٹا اور ایک روپے میں بڑا پیالہ مل جاتا تھا۔میاں صاحب بڑے پیالے کا آرڈر دیتے۔ کھانا کھا کر مَیں اور امتیاز راشد بھاگ جاتے۔ اب میاں صاحب دکاندار کے پاس پھنس جاتے اور وہیں چوک میں ہمیں عزت افزا خطابات سے نوازنا شروع کر دیتے۔ امتیاز راشد دور کھڑے ہو کر یہ مزہ لیتے۔ اچھے خاصے جوان لوگ سکول کے بچوں جیسی حرکتیں کرتے۔ وہ دکاندار بھی کمال کا آدمی تھا۔وہ میاں صاحب سے کہتا کہ آپ نے ان دونوں کو جن الفاظ سے نوازا ہے، اس سے میرے پیسے پورے ہو گئے ہیں۔

اگلے دن یہ پیسے ادا کر دیتے، لیکن آدھے، کیونکہ اس نے تو اپنی طرف سے ختم کر دیئے تھے۔ پھر مَیں بھی اخبار چھوڑ کر پیپلزپارٹی کے ترجمان اخبار میں ملازم ہوا، لیکن پریس کلب کی سرگرمیوں کے حوالے سے امتیاز راشد کے ساتھ تعلق اسی طرح قائم رہا۔ پریس کلب میں ایک دوسرے دوست اختر حیات تھے۔ انتہائی خوشگوار بذلہ سنج اور پڑھا لکھا آدمی۔ ان سے کبھی سنجیدہ بات تو ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اہم ترین موضوع پر بھی وہ مزاح کا سہارا لے کر بات کرتے تھے۔ امتیاز راشد کی اچانک موت نے آنکھوں کے سامنے دوستوں کی ایک تصویری فلم چلا دی اور سینئرزکی بھی، کس کس کو یاد کریں۔ اب تو شہر ہی اجنبی لگنے لگا ہے۔نہ عزیز مظہر ہیں، نہ چاچا رفیق میر، نہ ٹی اے خان، نہ عباس اطہر اور نہ ہی منو بھائی کہیں نظر آتے ہیں، انہیں یاد کرتے ہیں تو دل ایک ہولناک تنہائی کا شکار ہو جانا ہے۔ ہم گئے تو کون اس شہر میں تنہا محسوس کرے گا، اس کی بھی کوئی خبر نہیں۔

مزید : رائے /کالم