اور اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے

اور اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے
اور اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے

  



سیف اللہ خالد چونکہ ڈائریکٹر تعلقات عامہ، حکومتِ پنجاب رہے ہیں اس لئے ان احباب میں سے ہیں جن کا واٹس اپ گروپ بہت وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی طرف سے روزانہ 8،10آڈیو /ویڈیو کلپس موصول ہوتی رہتی ہیں اور چونکہ اردو اور انگریزی ادب کے رسیا بھی ہیں اس لئے ان کلپس میں سے نصف کا تعلق شعر و سخن اور علم و ادب سے ہوتا ہے۔ اگلے روز خالد کی طرف سے ساڑھے تین منٹ سے زیادہ دورانیئے کا ایک ایسا وڈیو کلپ موصول ہوا جس کا سیاق و سباق اور ”حاضر سروس مواد“ قارئین سے شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

جس طرح پاکستان میں تقریباً ہر سال فیض میلہ، لاہور لٹریری فیسٹیول اور جشنِ ریختہ منایا جاتا ہے اسی طرح یہ تقریبات انڈیا میں بھی منائی جاتی ہیں۔ وہاں اگرچہ ہندی سرکاری زبان ہے لیکن یہ ہندوستانی ہندی 80فیصد پاکستانی اردو ہے۔ مودی کی بی جے پی سرکار مانے یا نہ مانے اردو آج بھی اس کے دیش کی لنگوا فرانکا ہے۔ وہاں مغربی بنگال سے مشرقی پنجاب/ ہریانہ تک اور اروناچل پردیش سے کیرالہ تک چاروں اطراف میں یہ پاکستانی اردو اگر بولی نہیں جاتی تو سمجھی ضرور جاتی ہے۔ اور مدھیا پردیش میں تو اردوئے معّلیٰ کا آج بھی دور دورہ ہے۔ جشنِ ریختہ جیسی تقریبات میں پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے اور سامعین میں انڈیا کی معمر، جوان اور نوجوان نسلیں یکساں ذوق و شوق سے حصہ لیتی اور محظوظ ہوتی ہیں۔ انڈیا میں جاوید اختر کو کون نہیں جانتا۔ ان کی پہچان ان کی اہلیہ شبانہ اعظمی اور سسر کیفی اعظمی مرحوم نہیں بلکہ ان کی اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ وہ اردو زبان کے مشہور شاعر اور ادیب جاں نثار اختر کے فرزندِ ارجمند ہیں، بالی وڈ کی ایک قد آور شخصیت ہیں اور شعر و سخن میں ان کا ایک اپنا منفرد مقام ہے۔

اردو اور انگریزی ادب پر ان کی یکساں گرفت حیران کن ہے۔…… میں برسوں پہلے زی ٹی وی پر ان کے ٹاک شوز بڑے شوق سے سنتا تھا اور انگریزی گفتگو میں ان کی برجستگی اور مختلف موضوعات پر ان کے گہرے مطالعے اور اس سے بھی زیادہ گہرے مشاہدے کی داد دیا کرتا تھا۔ یہ ان برسوں کی بات ہے جب میں راولپنڈی (GHQ)میں تھا اور بھارتی ٹی وی نشریات پر پابندیاں نہیں تھیں۔ لیکن آج واٹس اپ اور سوشل میڈیا کے توسط نے ان پابندیوں کو جزوی طور پر ہی سہی، ختم کر دیا ہے……

میں جاوید اختر کے آڈیو وڈیو کلپ کی بات کر رہا تھا یہ ان کی ایک تازہ ترین آزاد نظم پر مشتمل کلپ ہے جو دلی کے ”جشنِ ریختہ“ کی ایک تقریب میں پڑھی گئی ہے۔ نظم کا عنوان ہے: …… نیا حکم نامہ…… نیو آرڈیننس……

یہ آزاد نظم انڈیا کے اس ”حکم“ کے پس منظر بھی کہی گئی ہے جس میں مودی حکومت نے 5اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ پاکستانی قارئین کو یہ بتایا جائے کہ یہ ہندوستانی اقدام، انڈیا میں بھی نفرت، کراہت اور حقارت کے پسِ منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کے ایک انتہا پسند مخصوص ٹولے کے علاوہ انڈیا کا پڑھا لکھا طبقہ اس اقدام کا سخت مخالف ہے۔ جہاں انڈیا کے معروف صحافی، کالم نگار اور نقاد مودی حکومت کے اس اقدام کو بہ نگاہِ تحقیر دیکھ رہے ہیں وہاں ہندوستان کے شاعر اور ادیب بھی اس کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔ جشنِ ریختہ میں پڑھی گئی یہ نظم اس اعتبار سے ہندوستان بھر کی سیکولر جنتا کے دل کی آواز ہے۔

