"کرد جنرل مظلوم آپ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں" امریکی صدر کے اس پیغام پر ترک صدر نے کیا جواب دیا؟ خبرآگئی

"کرد جنرل مظلوم آپ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں" امریکی صدر کے اس پیغام پر ترک ...

  



واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک ہم منصب طیب اردگان کو پیغام بھجوایا ہے کہ کرد جنرل مظلوم آپ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے ترک ہم منصب کے ساتھ ایک خط کے ذریعے رابطہ کیا ہے جس میں طیب اردگان کو مذاکرات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔خط کے متن میں درج ہے کہ ‘میں نےآپ کے کئی مسائل حل کیے، آپ ایک عمدہ سمجھوتہ کرسکتے ہیں اور دنیا کو نیچا نہ دکھائیں’۔امریکی صدر نے لکھا کہ جنرل مظلوم آپ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ہزاروں افراد کو قتل کرنے کا ذمے دار نہیں بننا چاہتے اور نہ میں ترک معیشت تباہ کرنے کا ذمے دار بننا چاہتا ہوں۔طیب اردگان کو بھیجے گئے خط کے متن میں درج ہے کہ اگر آپ نے انسانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا تو تاریخ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھے گی بصورت دیگر آپ کو اچھے لوگوں میں شمار نہیں کیا جائے گا۔خط کے اختتام پر امریکی صدر نے ترک ہم منصب کو فون کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔امریکی صدر کا خط ذرائع ابلاغ میں آنے سے چند گھنٹے قبل طیب اردگان نے بیان دیا تھا کہ ترکی کردوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے اور اس وقت تک مذاکرات ممکن نہیں جب تک کرد فورسز ترک سرحد کا قریبی علاقہ خالی نہیں کرتے دیتے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ شام پر امریکی نائب صدر اور وزیرخارجہ سے ملاقات نہیں کریں گے اور نہ ہی امریکی وفد سے بات ہوگی۔ترک صدر نے کہا تھا کہ امریکی وفد میں شامل افراد ترک ہم منصبوں سے بات کریں گے۔ طیب اردگان نے بیان دیا کہ صدر ٹرمپ ترکی آئیں گے تو بات ہو سکتی ہے اور امریکی صدر سے براہ راست ڈیل ہوگی۔

مزید : بین الاقوامی