دورہ پاکستان کے دوران ہوٹل میں مقید رہنے کا بیان، سری لنکن صحافی نے اپنے بورڈ کے صدر کے جھوٹ کا پول کھول دیا، جان کر آپ بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکیں

دورہ پاکستان کے دوران ہوٹل میں مقید رہنے کا بیان، سری لنکن صحافی نے اپنے بورڈ ...
دورہ پاکستان کے دوران ہوٹل میں مقید رہنے کا بیان، سری لنکن صحافی نے اپنے بورڈ کے صدر کے جھوٹ کا پول کھول دیا، جان کر آپ بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکیں

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سفر جاری ہے اور 2009ءمیں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کی وجہ سے ویران ہونے والے میدان آباد ہوتے جارہے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میچز، ورلڈ الیون، ویسٹ انڈین مینز اور ویمنز ٹیموں کی میزبانی کے بعد قبل ازیں ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کیلئے آنے والے آئی لینڈرز اس بار 6محدود اوورز کے میچز کھیلنے کیلئے آئے، یہ گزشتہ 10سال میں کسی بھی غیر ملکی ٹیم کا طویل ترین دورہ تھا، مہمانوں نے انتظامات کو خوب سراہا لیکن وطن واپس پہنچتے ہی سری لنکن حکام نے پاکستان میں سخت سیکیورٹی کو ہی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

بورڈ کے صدر شمی سلوا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہوٹلز میں بند رہ کر کھلاڑیوں کیلئے ٹیسٹ سیریز کھیلنا ممکن نہیں اور اس بیان کے باعث دسمبر میں شیڈول ٹیسٹ سیریز کے میچز پر سوالیہ نشان عائد ہو گیا لیکن البتہ اب سری لنکا سے ہی پاکستان کے حق میں آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

ایک اخبار ”آئی لینڈ“ میں شائع شدہ کالم میں سینئر صحافی ”ریکس کلیمنٹائن“ نے لکھاکہ لاہور اور کراچی میں بڑی تعداد میں شائقین میچز دیکھنے کیلئے آئے اور کرکٹ سے بے پناہ محبت کرنے والے لوگوں نے کھیل کا بھرپور لطف اٹھایا البتہ اب سری لنکن بورڈ حکام کی سیکیورٹی کے حوالے سے باتوں نے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہوم ٹیسٹ سیریز کا یواے ای میں انعقاد کرانا ناانصافی ہو گی، سری لنکا نے خود ہی فوج کے زیر نگرانی سیکیورٹی کیلئے درخواست کی تھی جس کا اپنا طریقہ کار اور پروٹوکول ہوتا ہے۔ آئی لینڈرز کو شاپنگ مال اور گالف کلب جانے کی پیشکش بھی ہوئی تھی لیکن ٹیم مینجمنٹ نے خود ہی ہوٹل میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

اسی وجہ سے وزیراعلیٰ کی جانب سے دیا جانے والا سرکاری ڈنر بھی منسوخ کرنا پڑا، اگر سری لنکن بورڈ کو ٹیسٹ سیریز پاکستان میں کھیلنے کے حوالے سے کوئی تحفظات تھے تو میڈیا میں ان کا اظہار کرنے کے بجائے براہ راست پی سی بی سے بات کرتے،یواے ای میں سیریز ہوئی تو پاکستان کو ڈھائی لاکھ ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑیں گے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ 1996ءمیں سینٹرل بینک حملے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی ٹیم کو سری لنکا بھجوایا تھا اور اب پاکستان کی جانب سے ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کے دوران بہترین سیکیورٹی فراہم کئے جانے کے بعد اب ہمارے لئے بھی ٹیسٹ سیریز سے انکارممکن نہیں ہے۔

مزید : کھیل