برسبیلِ تذکرہ اس حقیقت کو دہرانے میں کوئی ہرج نہیں کہ شاعر ہو کہ نثر نگار وہ اپنے دور کی آواز ہوتا ہے۔ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی ایک پرانی بحث ہے لیکن وہ ادب جو زندگی آمیز اور زندگی آموز ہو، وہی زندہ رہتا ہے۔ وہ چونکہ عوام کے سینوں سے پھوٹتا ہے اس لئے سینوں پر اثر انداز ہوتا ہے(فارسی میں مثل مشہور ہے کہ از دل خیزد و بردل ریزد) اسی لئے اقبال نے کہا تھا: دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے…… حضرت اقبال کا ذکر آیا تو تین اشعار پر مشتمل ان کی یہ نظم بھی ایک حقیقتِ ثابتہ ہے:

قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں، اعضائے قوم

منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم

محفلِ نظمِ حکومت،چہرہئ زیبائے قوم

شاعرِ رنگیں نوا ہے،دیدہئ بینائے قوم

مبتلائے درد کوئی عضو ہو، روتی ہے آنکھ

کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

ادیب اور شاعر ہمیشہ دیدہئ بینائے قوم ہوتا ہے۔کسی بھی عالمی ادب کو کھنگال کر دیکھیں اس کی نگارشات میں آپ کو اس عہد کی عکاسی ضرور نظر آئے گی۔مثالیں دوں گا تو یہ کالم، مقالہ بن جائے گا۔ صرف اردو ادب ہی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو عہد بہ عہد شعراء اور ادباء کی کاوشیں ایک وسیع و عریض عصری تصاویر نظر آئیں گی۔

حبیب جالب پاکستان کا ایک باغی شاعر تھا۔اس نے جس طرح کھل کر اور واشگاف لفظوں میں اپنے عصری ماحول کی نقشہ کشی کی اس طرح شائد جاویداختر کی اس نظم میں آپ کو نہ مل سکے لیکن بعض حقائق اگر الفاظ کے پردوں میں چھپا کر بھی بیان کئے جائیں تو زیادہ شفاف ہو کرسامنے آ جاتے ہیں۔سکول(اور کالج) کے زمانے میں ہم نوائے وقت باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے۔اس میں ”الحاج خواجہ ناظم الدین“ پڑھ کر ہم یہ سمجھا کرتے تھے کہ الحاج اور خواجہ بھی گورنر جنرل کے نام کا حصہ ہیں۔یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ الحاج، اس لئے کہلاتے تھے کہ حج کیا ہوا تھا اور خواجہ اس لئے تھے کہ یہ ان کا موروثی اور خاندانی لقب تھا۔اسی طرح ایک اور لفظ جو ان ایام میں ہمارے لئے نیا تھا وہ ”عزت مآب“ تھا۔اخبار میں لکھا ہوتا تھا کہ عزت مآب حسین شہید سہروردی نے ”یہ“ فرمایا ہے اور عزت مآب سکندر مرزا نے ”وہ“ فرمایا ہے۔

یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ عزت مآب دراصل انگریزی لفظ Honorable کا اردو ترجمہ ہے۔ ہمارے اردو اخباروں نے اسی پر بس نہ کی بلکہ عزت مآب کی جگہ ”عصمت مآب“ لکھنا شروع کر دیا جو ہم طلباء کے لئے اور بھی مشکل تھا۔ اساتذہ سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ”عزت اور عصمت“ ہم معنی الفاظ ہیں اِس لئے اخبار والے پاکستان کے سارےVIPs کو عزت افزائی کے لئے عزت مآب اور عصمت مآب وغیرہ جیسے القاب دے دیتے ہیں ……پھر انہی ایام میں پاکپتن میں ایک مشاہرہ ہوا۔ عبداللہ شاہ گراؤنڈ کا وسیع میدان سرِشام ہی سامعین سے بھر گیا۔سٹیج سج گئی اور شعرا نے اپنا اپنا کلام سنانا شروع کر دیا۔جب حبیب جالب کی باری آئی تو انہوں نے غزل سے پہلے جو قطعہ پڑھا، وہ یہ تھا:

