پولیس اہلکاروں کو ہتھیار دینے کی بجائے ڈنڈے دینے چاہئیں،سپریم کورٹ کے امل عمر قتل کیس میں ریمارکس

پولیس اہلکاروں کو ہتھیار دینے کی بجائے ڈنڈے دینے چاہئیں،سپریم کورٹ کے امل ...
پولیس اہلکاروں کو ہتھیار دینے کی بجائے ڈنڈے دینے چاہئیں،سپریم کورٹ کے امل عمر قتل کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امل عمر قتل کیس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کوبڑی بڑی بندوقیں دے رکھی ہیں جو ان کو چلانی بھی نہیں آتیں،پولیس اہلکاروں کو ہتھیار دینے کی بجائے ماضی کی طرح ڈنڈے دینے چاہئیں، پاکستان اور بھارت کے علاوہ دنیا میں کانسٹیبل کا تصور ختم ہو چکاہے، کراچی کے کالا پل کے نیچے منشیات استعمال کرنے والے سوئے رہتے ہیں،ان کو منشیات کون فراہم کرتا ہے ؟ سب پولیس کی ناک کے نیچے ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں امل عمر قتل کیس کی سماعت ہوئی،سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل کی عدم پیشی پراظہار برہمی کیا،جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ہم نے آئی جی اورایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بلایا تھا وہ کہاں ہیں؟ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل طبیعت خرابی کے باعث پیش نہ ہوسکے،شبیرشاہ نے کہا کہ آئی جی سندھ کی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات تھی اس لیے نہیں آسکے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے امل عمر کے نام پر ایک ایکٹ منظور کیا ہے، جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ آپ نے قانون بنا دیا لیکن ہسپتالوں کی کیا حالت ہے،آپ کو معلوم ہے؟کراچی میں سڑکیں خراب ہیں، حکام کوئی کام نہیں کرتے۔

عدالت نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کوبڑی بڑی بندوقیں دے رکھی ہیں جو ان کو چلانی بھی نہیں آتیں،جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو ہتھیار دینے کی بجائے ماضی کی طرح ڈنڈے دینے چاہئیں،پاکستان اور بھارت کے علاوہ دنیا میں کانسٹیبل کا تصور ختم ہو چکاہے، کراچی کے کالا پل کے نیچے منشیات استعمال کرنے والے سوئے رہتے ہیں،ان کو منشیات کون فراہم کرتا ہے ؟ سب پولیس کی ناک کے نیچے ہوتا ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کراچی میں 80 فیصد جرائم یہ لوگ کرتے ہیں،سرکاری اسلحہ پولیس افسرکے پاس ہونا چاہیے، حکومت سوشل ذمہ داری کیوں نہیں پوری کررہی ہے؟ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ نے کہا ہے کہ پولیس کانسٹیبلزسے ہتھیارلے لیے ہیں، اے ایس آئی کی رکروٹمنٹ بڑھانے کی تجویز دی ہے ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد