متوازن اور سستی غذاؤں کا حصول کیسے؟

متوازن اور سستی غذاؤں کا حصول کیسے؟
متوازن اور سستی غذاؤں کا حصول کیسے؟

  



اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت کی ایک حالیہ رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ 2050ء تک دُنیا کی آبادی 9.6بلین ہو جائے گی، جس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہمیں بڑی چھوٹی فصلوں کی پیداوار میں جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر تدابیر اختیار کر تے ہوئے کم از کم 40تا 50فیصد اضافہ یقینی بنانا ہو گا، جس کے لئے دنیا کے تمام ممالک کو خوراک و زراعت کے لئے مؤثر پالیسیاں اور ٹھوس اقدامات اپنا کر غذائی وسائل کو درپیش تیز تر موسمیاتی تبدیلیوں،گلوبل وارمنگ، ماحولیاتی آلودگی، زیر کاشت اراضی کی زرخیزی میں بتدریج کمی اور آبپاشی کے لئے پانی کے وسائل میں شدید کمی پر قابو پانے کے لئے ”زیرو ہنگر“ پروگرام اپنا کر غربت کی لکیر سے نیچے، زندگی بسر کرنے والے بھو ک زدہ و مفلوک الحال افراد کو غذائی کمی سے نجات دلانا ہو گی۔

ایف اے او کی متذکرہ رپورٹ کے مطابق دُنیا میں اس وقت 820ملین افراد غربت، فاقہ کشی اور متوازن غذا سے محروم ہیں، اس صورت حال پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ چند برسوں میں ناقص اور ناکافی غذا سے متاثرہ افراد کا تناسب ہر تیسرے فرد تک بڑھنے کا اندیشہ ہے، جبکہ اسی رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں جہاں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث فاقہ کش افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں دوسری جانب سے موجودہ دہائی کے دوران تیزی سے بدلتی ہوئی کھانے پینے کی عادات تمام ممالک کی شہری آبادی میں موٹا پا بڑھانے کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ ان عادات میں گھر کے روایتی کھانوں کی بجائے فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ، کولڈ ڈرنکس،ریستوران اور ٹھیلوں کے غیر معیاری، بازاری کھانوں کا بڑھتا ہوا رجحان اور کاہلی و آرام طلبی پر مبنی لائف سٹائل تیزی سے موٹاپے کا شکا ر بنا رہا ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دُنیا میں 670ملین بالغ افراد، 120ملین نوجوان لڑکے لڑکیاں اور40ملین سے زائد 5سال تک کے بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ناکافی غذا اور فاقہ کشی سے متاثرہ مفلوک الحال اور لاغر افراد کئی مہلک بیماریوں کی زد میں آ کر تیزی سے اموات کا شکار نہیں ہو رہے، بلکہ ناقص، غیر متوازن وغیر معیاری بازاری غذا اور فاسٹ فوڈ سے موٹا پا زدہ افراد میں سے ہر پانچواں فرد بھی امراض قلب، بلڈ پریشر، شوگر، ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسے موذی امراض میں مبتلا ہو رہا ہے، جس پر دُنیا بھر کی حکومتوں کو ہر سال 20کھرب ڈالر علاج معالجے پر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ایف اے او کے ماہرین نے ان گھمبیر مسائل پر قابو پا کر غربت، فاقہ کشی اور مفلوک الحالی کو کم کرنے کے لئے دُنیا کے زیادہ وسائل کے حامل ممالک کو کم وسیلہ ممالک کی فاضل غلہ سے بھر پور مدد کرنے، انہیں خوراک و زراعت کے وسائل کی سلامتی کو درپیش مسائل پر قابو پانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی بہم پہنچانے، تیز تر موسمیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ و ماحولیاتی آلودگی سے نبرد آزما ہونے کے لئے دُنیا بھر کے ممالک کو یکجا ہو کر مؤثر حکمت ِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

پاکستان کا شمار بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ و ماحولیاتی آلودگی اور پانی کی کمی سے دو چار شدید متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے، جبکہ غربت کی لکیر سے نیچے کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے 48فیصد افراد کی غذائی ضروریات کو ایف اے او کی متذکرہ تحریک پر صحت مند اور متوازن غذا فراہم کرنے پر بھی پاکستان کو خصوصی توجہ دینے پر زور دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے اورفاقہ زدہ کثیر آبادی کو پوری مقدار میں متوازن اور سستی غذا فراہم کرنے کے لئے بھی پاکستان کو خوراک و زراعت کی مؤثر و مربوط پالیسی اختیار کرنے اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، اس ضمن میں کسانوں کو زرعی مداخل کی سستے داموں فراہمی، چھوٹے کسانوں کو چین کے 3ایکڑ ماڈل منصوبے پر اجتماعی کھیتی باڑی، بلاسُود قرضے اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے قابل بنانا ہو گا۔

فصلوں کو کیڑوں و بیماریوں سے بچاؤ کے لئے مربوط حکمت عملی اور موسمیاتی اثرات سے بچاؤ کی تدابیر سے ذرائع ابلاغ اور موبائل فون سروسز کے ذریعے بروقت آگاہ کرنا ہو گا۔ ”زیرو ہنگر“ پروگرام کے تحت زرعی اجناس، لائیو سٹاک، فشریز اور پولٹری کی پیداوار و معیار کو بڑھانا ہو گا۔ فصلوں کی کٹائی اور بعد از برداشت 40تا45فیصد زرعی اجناس اور 30تا 35 فیصد دودھ کے ضیاع پر قابو پانا ہو گا۔ عوام الناس کو متوازن، صحت مند اور سستی غذا استعمال کرنے کے بارے میں آگاہ کرنے اور مضر و ناقص غذائی عادات کو ترک کرنے کی آگاہی میڈیا کے ذریعے تواتر سے مشتہر کے علاوہ ناقص و ملاوٹ زدہ خوراک پر قابو پانے کے لئے سخت ترین اقدامات کرنا ہوں گے۔

گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مہلک اثرات سے بچاؤ کے لئے جنگی بنیادوں پر شجر کاری کرنے موسمیاتی تبدیلیوں اور زیادہ درجہ حرارت کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والے بیجوں کی دریافت اور مضر اثرات سے فصلوں کو بچانے کی تحقیق کو تیز کرنے پر پوری توجہ دینا ہو گی۔سمندر بُرد ہونے والے اور بارشوں کے کثیر میٹھے پانی کو آبپاشی کے لئے محفوظ بنانے کے لئے بڑے چھوٹے ڈیمز اور جھیلوں و کنوؤں کی تعمیر ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہو گی۔ پانی کے با کفایت استعمال کے بارے میں عوامی شعور بیدار کر نا ہو گا۔ ماحولیاتی اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے آر گینک فارمنگ کا رجحان بڑھانا ہو گا۔ سیم وتھور زدہ رقبوں کی بحالی اور بے آباد اراضی کو قابلِ کاشت بنانے کے اقدامات پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ نادار اور مفلس افراد کو خوراک بہم پہنچانے کے لئے فری دسترخوان اور لنگر خانے قائم کرنا ایک اچھی کوشش ہے، مگر بہتر ہو گا ایسے بے وسیلہ افراد کو باوقار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں تو بلاشبہ ہم ایک ممتاز اور باوقار فلاحی ریاست بن سکیں گے۔

مزید : رائے /کالم