راہ نمائی کے سبز پردے میں

راہزن بے نقاب ہے پیارے

لوٹ کر عزتیں غریبوں کی

کون عصمت مآب ہے پیارے؟

حبیب جالب کا آخری مصرعہ اتنا اثر انگیز تھا کہ پورا مجمع15منٹ تک مچھلی مارکیٹ بنا رہا۔ان ایام میں کسی جاگیردار وزیر نے اپنے کسی مزارع کی بیٹی اغوا کر لی تھی اور یہ اجتماعی شورو غل اسی واقعے کا ردِعمل تھا۔……اس کے بعد اخباروں نے ”عزت مآب“ وغیرہ لکھنا چھوڑ دیا تھا۔

اس طرح کے درجنوں واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے اور قارئین کو شائد خود بھی بیسیوں حوالے یاد آ رہے ہوں گے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ”شاعرِ رنگیں نوا“ واقعی ”دیدہئ بینائے قوم“ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل سیاسی جلسوں،جلوسوں اور ریلیوں نے اتنا ادھم مچایا ہوا ہے کہ مشاعروں کا کلچرکہیں نظر نہیں آتا۔پہلے مختلف ٹی وی چینل مہینے دومہینے بعد ایک مشاعرہ ضرور آن ائر کیا کرتے تھے جو عوامی جذبات کے پریشر ککر کی وہ گرم ہوا نکال دیا کرتا تھا جو آج معاشرے کے ماتھے کے سیاہ کلنکوں کا باعث بن رہی ہے!

آج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے کا ذکر تو صبح و شام ہو رہا ہے۔ٹاک شوز ہیں کہ دما دم مست قلندر کا راگ الاپ رہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسے میں اگر کوئی مشاعرہ بھی منعقد کر دیا جائے تو شائد عوامی پریشر ککر کی ’فاضل‘ بھاپ نکل جائے۔…… حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔……

دیکھئے نا کہ 5اگست2019ء سے لے کر آج تک ہمارا میڈیا مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے حالِ زار پر جو تبصرے اور تجزیئے آن ائر کر رہا ہے وہ سامعین و ناظرین کے لئے ایک معمول بن چکے ہیں۔لیکن جاوید اختر کی یہ مختصر نظم جو اسی حادثے کے پس منظر میں کہی گئی ہے اس کا اثر برصغیر گیر نہیں بلکہ عالمگیر ہے۔کلامِ شاعر، بزبانِ شاعر نے اس نظم کو مزید ’آٹھ چاند‘ لگا دیئے ہیں۔…… سنیئے اور سر دھنیئے!

…………………………

کسی کا حکم ہے

ساری ہوائیں

ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں

کہ ان کی سمت کیا ہے؟

اور کدھر وہ جا رہی ہیں؟

ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہو گا

چلیں گی جب تو کیا رفتار ہو گی؟

کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے

ہماری ریت کی یہ سب فصلیں

یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں

حفاظت ان کی کرنا ہے ضروری

یہ آندھی ہے پرانی ان کی دشمن

یہ سب ہی جانتے ہیں

کسی کا حکم ہے،

دریا کی لہریں

ذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی

اور اپنی حد میں ٹھہریں

ابھرنا، پھر بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرنا

غلط ہے ان کا یہ ہنگامہ کرنا

یہ سب ہیں صرف وحشت کی علامت

بغاوت کی علامت

بغاوت تو نہیں برداشت ہو گی!

یہ وحشت تو نہیں برداشت ہو گی!

اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا

تو ان کو ہو گا اب چپ چاپ بہنا

کسی کا حکم ہے

ً

اس گلستاں میں

بس اب اک رنگ ہی کے پھول ہوں گے

کچھ افسر ہوں گے جو یہ طے کریں گے

گلستاں کس طرح بننا ہے کل کا

یقیناً پھول یک رنگی تو ہوں گے

مگر یہ رنگ ہو گا کتنا گہرا، کتنا ہلکا

یہ افسر طے کریں گے

کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے

گلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگی نہیں ہوتے

کبھی ہو ہی نہیں سکتے

کہ ہر اک رنگ میں چھپ کر

بہت سے رنگ رہتے ہیں

جنہوں نے باغ، یک رنگی بنانا چاہے تھے

ان کو ذرا اب جا کے دیکھو

کہ جب اک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں تو

وہ اب کتنے پریشاں ہیں

وہ کتنے تنگ رہتے ہیں

کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے

ہوائیں اور لہریں

کب کسی کا حکم سنتی ہیں

ہوائیں حاکموں کی مُٹھیوں میں، ہتھکڑی میں، قید خانوں میں نہیں رکتیں

یہ لہریں روکی جاتی ہیں تو دریا کتنا بھی ہو پُرسکوں

بے تاب ہوتا ہے

ار اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے!

مزید : رائے /کالم