مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر شاہد آفریدی بھی چپ نہ رہ سکے، دل کی بات کہہ دی

مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر شاہد آفریدی بھی چپ نہ رہ سکے، دل کی بات کہہ دی
مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر شاہد آفریدی بھی چپ نہ رہ سکے، دل کی بات کہہ دی

  



گوجرانوالہ(ویب ڈیسک)قومی ٹیم کے سابق شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ مولانا صاحب دھرنا وقت سے پہلے در رہے ہیں، حکومت کو تھوڑا وقت دینا چاہیے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کی حالت 70 سال سے ایسی ہی ہے، کبھی تسلسل نہیں رہا، نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے پھر غائب ہوجاتا ہے، بہتری لانے کیلئے سخت فیصلے کرنے ہوں گے اس حوالے سے مصباح الحق کے پاس تین عہدے ہیں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ سری لنکنز نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی، ہم اسٹارز کے ساتھ کھیلنے گئے پھر بھی شکست ہوئی جو فکر کی بات ہے، عبدالرزاق کے بعد ہارڈ ہٹر کوئی نہیں آیا، اسی لئے کہا تھا ہمارے پاس ٹیلنٹ نہیں لیکن میری بات کو غلط لیا گیا جب کہ کرکٹ اکیڈمی بنانا چاہتا تھا لیکن سندھ حکومت کی طرف سے مثبت تعاون نہیں ملا۔ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی نے کہا کہ سیاست میں آنے کے سوال پر نہ کردوں تو بعد میں آگیا تو کیا کروں گا، سیاستدان کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے، کبھی دل کرتا ہے سیاست میں آنا چاہیے جب ماحول دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں ابھی نہیں جب کہ حکومت کو کچھ وقت دینا چاہیے، مولانا صاحب دھرنا بہت جلدی اور وقت سے پہلے کررہے ہیں، اپوزیشن کو عمران خان کو سپورٹ کرنا پڑے گا، عمران بھائی یا ان کی جگہ کوئی بھی وزیراعظم ہو ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔یادرہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کے نام سے احتجاج کرنے کا اعلان کررکھا ہے جس کے لیے انہوں نے اپنے دستے بھی تیار کررکھے ہیں جنہوں نے روکے جانے کی صورت میں دریا کے ذریعے رکاوٹیں عبور کرنے کی کشتیوں پر ریہرسل بھی کی اور مسلح دستے ن ے مولانا فضل الرحمان کو سلامی بھی دی جب وہ وہاں پر موجود سلامی کے چبوترے پر پہنچے۔ اب حکومت نے بھی اس بات کاعندیہ دیدیا ہےکہ وہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور پہلی مرتبہ حکومت کے مذاکرات کے لیے اس یوٹرن کو مثبت اقدام قرار دیا جارہاہے ۔ 

مزید : کھیل