جب پارٹی ختم ہو گی تب؟

جب پارٹی ختم ہو گی تب؟
جب پارٹی ختم ہو گی تب؟

  



بداعتمادی اتنی زیادہ ہے کہ ہر کوئی قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا ہے،جب ہدف کے بارے میں ابہام ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔نواز شریف کا خط بھی مولانا فضل الرحمن کو مل گیا ہے، مگر بات ابھی تک وہیں رُکی ہوئی ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے اس آزادی مارچ میں کس حد تک جانا ہے اور دھرنے سے کس طرح بچنا ہے۔ ہر فریق دوسرے بارے میں یہ خوف لئے ہوئے ہے کہ اندر خانے کوئی ڈیل ہی نہ کر لے۔جب سے مولانا فضل الرحمن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں ملاقات کے لئے بلایا تو ضرور ملیں گے،تب سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے کان کھڑے ہو گئے ہیں۔اگر مولانا بغیر کسی ایجنڈے کے جنرل صاحب سے ملنے چلے جاتے ہیں اور وہاں کوئی بات مان کے آ جاتے ہیں تو ان کا کیا بنے گا،جو ساری امید ہی مولانا فضل الرحمن سے لگائے بیٹھے ہیں،

پھر جو باتیں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو خوفزدہ کئے ہوئے ہیں،وہ مولانا فضل الرحمن کی اپنے پروگرام کے حوالے سے پُراسراریت ہے۔ ابھی تک انہوں نے اپنے آزادی مارچ کا صرف شیڈول بتایا ہے۔ یہ اسلام آباد پہنچتے پہنچتے کیا شکل اختیار کرے گا اور وہاں دھرنا دینے کی حکمت ِ عملی کیا ہو گی، مطالبات کیا ہوں گے۔کسی بحران کی صورت میں کیسے بچا جائے گا اور کس حد تک اس احتجاج کو لے جانا مقصود ہے،اس بارے میں مولانا نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔البتہ جو چیز وہ نمایاں کر رہے ہیں،وہ خوفزدہ کرنے والی ہیں، مثلاً حال ہی میں انہوں نے باوردی دستوں سے گارڈ آف آنر لیا ہے،جس میں ڈنڈا بردار فورس کے کارکن بھی شامل تھے،ایسے جتھوں کی موجودگی میں کیا یہ آزادی مارچ پُرامن رہ سکے گا،کیا کبھی پہلے کسی سیاسی تحریک میں ایسے دستوں کی شمولیت دیکھی گئی۔مولانا فضل الرحمن تو کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں،لیکن اصل سوال پیپلز پارٹی او ر مسلم لیگ (ن) کا ہے۔وہ ایسے احتجاج کا کیسے حصہ بن سکتے ہیں،جس میں ریاستی قوتوں سے ٹکرانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہو۔

حیرت اس بات پر ہے کہ ابھی تک ان دونوں جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن سے استفسار نہیں کیا کہ وہ اپنی یہ ملیشیا کیوں تیار کر رہے ہیں،اس طرح تو پیپلزپارٹی کو بھی سندھی دستوں پر مشتمل ایک فورس تیار کر لینی چاہئے اور مسلم لیگ(ن) بھی لاہور سے اپنے متوالوں کی ایک ڈنڈا بردار ”فوج“ میدان میں اتار سکتی ہے۔سیاسی تحریکوں میں ریاستی طاقتوں کا مقابلہ سیاسی جرأت سے کیا جاتا ہے۔ان میں جب کارکنوں کے سر پھٹتے ہیں، لاشے گرتے ہیں توکامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔

ریاست کا مقابلہ کرنے سے تو اُلٹا دہشت گردی اور مزاحمت کے الزامات لگ جاتے ہیں اور تحریکیں دم توڑ جاتی ہیں،کیا مولانا فضل الرحمن کو معلوم نہیں کہ اُن کے والد نے بھٹو کے خلاف جو تحریک چلائی، اُس میں ایک بھی اسلحہ بردار تو کیا ڈنڈا بردار بھی نہیں ہوتا تھا،اُس کے بعد جتنی بھی تحریکیں معرضِ وجود میں آئیں وہ عوامی طاقت سے مقابلہ کرتی رہیں،ایسے شعبدے کبھی نہیں دکھائے گئے، جیسے آج جمعیت علمائے اسلام(ف) کے پلیٹ فارم سے دکھائے جا رہے ہیں،اپنے ان دستوں سے سلامی لینے کی وڈیو مولانا کی تضحیک کا باعث بنی ہوئی ہے اور لوگ سوشل میڈیا پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ اُن کے خیال میں مولانا فضل الرحمن نے اس عمل کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ انہیں پروٹوکول اور گارڈ آف آنر کا کتنا شوق ہے۔

ماضی میں حکومتوں کے خلاف جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں،اُن میں ایک خاص بات یہ ہوتی تھی کہ اتحاد میں شامل تمام جماعتیں تحریک کی غرض و غائت اور آغاز و اختتام کی سکیم سے باخبر اور متفق ہوتی تھیں۔اس کے لئے مشترکہ اجلاس ہوتے اور مشترکہ حکمت ِ عملی تیار کی جاتی۔اس بار تو انوکھی تحریک کی کھچڑی پک رہی ہے۔سب کچھ مولانا فضل الرحمن بنے ہوئے ہیں کوئی ان سے ملاقات کے لئے جا رہا ہے اور کسی کی ذمہ داری یہ لگائی گئی ہے کہ وہ نواز شریف کا خط پہنچائے اور اپنی دھرنے میں شامل نہ ہونے کی مجبوریاں بتائے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کا کوئی مشترکہ اجلاس نہیں ہو پا رہا۔بلاول بھٹو زرداری علیحدہ اپنی دُنیا آباد کئے ہوئے ہیں اور شہباز شریف اپنا منصوبہ لا رہے ہیں۔

اسفندر یار ولی نے مولانا سے ایک عہد و پیمان تو باندھا ہے،مگر کھل کر وہ بھی اپنا منصوبہ سامنے نہیں لائے،غور کیا جائے تو اپوزیشن کی یہ چاروں جماعتیں کوئی ذمہ داری لینے سے بچ رہی ہیں،حتیٰ کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) بھی کچھ چھپا کے رکھنا چاہتی ہے تاکہ بوقت ِ ضرورت بساط لپیٹنی پڑے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے،جبکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) تو چاہتی ہی یہ ہیں کہ صورتِ حال گو مگوں کا شکار رہے کہ پیچھے ہٹا پڑے تو جگ ہنسائی نہ ہو۔یوں لگتا ہے، حکومت سمیت سب اپنے اپنے محاذ پر نفسیاتی گیم کھیل رہے ہیں اور اسی انتظار میں ہیں کہ جسے نیند آئے اُسے دبوچ لیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن ایک زیرک سیاست دان اور پرانے کھلاڑی ہیں، وہ جانتے ہیں کہ شطرنج پر چال کیسے چلنی ہے۔ انہوں نے ترپ کا پتہ پھینک دیا ہے اب ہلچل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں،وہ موجودہ صورتِ حال میں ہر فریق کی مجبوری کو سمجھتے ہیں اُس کے مطابق چوٹ لگا رہے ہیں۔

انہیں علم ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی اِس وقت مشکل میں ہیں اُن کے پاس سٹریٹ پاور بھی نہیں،دوسری طرف وہ حکومت کو بھی ایک لحاظ سے مجبور سمجھتے ہیں،کیونکہ وہ اپنے سوا سال کے عرصے میں عوام کو کچھ نہیں دے سکی،اُلٹا مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ مولانا کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں اُن کی چند نشستیں ہیں، جنہیں وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے۔سو اب تک انہوں نے بہت اچھی پیش رفت کی ہے،آج وہ پاکستانی سیاست کا گھنٹہ گھر بنے ہوئے ہی،جہاں ہر کوئی آنا چاہتا ہے۔

حتیٰ کہ خود حکومت بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ مولانا اگر معاشی یا مذہبی حوالے سے کسی ایجنڈے پر مذاکرات کرنا چاہیں تو ہم تیار ہیں۔ کہاں عمران خان انہیں ڈیزل کہہ کر دِل کی بھڑاس نکالتے تھے اور کہاں انہیں مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں، سو اسی سارے منظر نامے میں اگر کوئی فائدے میں نظر آیا ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہیں، مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس کھیل کا جب اختتام ہو گا تو اُن کی پوزیشن کیا ہو گی،کیا وہ جیتنے والوں میں ہوں گے یا شکست کا دائمی داغ لے کر پاکستانی سیاست کا معتوب کردار بن جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم